0

بورڈ آف پیس اور پاکستان کی شمولیت/تحریر/نواز کمال

بورڈ آف پیس اور پاکستان کی شمولیت
تحریر
نواز کمال

اس معاملے کو تمام جہات سے سمجھنے کی ضرورت ہے، کسی ایک زاویے سے دیکھیں گے تو الجھن کا شکار رہیں گے.

اقوامِ متحدہ نامی شے وفات پا چکی. انا للہ پڑھیں یا الحمد للہ کہیں. عالمِ اسلام کے ایک فرد کی حیثیت سے دیکھوں تو الحمد للہ کی ہزاریہ تسبیح بنتی ہے. ایک بلا کے کاندھے پہ رکھ کر بہت بار بندوق چلائی گئی اور تقریباً ہر بار نشانہ مسلم سینہ بنا. بلا اب جاں بہ لب ہے. سو عالمِ اسلام خوش ہے اور خوش ہونا بھی چاہیے.

روس اور چین نہ خوش نہ پریشان. عالمی چودھری ہیں. سو اقوامِ متحدہ سے بھی من خواہے فوائد سمیٹتے تھے اور یہ بھی جان اور سمجھ کر بھی مطمئن ہیں کہ کوئی بھی نئے تشکیل پانے والے بند و بست کی ان کے بغیر کوئی خاص اہمیت نہیں ہوگی. البتہ اتنی بات تو واضح ہے کہ نئے سیٹ اپ میں جانے یا نہ جانے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہے . ایک تو اس وجہ سے کہ امریکا تنِ تنہا قائد ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ میں برابر درجے کے چار قائدین اور بھی تھے. دوسری بات یہ ہے کہ نیا نظام بنایا ہی اس لیے جارہا ہے، تاکہ روس اور چین جیسے نئے ابھرنے والے عالمی کھلاڑیوں کا راستہ روکا جاسکے. اس معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اقوامِ متحدہ کے متوازی نظم قائم کرنے پر امریکا اور یورپ مدِ مقابل آرہے ہیں. اسی لیے روسی صدر نے یہ کہہ کر چٹکلہ چھوڑا ہے کہ اگر ہمارے منجمد اثاثوں سے ایک ارب ڈالر لیے جاتے ہیں تو ہم بھی پیس بورڈ کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں.

سب سے پتلی حالت یورپ کی ہے. روس اور چین بھی ویٹو پاور رکھتے تھے، مگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اقوامِ متحدہ کے اصل فوائد یورپ سمیٹ رہا تھا. اس عالمی چودھراہٹی نظم کی تمام تر فلاسفی مغرب کی جدید تہذیب، نظریات اور افکار کے گارے مٹی سے تشکیل دی گئی تھی. انسانی حقوق سمیت دیگر عالمی قوانین کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ہر ذی شعور اسی نتیجے پر پہنچے گا. لہٰذا یورپ کا غم اکہرا نہیں، دہرا ہے. طاقت کا سرچشمہ بھی ہاتھ سے جارہا ہے اور دنیا پہ اپنی تہذیب و نظریات مسلط کرنے کی چھڑی بھی چھن رہی ہے.

امریکا کی پانچوں گھی میں ہیں. وہ اپنے اس اقدام کے ذریعے ایک طرف چین اور روس کو زیر کر رہا ہے تو دوسری طرف یورپ کو بھی چھوٹے! شاباش میرا پتر پیچھے چلا جا، کہہ کر عالمی قیادت کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے پچھلی نشستوں پہ بھیج رہا ہے. اب وہ ہوگا، اس کے من پسند قوانین ہوں گے، ڈنڈا ہوگا اور گرین لینڈ سے کیلی فورنیا اور ناروے سے جنوبی افریقہ تک بسنے والے ممالک ہوں گے.

عالمِ اسلام کے لیے معاملے کے دو رخ ہیں. ان نئے نظام کے تحت “امن” قائم کرنے کی ابتدا غزہ سے ہوگی، سو یہ کڑوا اور تلخ پہلو ہے. اس گھاٹی سے گزرنے کے بعد زمانوں تک مسلم حلق کڑوا رہے گا. مؤرخین جب بھی غزہ کی داستانِ الم ناک چھیڑیں گے تو دشمنوں کی صف میں اپنوں کی چہرہ شماری بھی کریں گے. یہ کس قدر کربناک پہلو ہوگا. یہ ایسا زیاں اور خسارہ ہے جو تمام سود اور فوائد کو دھندلا دے گا.

معاملے کا دوسرا رخ عالمِ اسلام کے لیے روشنی کی چمک رکھتا ہے. خلافتِ عثمانیہ جب قصہء پارینہ ہوئی تو طاقت کے نئے خط و خال ابھرے. 1919 میں لیگ آف نیشنز بنی. تب برطانیہ اور فرانس سپر پاورز تھے . مشرق سے مغرب تک ان کا طوطی بولتا تھا. اڑھائی دہائی بعد دوسری جنگِ عظیم ہوئی تو منظر نے رخ سے مزید نقاب ہٹائے اور لیگ آف نیشنز اقوامِ متحدہ کے قالب میں ڈھل گئی. پانچ چودھری چنے گئے. جن میں ایک بھی مسلم ملک نہ تھا. چنانچہ اگلے اسی سال مسلمان ممالک کی حیثیت دوسرے درجے کے ممالک کی سی رہی. ان کے لیے لازم رہا کہ وہ یا تو پانچ چودھریوں میں سے روس کا انتخاب کریں یا پھر مغرب یعنی برطانیہ، فرانس اور بالخصوص امریکا کی چاکری کریں. چین تب کسی خاص حیثیت کا حامل نہ تھا. یہی وجہ ہے کہ پچھلے اسی سالوں میں اقوامِ متحدہ نے عالمِ اسلام کو سراسر نقصان اور مغربی طاقتوں کو ہر طرح سے فائدہ دیا.

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گرین لینڈ والی تلخی کی وجہ سے یورپین طاقتیں بورڈ آف پیس میں شمولیت سے گریزاں ہیں. کچھ نے ببانگِ دہل انکار کیا ہے اور کچھ مہر بہ لب اور خاموش ہیں. امریکا چین اور روس کو بھی اس سے دور رکھنا چاہتا ہے. شامل ہوئے بھی تو دوسرے درجے کی طاقتوں کے طور پر شامل ہو سکیں گے. اس لیے عالمی سطح پر اس نئ صف بندی سے طاقت کا بہت بڑا خلا پیدا ہونے جارہا ہے. اس خلا کو مسلم ممالک پُر کرنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں. اقوامِ متحدہ کا تجربہ ان کے سامنے ہے، لہٰذا وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے. بورڈ آف پیس میں یہ امریکا کے برابر نہ سہی، مگر اقوامِ متحدہ کی طرح تیسرے درجے کے ممالک کی صف میں بھی نہ ہوں گے. یہ دوسری صف کے ایسے ممالک ہوں گے، جن کی بات بآسانی رد نہ کی جاسکے گی.

غزہ کے حوالے سے یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ صرف پاکستان ہی بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہو رہا، بلکہ ترکی، قطر اور سعودی عرب بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں. چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ حماس کو اعتماد میں لیا گیا یے. حماس کی خاموشی بھی بڑی معنی خیز ہے. سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے مصر اور بحرین سمیت بورڈ میں شامل ہونے والے دیگر عرب ممالک کا نام نہیں لیا، بلکہ پاکستان، ترکی اور قطر کا نام لیا ہے. وجہ یہ ہے کہ عالمِ اسلام کی سطح پر یہ وہ ممالک ہیں، جنہوں نے کسی نہ کسی درجے میں اہلِ غزہ کے لیے اقدامات اٹھائے. پچھلے دو سالوں میں پاکستان اور ترکی نے سفارتی سطح پر غزہ کا مقدمہ لڑا، جبکہ حماس اور اہلِ غزہ پر قطر کی نوازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں. یہ ممالک یک قلم اپنی سابقہ تمام کوششوں پہ خطِ تنسیخ نہیں پھیر سکتے.

جہاں تک بات ہے بورڈ میں اسرائیل کی شمولیت کی تو صاحب! اسرائیل تو اقوامِ متحدہ کا بھی حصہ ہے . وہاں بھی ایک ہی چھت تلے پاکستان اور اسرائیل کے نمائندے بیٹھتے ہیں . مگر سوال یہ ہے کہ کیا حالات کی اس نئی کروٹ پہ اسرائیل سو فیصد خوش ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. وہ اب بھی ترکی اور پاکستان کی شمولیت سے خوش نہیں ہے. خدانخواستہ غزہ حماس کے ہاتھ سے گیا، تب بھی یہ خطہ مستقبل قریب میں اسرائیل کو ملنے والا نہیں ہے. یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ اسرائیل کے حوالے سے پہلے تو سعودی عرب اور پاکستان کی پالیسی بھی غیر واضح تھی. لگتا تھا کہ پس پردہ ابراہام اکارڈ کا حصہ بننے سے متعلق سوچ بچار ہو رہا ہے، مگر پھر ایران اسرائیل جنگ میں دونوں ممالک کے اصل تیور نظر آئے. بعد ازاں دفاعی معاہدہ بھی ہوا. تب جاکر واضح ہوا کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب طے کر چکے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کی بالادستی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کی جائے گی. بورڈ آف پیس اگر سو فیصد اسرائیل کے فائدے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے تو پھر پاکستان، سعودیہ اور ترکی کی جانب سے ماضی قریب میں اٹھائے گئے اقدامات کا کوئی مطلب نہیں بنتا.

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بےحد اہم ہے کہ ابھی ہفتہ قبل پندرہ جنوری کو مصر نے غزہ کے لیے پندرہ رکنی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا. لطف کی بات یہ ہے کہ حماس کے مرکزی رہنما جناب باسم نعیم نے بھی یہ کہتے ہوئے اس کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کیا تھا کہ اس سے جنگ بندی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی. انکشاف یہ ہے کہ یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت کام کرے گی.

دو نکات جو اب تک کی تحریر سے سمجھ آگئے ہوں گے، مگر پھر بھی بہ صراحت عرض کیے دیتے ہیں کہ ایک تو یہ بورڈ مستقل ہے اور دوسرا یہ کہ یہ صرف اور صرف غزہ کے معاملات دیکھنے کے لیے نہیں بنا ہے، بلکہ یہ عالمی سطح کے دیگر تنازعات اور معاملات کو بھی دیکھے گا. اگر یہ سیٹ اپ عارضی ہوتا اور ہوتا بھی فقط غزہ کے پس منظر میں تو ہم اس تحریر کی بجائے اشک بہاتے ہوئے مرثیہ لکھ رہے ہوتے.

بات اس نچوڑ و نتیجے پہ سمیٹتے ہیں کہ اس تمام معاملے میں اطمینان کی کلیاں بھی ہیں، اضطراب کے کانٹے بھی ہیں اور کہیں کہیں خارزار و گلزار کی ہم آمیز و ملی جلی پگڈنڈی بھی. آہستہ آہستہ منظر کھلے گا اور قضیے کے نین نقش مزید سمجھ و پہچان میں آتے جائیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں