0

سب ہضم۔۔۔۔۔کھیل ختم /تحریر/خالد وحید امراچی

*سب ہضم،،،،کھیل ختم؟*
شرفو کی لفاظی / خالد وحید امراچی

حالیہ صورتحال میں یحییٰ سنوار نے کہا تھا کہ غزہ پوری دنیا کے منافقوں کو بے نقاب کردے گا ۔۔۔۔۔ نو گیارہ کے بعد جہاد کے اعلان اور صلیبی جنگ کے بیان سے دونوں ہی جانب سے چھلنی لگ گئی اب حق و باطل چھن کر الگ الگ ہورہے ہیں، کیوں کہ ہر کوئی خود کو حق سمجھتا ہے اس لئے دونوں کے اپنے اپنے ہیرو اور اپنے اپنے ویلن ہیں، یعنی ایک کا ہیرو دوسرے کا ویلن اور دوسرے کا ہیرو پہلے کا ویلن جب کہ حق و باطل کی لڑائی میں غیر جانب داری منافقت سمجھی جاتی ہے جو حق کے لئے نقصان دہ اور باطل کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
گذشتہ دنوں حماس کے سینئر عہدیدار نے العربی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ابھی تک ہمیں امریکی منصوبے کی کاپی نہیں ملی ہے۔ ہمارے مزاحمتی ہتھیار فلسطینی ریاست کے قیام سے منسلک ہیں، اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء سے منسلک ہے۔ ہم یرغمالیوں کی رہائی میں سنجیدہ ہیں ایک معاہدے کے تحت، جو غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرے گا اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنائے گا۔”
اور العربي الجديد کے مطابق اسلامی جہاد موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کا رد عمل سامنے آیا ہے کہ : ٹرمپ نیتن یاہو کانفرنس میں جو اعلان کیا گیا وہ امریکی اسرائیل معاہدہ ہے اور اسرائیل کے موقف کا بھرپور اظہار ہے۔ ٹرمپ نیتن یاہو کانفرنس میں جو اعلان کیا گیا وہ فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کو جاری رکھنے کا نسخہ ہے۔ امریکی اسرائیلی اعلان خطے کو بارود سے اڑا دینے کا نسخہ ہے۔ اسرائیل امریکہ کے ذریعے وہ کچھ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اسرائیل جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا۔
اسی طرح پاکستان کی مذھبی سیاسی جماعتوں نے بھی الگ الگ کہا (جی ہاں مشترکہ نہیں بلکہ الگ الگ)
جامعہ اشرفیہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب تک دو ریاستی حل کے حوالے سے فلسطینی کوئی فیصلہ نہیں کرلیتے کوئی حل مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ بانی پاکستان نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا تھا، ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے، امریکا عالمی مجرم کی پشت پناہی کررہا ہے۔ جن ممالک نے جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی تقریر کابائیکاٹ کیا انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان نے وزیراعظم پاکستان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم وزیر اعظم کے غزہ اور ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بیان کو کسی صورت قبول نہیں کرتے، پاکستانی قوم کی مرضی کے بغیر کوئی بھی شخصیت کیسے ڈونلڈ ٹرمپ کو رضا مندی دے سکتی ہے؟، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی قوم کو یہ حق ہے کہ اگر اس کی سر زمین پر قبضہ ہو تو وہ اس کے خلاف مسلح جدوجہد کرسکتی ہے،کوئی بھی طاقت محض زور زبردستی کے بل پر ایک قوم کا یہ حق نہیں چھین سکتی، امن معاہدے کے طور پر کوئی بھی ایسی دستاویز جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشوں پر دی جارہی ہو کی تحسین کرنا ظالموں کی حمایت کرنے کے برابر ہے۔
سربراہ تحریک لبیک پاکستان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اسرائیل کے بارے میں وہی ہے جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی، دو ریاستی حل کی بات کرنا نظریات پاکستان سے غداری ہے،،،، جب کہ ان کے رکن شوری و امیر KPK ڈاکٹر شفیق امینی نے کہا تھا کہ ریاستِ فلسطین میں صیہونی قابِض غلیظ ٹھکانہ اُمت کے دِل پر خنجر ہے، ریاستِ فلسطین میں دوسری ریاست کا قابِض قیام کسی صورت اُمت کو قبول نہیں۔ پاکستان کی نظریات اِس معاملہ پر روزِ اول سے عیاں ہیں، نظریہ پاکستان و بانیانِ پاکستان کے قول و فعل سے روگردانی ناقابلِ برداشت ہوگی۔
وہ جو 1967 کے بعد قبضے ہوئے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں سب کیا ہوئیں؟۔۔ عقلی طور پر لگتا ہے دو ریاستی حل کا کڑوا گھونٹ بھرنا آخری راستہ ہوگا اور شائد غزہ پر ہی اکتفا کرنا پڑے۔۔
مگر دنیا نے دیکھا اور یہ مقولہ ایک بار پھر سچ ثابت ہوا کہ ” اکیلا چنا بھاڑ بھی نہیں پھوڑتا”
بہرحال بیان کے یہ جملے اب بھی قابل غور ہیں، جس کی ہم کئی دنوں سے نشاندہی کر رہے ہیں یعنی… “اسرائیل امریکہ کے ذریعے وہ کچھ مسلط کر رہا ہے جو اسرائیل جنگ کے ذریعے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔”
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گھتی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے
اس دور کا اصل عالمی المیہ یہ ہے کہ “ایک طرف تو آدمیوں کی زندگی جتنی سستی اور پرآسائش ہوتی جارہی ہے، دوسری جانب انسانوں کا جینا اسی قدر مہنگا اور مشکل ہو رہا ہے”۔
آج کل کی سازشی دنیا میں میدانوں کی جنگ ایوانوں میں ہار کر خوشی منانے والوں کو خبر ہو کہ ایک بڑا میدان بھی سجے گا جس میں کوئی مکر و فریب نہ چل سکے گا اور اس میدان کو میدان حشر کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ دشمن سے ڈر نہیں لگتا صاحب ، اپنی صفوں میں چھپے منافقوں سے لگتا ہے۔ یادش بخیر کہ ضیاء الحق کے زمانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بینر تلے اسلام پسند آگے لائے گئے، اور پرویز مشرف کے دور میں سب سے پہلے پاکستان کے جھنڈے تلے محب وطن آگے لائے گئے۔ سوچتا ہوں یہ دونوں اب کہاں ہیں؟؟
لکھا تھا کہ تبدیلی بہت جلد، بہت تیزی اور بہت سختی سے آئے گی، اب عالمی طور پر ہی نہیں بلکہ اندرونی سطح پر بھی ہر محکمے، ہر ادارے، ہر پیشے، ہرسطح، ہر مسلک، ہر زبان، ہر خطے، ہر طبقے، ہر عمر اور ہر جنس میں تبدیلی آچکی ہے مگر افسوس کہ یہ تبدیلی بظاہر منفی نظر آتی ہے، مگر خدا سے رحم کی دعا مانگیں کہ شاید ابھی ہمارے اعمال مزید ظلم سہنے، مزید پستی دیکھنے اور مزید ذلیل کئے جانے والے ہیں، اور ان سب سے نکلنے کا واحد راستہ اجتماعی اجتہاد سے زیادہ اجتماعی استغفار ہی ہے، موجودہ حالات میں تو قبلہ اول کا حصول تو کیا اب تو اس کی حفاظت اور سلامتی کی دعائیں کیجئے، صمود فلوٹیلا کے پہنچنے کی ٹائمنگ گرفتاری اور اس پر دجل میڈیا کا شور شرابا سب ٹائمنگ کا مکر و فریب تھا کہ اس سب میں امن کا نوبل انعام ہو، ابراہم اکارڈ ہو، شمع جونیجو جیسوں کی اہم اور حساس جگہوں پر موجودگی ہو یا دو ریاستی حل کا تھوپنا سب پس منظر میں چلے گئے (مگر دونوں کام پہلے سے زیادہ شدت سے جاری و ساری ہیں), سیکولر و لبرل پروپگینڈا کرتے ہیں کہ وہ سو سال آگے ہیں،،،، اور وہ یہی کہہ کہہ کر ہمیں اپنے پیچھے دوڑا رہے ہیں،،، مزے کی بات کہ ہم بے وقوفوں کی طرح ان کے پیچھے دوڑ بھی رہے ہیں ،،، جب کہ مسلمان جانتا ہے کامیابی ساڑھے چودہ سو سال پیچھے جانے میں ہے۔
حرف آخر : مسلمانوں کے لئے اس معاملے کو سمجھنا مشکل نہیں، صرف یہ سوچ لیں کہ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے آتا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیا حکم صادر فرماتے؟، اہلبیت اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آتا تو کیا فیصلہ کرتے؟, اکابرین اور اصلاف کا کیا عمل ہوتا، بات سمجھ جائے گی، اگر پھر بھی کچھ ابہام ہو تو قرآن اور حدیث و سنت عمل تو مشعل راہ ہے ہی۔ باقی جو کہتا ہے کرتا ہے کرتا رہے سب کو اپنا اپنا جواب اور حساب دینا ہے، ویسے بھی ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کی رو سے ” شام میں تباہی کے بعد خیر کی امید صرف اللہ ہی سے رکھی جا سکتی ہے،،،،،، اور ارض مقدس فلسطینیوں کا تھا ہے اور تا قیامت رہے گا۔ کاش کہ ابراہیم کارڈ اور دوریاستی حل جیسے معاہدے کرنے والے ،،،، مل کر اللہ رسول کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی پاسداری بھی کر لیں۔ مگر ہم غزہ کی آواز اٹھاتے رہیں گے،،،، کیوں کہ مزاحمت میں زندگی ہے۔
اسلام کی سربلندی، پاکستان کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کی سوچ رکھیئے اور پُرسکون رہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں