67

“مقامِ آشنائی سے پہلے”/تحریر/نمرہ امین، لاہور

“انسان کی زندگی اللہ کا عطا کیا ہوا خاص تحفہ ہے اور یہ زندگی اللہ کی امانت ہے ہر انسان کو اس امانت کی حفاظت کرنی چاہیے۔”
انسان کی زندگی میں ہر قسم کا وقت اور طرح طرح کے موڑ آتے ہیں جہاں انسان کو ہمت، حوصلہ، برداشت، صبر و تحمل کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔
جب کبھی خوشیاں اور آسائشیں انسان کو اللہ کی طرف سے غافل کرتی ہیں، تب انسان راستہ بھٹک کر مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے اور زندگی میں بہت سی پریشانیوں، تکالیف، رنج و غم میں مبتلا رہتا ہے۔ بے شک امتحانات اور آزمائشیں دنیا میں نظام الٰہی کا حصہ ہیں۔
امتحانات اور مشکلات کے بھنور میں بسا اوقات حالات انتہا درجے تک بگڑ بھی جاتے ہیں اور مصیبتیں، پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں جس وجہ سے بد گمانیاں، مایوسی اور نا امیدی دل میں گھر کر جاتی ہے۔
” شیخ سعدی نے فرمایا تھا: مایوسی ایسی دھوپ ہے جو سخت سے سخت وجود کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔”
“مایوسی اس احساس کا نام ہے جو ایک انسان اپنی خواہش کی تسکین پوری نہ ہونے کے طور پر محسوس کرتا ہے کیونکہ خواہش پوری نہ ہونے پر اس کے دل و دماغ میں تلخی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے اسے مایوسی کہتے ہیں۔ “جب ایک انسان ناکامیوں اور مشکلات کے بھنور میں پھنس جاتا ہے تو اس کے لیے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک مثبت اور ایک منفی راستہ۔” ایسے میں اگر انسان “مثبت” راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کی سب مشکلات، پریشانیاں، ناکامیاں ختم ہو کر اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو جگا دیتی ہیں۔
اسی طرح “منفی” راستہ اگر اختیار کیا جائے تو مایوسی اس کا مقدر بن کر اسے احساس کمتری، خوف، جرم یہاں تک کہ خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک لے جاتی ہے۔
یہاں اگر ایک انسان یہ سوچے کہ اس دنیا کا نظام ہی خالق کائنات کے ہاتھ میں ہے جو یہ پوری کائنات کو چلا رہا ہے تو ہم تو اسی کے پیارے بندے ہیں ہم کیوں نہیں اپنے اللہ پر یقین کرتے ہیں؟ ہم کیوں طرح طرح کی منفی سوچ اپنے ذہن میں رکھ کر ہر طرح کے خیالات دل میں لاتے ہیں؟ اگر انسان مایوسی اور نا امیدی کو دل سے یہ کہہ کر اور اس یقین سے نکالے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔ وہ کبھی مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا کیونکہ اللہ ہی ہے جو انسان کے سامنے ایسے راستے بناتا ہے جو اللہ پر توکل کرنا سیکھاتا ہے، انسان کے حالات اتنے بے بس کر کے اپنے قریب کرتا ہے، اللہ ہی ہے جو لوگوں کی باتوں سے تمہیں توڑ کر خود سے جڑواتا ہے، حالات سے مجبور ہو کر تمہیں سجدوں تک لے آتا ہے، اللہ بہت رحمان و رحیم ہے وہ بہتر کو تم سے دور کر کے بہترین سے نوازتا ہے، اللہ تمہیں ہر آزمائش سے گزار کر تمہیں معجزوں تک لاتا ہے۔ یہ اللہ کی ہی شان ہے جو وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے اور اپنے ہر بندے کو نماز اور دعا کے ذریعے اپنے قریب کرتا ہے۔ “یہی وہ مایوسی کے اوقات ہوتے ہیں جب اللہ کی یاد اللہ پر یقین ہمیں خود سے آشنا کرواتا ہے اور ہمارے دلوں کو چین و قرار آتا ہے۔”
یہ وہ سکون ہوتا ہے کہ انسان خود سے اس قدر آشنا ہو جاتا ہے کہ اس کی مایوسی، نا امیدی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا یقین، توکل بس اللہ کی ذات پر ہوتا ہے کہ وہی رب العالمین تمام پریشانیوں کو ختم کر کے اچھا راستہ دیکھائے گا۔
“بے شک دلوں کا اطمینان و سکون اللہ کی یاد میں ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں