Abdul Jabbar 0

پیغامِ کربلا اور عصرِ حاضر/تحریر/عبدالجبار سلہری

اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو محض ماضی کے صفحات تک محدود نہیں رہتے بلکہ زمانوں کے شعور، فکر اور کردار پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی عظیم اور فیصلہ کن واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف 10 محرم 61 ہجری کا ایک المناک سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، حریت و جبر، صداقت و مصلحت کے درمیان برپا ہونے والا ایسا معرکہ ہے جس کی بازگشت آج بھی عالمِ اسلام کے فکری افق پر سنائی دیتی ہے۔

کربلا کو محض جذبات، مرثیوں یا ماتم کے دائرے میں محدود کر دینا اس عظیم واقعے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا ایک فکری انقلاب، ایک اخلاقی تحریک اور ایک دائمی اصلاحی پیغام کا نام ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے مقدس خون سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ جب اقتدار دین کے اصولوں کو پامال کرنے لگے، جب عدل کی جگہ جبر اور حق کی جگہ مصلحت لے لے، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے اور حق گوئی عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔

علمائے اہلِ سنت والجماعت نے ہمیشہ واقعۂ کربلا کو محبتِ اہلِ بیت، دفاعِ حق اور استقامت علی الدین کے عنوان سے دیکھا ہے۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ اسلام کی بقا کا عظیم ذریعہ بنی اور امت کو ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا سبق دے گئی۔‘‘
(نقشِ حیات)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا مبارک دور اسلامی تاریخ کا سنہری باب شمار ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے ادوار میں خلافت شورائیت، عدل، دیانت اور دینی اصولوں کی بنیاد پر قائم رہی۔

بعد ازاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سلطنت کو استحکام حاصل ہوا، تاہم ان کے آخری زمانے میں یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کا معاملہ سامنے آیا جس پر متعدد جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تحفظات کا اظہار کیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی انہی اکابر میں شامل تھے جنہوں نے یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء)

اسی طرح حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:

’’حسین رضی اللہ عنہ بیعت سے راضی نہ ہوئے اور مکہ مکرمہ کی طرف تشریف لے گئے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ)

اسی دوران اہلِ کوفہ کی جانب سے ہزاروں خطوط حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے جن میں آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی گئی۔ حالات کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے آپ نے پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو وہاں روانہ فرمایا۔ امام طبری، امام بلاذری، امام ابن سعد اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ نے اس واقعے کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔

تاہم جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حالات یکسر تبدیل ہو چکے تھے۔ اس وقت تک حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ سفر کے دوران متعدد صحابۂ کرام اور تابعین نے آپ کو کوفہ نہ جانے کا مشورہ دیا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’مجھے اندیشہ ہے کہ اہلِ کوفہ آپ کو دھوکہ دیں گے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ)

اس کے باوجود حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد، دینی بصیرت اور شرعی ذمہ داری کے تحت سفر جاری رکھے رہے۔ بالآخر 2 محرم 61 ہجری کو آپ کا قافلہ کربلا پہنچا اور 10 محرم کو وہ عظیم سانحہ پیش آیا جس نے اسلامی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو شہید کر دیا گیا اور یہ امت کے عظیم ترین مصائب میں سے ایک مصیبت تھی۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ)

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت دلوں کو زخمی کر دینے والا حادثہ ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء)

اس حقیقت پر تمام مکاتبِ فکر کے معتبر علماء متفق ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مظلومانہ طور پر شہید کیے گئے اور ان کے قاتل سخت مجرم اور قابلِ مذمت ہیں۔

کربلا کو محض اقتدار کے حصول کی جدوجہد قرار دینا تاریخی حقائق سے ناواقفیت کے مترادف ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نہ سرکشی کے لیے نکلے تھے، نہ اقتدار طلبی کے لیے، نہ فساد برپا کرنے کے لیے اور نہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر۔ آپ کا مقصد امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصلاح اور دینِ اسلام کی سربلندی تھا۔ یہی پورے واقعۂ کربلا کی روح اور اس کا حقیقی پیغام ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔‘‘
(سورۃ آل عمران، آیت: 104)

واقعۂ کربلا درحقیقت اسی فریضۂ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عملی تفسیر تھا۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا اقدام امت کی اصلاح اور دین کی سربلندی کے لیے تھا۔‘‘
(ملفوظاتِ حکیم الامت)

واقعۂ کربلا کے بارے میں عموماً دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو یزید کو مکمل بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض افراد پورے عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسی ایک واقعے کی بنیاد پر مشکوک بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کے اکابر علماء نے ہمیشہ ان دونوں انتہاؤں سے اجتناب کرتے ہوئے اعتدال اور انصاف کا راستہ اختیار کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’حسین رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے اور ان کی شہادت ایک عظیم مصیبت ہے۔‘‘
(منہاج السنۃ)

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ہم حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں اور ان کے قاتلوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء)

یہی اہلِ سنت والجماعت کا متوازن، معتدل اور منصفانہ موقف ہے۔

کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اقتدار حق کا معیار نہیں ہوتا۔ یزید کے پاس حکومت تھی، فوج تھی، خزانہ تھا اور ریاستی طاقت بھی؛ لیکن تاریخ نے عزت، احترام اور محبت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے حصے میں لکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود نامِ حسین رضی اللہ عنہ دلوں میں زندہ ہے۔

آج بھی دنیا کے مختلف معاشروں میں آمریت، ظلم، کرپشن، استحصال اور انسانی حقوق کی پامالی موجود ہے۔ ایسے حالات میں کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ہمیشہ حکمت نہیں ہوتا۔ بعض مواقع پر حق کا اعلان اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنا ہی حقیقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

البتہ کربلا کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر سیاسی اختلاف کو جنگ اور تصادم میں تبدیل کر دیا جائے۔ اہلِ سنت والجماعت کے اکابر نے ہمیشہ اصلاح، حکمت، دعوت، خیر خواہی اور اجتماعی مصلحت کو ترجیح دی ہے۔ اسی لیے واقعۂ کربلا کو جذبات کے بجائے فہم، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

کربلا صرف سیاسی درس نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور اخلاقی منشور بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اصول مفادات سے بڑے ہوتے ہیں، حق کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، خاندانی نسبتیں کردار کے بغیر کافی نہیں ہوتیں، ظلم کے ساتھ سمجھوتہ دائمی ذلت کو جنم دیتا ہے اور قربانی کے بغیر عظیم معاشرے تشکیل نہیں پاتے۔

آج مسلم معاشروں میں کرپشن، فرقہ واریت، جھوٹ، مفاد پرستی اور اخلاقی انحطاط عام ہے۔ کربلا ان تمام بیماریوں کے علاج کا راستہ دکھاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس واقعے نے امت کو ظلم کے خلاف متحد کرنا تھا، بعض اوقات اسی کو فرقہ وارانہ کشمکش اور باہمی نزاعات کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پوری امتِ مسلمہ کے امام اور محبوب ہیں۔

امام ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’حسین رضی اللہ عنہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘
(الصواعق المحرقۃ)

لہٰذا کربلا کو نفرت، تعصب اور تقسیم کا عنوان بنانے کے بجائے محبت، اتحاد، اصلاح اور باہمی احترام کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

اگر پورے واقعۂ کربلا کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ:

’’حق کی حفاظت کے لیے قربانی دینا پڑتی ہے۔‘‘

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے امت کو یہ تعلیم نہیں دی کہ کامیابی صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام ہے، بلکہ یہ سبق دیا کہ اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچا کر دکھایا۔‘‘
(سورۃ الأحزاب، آیت: 23)

بلاشبہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثار ساتھی اس آیتِ کریمہ کے روشن اور تابندہ مصداق تھے۔

کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ضمیر کی آواز ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ طاقت ہمیشہ حق نہیں ہوتی، اکثریت ہمیشہ سچائی کی علامت نہیں ہوتی اور خاموشی ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی نے امت کو یہ سبق دیا کہ دین، عدل، آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اگر جان بھی قربان کرنا پڑے تو یہ سودا خسارے کا نہیں ہوتا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اسے اپنے انفرادی، اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی رویوں کا معیار بنائیں۔ جب تک امتِ مسلمہ کربلا کے پیغامِ صداقت، استقامت اور اصلاح کو اپنے کردار کا حصہ نہیں بناتی، اس وقت تک اس عظیم واقعے کا حقیقی حق ادا نہیں ہو سکتا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا خون آج بھی یہی صدا دے رہا ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور ہو، حق کی ایک آواز تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں