113

احساس اور اساس/تحریر/محمد عمیر جاوید

چند فٹ کا انسانی ڈھانچہ مختلف صفات کا محل ہے۔ ہر صفت کا وجود انسان کی زینت اور خوبصورتی کا وسیلہ ہے۔ اس اتصاف میں مختلف راز مضمر ہیں۔ جن پر اطلاع انسان کے زیرِ قدرت ہے بشرطیکہ اس میں طلب ہو۔
بہرکیف ان صفات میں احساس ایک ایسی صفت ہے جو تمام صفات میں قیادت، سیادت اور اساس کی حیثیت کی حامل ہے۔
آج المیہ یہ ہے کہ احساس بالقوہ تو ہے لیکن بالفعل اس کو وجود دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ اگر احساس کو اساسیت کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا تو مسلم افراد خصوصا مسلم بہنیں سالہا سال کفار کے ہاں اسیر نہ ہوتیں۔ احساس تبدیلی، انقلاب اور غالبیت کا علمبردار ہے۔ 
رواج تو یہی تھا کہ حالات، ظلم وستم اور مجبوریاں انسان میں مردہ انسانیت اور حس کو زندگی کی راہ دکھاتی ہیں اور جہدِ مسلسل کا علمبردار بناتی ہیں مگر
ع افسوس صد افسوس کہ شاہین نہ بنا تو
بیس سالوں سے مسلم بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکا میں درندوں کے ہاں اسیر ہے۔ ظلم وستم کی نہ مٹنے والی داستاں قائم ہوچکی،  جابرانہ اقدامات انتہا کو پہنچ چکے پر نہ حکمرانوں کو احساس ہوا نہ عوام کو۔
سلام ہے اس بہن عافیہ کو کہ تمام تر زخموں کے باوجود ان کا حوصلہ اور اسلامی جذبہ آۓ دن جواں ہوتا ہے۔
زیرِ غور نکتہ یہ ہے کہ ہم ان بیس سالوں میں کہاں تھے ، ہماری حس جو انسانیت کی اساس ہے کہاں تھی، آج والی ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے پہلے کیوں نہیں کیے ہم نے؟
اگر یہی جذبہ آج مؤثر ہے تو بیس سالوں کے دورانیے میں اسی جذبہ کو بطور ہتھیار استعمال کر لینا چاہیے تھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ جذبات چند دن کے لیے کیوں؟ کچھ دن قبل احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو مل رہے تھے،سوشل میڈیا کا بازار گرم تھا، ٹویٹر پہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے مطالبات کو ٹرینڈ بنایا گیا تھا، آخر مستقل مزاجی کیوں نہیں ہے؟
بہر حال ایک دوسرے کا احساس کرنا ہوگا، تاکہ طاغوتی قوتیں مسلم سوسائٹی کو بد نگاہی سے نہ دیکھیں۔ اور تمام مسلم افراد جو اعداءِ اسلام کے قید خانوں میں ہیں خصوصا ڈاکٹر عافیہ صدیقی ان کی رہائی کے لیے کوشاں رہیں۔ دعاؤں کے ذریعے اور جہاں تک ہوسکے زورِ بازو سے ان کو رہائی دلوائیں۔یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے” تلک الایام نداولھا بین الناس ” 
خدانخواستہ آنے والے اوقات میں یہی آزمائش ہمارا رخ بھی کرسکتی ہے۔
افسوس سے قبل احتیاط بہتر ہے۔ فراخی میں ایسا کردار پیش کیا جاۓ کہ تنگی میں سہارا دینے والے موجود ہوں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں