انسان کے تعلق کا اصل امتحان اختلاف ہونے یا کسی اپنے کے چھوڑ جانے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ محبت کرنا آسان لیکن محبت میں بھرم قائم رکھنا عزت کرنا سب سے مشکل ترین کام ہے۔۔ جو انسان کسی کے سنگ خوبصورت وقت گزارے یادیں اکٹھی کرے محبت کا دعویٰ کرے اور پھر ایک وقت ایسا آ جائے کہ دونوں کو شدید اختلاف ہو ایک دوسرے سے بیزار آجائیں پھر اس کے ردعمل میں ڈھیروں الزامات لگا کر پوری دنیا کو دوسرے فریق کی برائیاں بتائے ایسا شخص محبت کی لغت سے یقینی طور پر نابلد ہوتا ہے۔ میں نے گذشہ شب دانیہ اور عامر لیاقت حسین کا انٹرویو شروع والا سنا جس میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں زمیں و آسماں کے قلابے جھاڑ رہے تھے ۔۔ پھر میں نے سوشل میڈیا پر دونوں کے ایک دوسرے پر الزام کی بوچھاڑ سنی جس میں ہرطرح کے نازیبا الفاظ شامل تھے۔۔ پیسوں کی ڈیمانڈ سے لے کر کھانے پینے کا حساب رکھا ہوا تھا محبت کی فرمائش اور لاڈ اٹھوانے کے طعنے الگ سے تھے۔۔۔۔۔اصل میں جب دو فریق ایک دوسرے کیلئے ہوتے ہیں تو انکا پیسہ’ بینک اکاؤنٹ یہاں تک کہ ہر چیز ایک دوسرے کیلئے ہی قربان کی جاتی ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ بعد میں ہم ان ہی فرمائشوں کے طعنے دیں بھری دنیا میں بے عزت کریں۔۔۔ دنیا کا سب سے عظیم اور قربانی دینے والا رشتہ محبت کا ہے۔۔ واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔۔ زمین پر واحد آسمانی چیز ہے وہ ہے محبت۔۔ میاں بیوی ہوں ‘ محبوب ہوں یا کوئی دوست جب محبت کی ڈور میں بندھ جاتاہے تو اس میں عزت ‘ حرمت اور عقیدت ہی پھوٹتی ہے۔۔ اور عقیدت والا انسان با ادب ہوتا ہے جس میں ادب ہو وہاں قربانی ہوتی ہے انسان سب کچھ اپنا قربان کر کے بھی محبت کا بھرم رکھتا ہے۔۔یہ دنیا ہے یہاں ہر طرح کے کردار ہیں۔۔ ایک وہ لوگ ہیں جو محبت کرتے ہیں حاصل کرتے ہیں اگر جدائی ہو جائے یا تعلق پہلے والا نا ہو تو پھر انہیں موقع مل جاتا ہے دوسرے فریق کے میسیجز’ کالز اور خفیہ تعلقات کو منظر عام پر لاکر بدنام کیا جائے جو کہ ہمارے معاشرے میں ہر دوسرا بندہ کرتا ہے۔۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو محبت میں لٹ جانے یا تعلق کے بدل جانے’ جھوٹے آسرے دے کر مکر جانے پر بھی رشتے کا تقدس برقرار رکھتے ہیں۔۔ انکے پاس تمام ثبوت ‘ پیغامات ہوں پھر بھی وہ اسکا غلط فائدہ نہیں اٹھاتے نا ہی کسی چیز کا طعنہ دیتے ہیں بلکہ خاموشی اختیار کر کے اپنی دنیا میں مگن ہوکر ماضی کی محبت کا جھنڈا بلند رکھتے ہیں ۔۔۔ ایسے لوگ باادب ہوتے ہیں مجھے لگتا ہے ( ضروری نہیں آپ سب متفق ہوں ) وہ باطنی طور پر کسی نا کسی بزرگ ہستی سے جڑے ہوتے ہیں۔ بےادب لوگوں کو عزت ‘ رشتے اور محبت کا بھرم رکھنا نہیں آتا بلکہ وہ سرعام عزت اچھال کر دوسرے کی بدنامی کر کے اپنا نام اونچا کرتے ہیں۔۔ اسکے برعکس باادب انسان کو قدرت کی ذات اور کسی بزرگ ہستی کا فیض رسوائی سے بچا کر رکھتا ہے باادب خود تکلیف جھیلتا ہے زمانے کو شریک غم نہیں کرتا وہ خود کتنا بھی ٹوٹ جائے لیکن آفاقی محبت کو ہمیشہ اونچا رکھتا ہے ۔۔۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان عزت اچھالتا ہے دوسرا بیچارہ سہتا ہے لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے دونوں فریقین ایک دوسرے پر خوب الزامات لگاتے ہیں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور معاملات سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔۔ ثابت ہوا دونوں میں محبت نا تھی دونوں ہی ایک دوسرے کی دھلائی کر کے بے عزت کا تمغہ اپنے نام کرنا چاہتے ہیں۔
118
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل