کبھی کبھی انسان کی پہچان اس کے لفظوں سے بھی کی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ الفاظ وہ سب بیاں کر دیتے ہیں جو دل کی چھپی کیفیت ہوتی ہے۔ جس کو کبھی کسی کے سامنے بیان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ تب انسان اپنے خوبصورت تخیل اور خوابوں کی دنیا کو سوچتا ہے اس کے وہ قیمتی الفاظ قلم کے ذریعے خوبصورت صفحہ قرطاس کی زینت بن جاتے ہیں۔ قلم سے انسان کا ایسا گہرا تعلق تاحیات جڑ جاتا ہے جیسے جینے کے لیے سانس لینا ضروری ہوتا ہے۔ قلم انسان کی خاموشی کے پیچھے کی وجہ اور دل میں چھپے ہر راز کو جان جاتا ہے اس لیے وہ ان تمام کیفیات کو اپنے قلم سے صفحہ قرطاس میں قلمبند کر کے انسان کے ہر درد، دکھ، سکھ، غمی، خوشی کا ساتھی بن جاتا ہے۔ قلم اللہ کا دیا ہوا خاص تحفہ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو انسان کی کیفیات اس کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتی۔ وہ کبھی اپنی کیفیات کو کسی سے بیان نہیں کر پاتا اور نہ لکھ سکتا تھا۔ اس قلم نے انسان کو اپنا ساتھی بنا کر اس کے لیے جینا آسان کر دیا تاکہ اس کی زیست میں جب تک وہ رہے خود کو تنہا نہ سمجھے۔
قلم انسان کا وہ واحد سہارا ہے جو اس کو تنہا نہیں ہونے دیتا ہر احساس، جذبات اور کیفیات کو بر وقت سمجھ سکتا ہے۔ اس کو انسان کے اندر سے نکال کر صفحوں میں ڈھال دیتا ہے تاکہ اس کے اندر کا بوجھ ہلکا ہو سکے اور اس کی زندگی پر سکون ہو سکے۔
21