
مجاہد فی سبیل اللہ امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
ڈاکٹر مولانامحمد جہان یعقوب
امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زندگی ایک مجاہدانہ داستان ہے۔ وہ صوفی بھی تھے، خطیب بھی، سیاسی رہنما بھی اور ختمِ نبوت کے عظیم سپاہی بھی۔ قیامِ پاکستان کے وقت انہوں نے مسلم لیگ پر تنقید کی لیکن پاکستان بننے کے بعد اُسے اسلام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کا میدان سمجھا۔ آج بھی اُن کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست اور دین کو جدا نہیں کیا جا سکتا اور حق گوئی پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ 1888ء میں ضلع جھانسی (یو پی، برصغیر) میں پیدا ہوئے۔ آپ سیدوں کے ایک معزز خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ بچپن ہی سے ذہانت، غیر معمولی حافظہ اور فصاحت و بلاغت آپ کے اندر نمایاں تھیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مدارسِ عربیہ میں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی و فارسی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی.
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثال خطابت کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ جب بولتے تو ہزاروں کا مجمع مسحور ہو جاتا۔ آپ کی تقریروں میں ایک طرف روحانی رقت اور عاجزی ہوتی تو دوسری طرف سامراج اور باطل قوتوں کے خلاف شعلہ بیانی بھی نظر آتی۔ اسی وجہ سے آپ کو “خطیبِ اسلام” اور “امیرِ شریعت” کے القاب ملے۔
آپ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم صوفی بزرگ، پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ کے مرید تھے۔ پیر صاحب نے ختمِ نبوت کے دفاع میں جس جرأت کے ساتھ قادیانیت کا مقابلہ کیا، اسی فکر کو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے عملی میدان میں عوامی جدوجہد کی شکل دی۔ یہی نسبت اُن کی شخصیت میں صوفیانہ عاجزی اور مجاہدانہ جرات کا حسین امتزاج پیدا کرتی ہے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے 1919ء کی تحریکِ خلافت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ آپ نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اپنی جدوجہد ترک نہ کی۔ آپ کا نصب العین یہی تھا کہ مسلمان اپنے دینی تشخص اور وحدت کو بچا سکیں۔1929ء میں آپ نے “مجلس احرار الاسلام” قائم کی، جو برصغیر کی ایک بڑی مذہبی و سیاسی جماعت بن گئی۔ اس کا مقصد برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد، مسلمانوں کے مسائل کا حل اور قادیانیت کے فتنے کا سدباب تھا۔ احرار کی بدولت مسلمانوں میں دین و سیاست کا شعور پیدا ہوا اور عوامی سطح پر ختمِ نبوت کی تحریک کو مضبوطی ملی۔وہ تحریک ختمِ نبوت کے عظیم قائد تھے۔ آپ نے قادیانیت کے خلاف علمی و عوامی محاذ قائم کیا۔ آپ کے خطبات سے عام مسلمان میں غیرتِ ایمانی بیدار ہوئی۔ اس جدوجہد میں آپ کو بارہا جیل جانا پڑا، لیکن آپ نے کبھی باطل کے آگے سر نہیں جھکایا۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قیامِ پاکستان کے وقت مسلم لیگ اور اس کی قیادت کے سخت ناقد تھے۔وہ دو قومی نظریہ کے منکر نہیں تھے، بلکہ ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں مانتے تھے،لیکن اُنہیں خدشہ تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت، بالخصوص محمد علی جناح، اسلامی نظام کے بجائے سیکولر ریاست قائم کریں گے،اس لیے وہ کہا کرتے تھے: “یہ تحریک اسلام کے نام پر ہے لیکن انجام میں یہاں اسلام نہیں آئے گا بلکہ انگریز کا قانون ہی چلے گا۔”
چنانچہ مجلس احرار نے قیامِ پاکستان کے لیے چلائی جانے والی مسلم لیگ کی تحریک میں شمولیت اختیار نہیں کی اور کانگریس کے قریب رہی۔1947ء کے بعد جب پاکستان قائم ہو گیا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے حقیقت کو تسلیم کیا۔ آپ نے فرمایا:”اب یہ ہمارا ملک ہے، اس کی حفاظت اور یہاں اسلام کا غلبہ قائم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔”
یوں وہ پاکستان کے مخالف نہ رہے بلکہ اس کی خیرخواہی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے داعی بن گئے۔ آپ نے حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر پاکستان کو اسلام کے اصولوں پر نہ چلایا گیا تو یہ نعمت بوجھ بن سکتی ہے۔امیرِ شریعت نے زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزارا۔ انگریز حکومت اور بعد ازاں پاکستانی حکمرانوں نے بھی کئی بار اُنہیں گرفتار کیا۔ لیکن آپ نے کبھی کلمۂ حق کہنے سے گریز نہ کیا۔
21 اگست 1961ء کو امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ انتقال فرما گئے۔ لاکھوں افراد نے آپ کے جنازے میں شرکت کی۔ ان کی وفات برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سانحہ تھی۔
مآخذ:
1. خطباتِ بخاری – سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے مشہور خطبات کا مجموعہ۔
2. سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ: حیات و خدمات (مصنف: ڈاکٹر ایوب صابر)
3. مجلس احرار الاسلام کی سیاسی و دینی جدوجہد (مصنف: ڈاکٹر ایوب صابر)
4. تاریخِ احرار (چوہدری افضل حق)
5. سیاسی نقشۂ ہند (چوہدری افضل حق)
6. پاکستان کی سیاسی تحریکیں اور علما (مولانا قاضی عبدالغفار)۔
7. تاریخِ مجلس احرار (مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی)۔
8. سوانح پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ
9. پاکستان موومنٹ میں علما کا کردار (ڈاکٹر صفدر محمود)۔
10. The Punjab Muslim League and the Unionists (Ian Talbot)
11. Dr. Ishtiaq Qureshi, The Muslim Community of the Indo-Pakistan Subcontinent –