0

بیٹی بوجھ نہیں رحمت ہے /تحریر/ کلثوم حفیظ چودھری

بیٹی بوجھ نہیں رحمت ہے/تحرير/کلثوم حفیظ چودھری

ہمارے معاشرے میں جیسے ہی بیٹی پیدا ہوتی ہے، ماں باپ کے دل میں سب سے پہلا خیال اس کے جہیز کا آتا ہے۔ افسوس کہ ہم اس فرسودہ رسم کو آج بھی محبت کا نام دے کر نبھاتے چلے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بیٹیوں کو بھی بیٹوں کی طرح دیکھا جائے۔ جس طرح ہم بیٹوں کے لیے تعلیم، روزگار اور کاروبار کی فکر کرتے ہیں، ویسے ہی بیٹی کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جائے۔ جہیز کے بجائے بیٹی کو کوئی ہنر، تعلیم اور خود کفالت کا شعور دیں تاکہ وہ نہ صرف خود کو پہچانے بلکہ دوسروں کو بھی سہارا دے سکے۔

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، وہ تو گھر کا مان، والدین کی ڈھال، اور زندگی کی سب سے حسین رحمت ہوتی ہیں۔

یہ بیٹیاں ہی ہوتی ہیں جو آزمائشوں میں ماں باپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مصیبت کے وقت بیٹے کم اور بیٹیاں زیادہ سہارا بنتی ہیں۔

بیٹی کو صرف کسی کا بوجھ نہ بنائیں بلکہ اسے اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ خود دوسروں کا بوجھ اٹھا سکے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے بیٹیوں کو سہارے نہیں “مواقع” دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم، ہنر، خود اعتمادی اور تربیت کے زیور سے آراستہ بیٹی ہی اصل سرمایہ ہے۔

آئیے! بیٹیوں کی عظمت کو پہچانیے، ان پر فخر کیجیے، اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اپنی سوچ کو بدلیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں