0

قرآن مجید فرقان حمید میں(نحل) شہد کی مکھی کا ذکر /تحریر/ام عمر

قرآن مجید فرقان حمید میں (نحل) شہد کی مکھی کا ذکر/تحریر/ام عمر/کراچی

آج صبح پودوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے پودوں کو پانی دینے کے لیے مالی بابا ائے تو بہت خوش تھے میں نے کہا اج تو اپ بہت خوش ہیں کیا کوئی انعام نکل آیا ہے ۔
چہرے پر خوشی اور مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے اپ میرے ساتھ لان کے پیچھے والے حصے میں چیکو کے درخت کے پاس چلیں میں نے باہر سے ہی چیکو کے درخت پر ایک قیمتی چیز دیکھی ہے ۔
میں سوچنے لگی کوئی طوطا یا کوئی اور پرندہ اگیا ہوگا کیونکہ ہمارے رہائشی علاقے میں پھلوں کے اور پھولوں کے درخت لوگوں نے بھی لگا رکھے ہیں اور اس سوسائٹی کی انتظامیہ نے بھی شجر کاری پر خصوصی توجہ دی ہے ۔اس وجہ سے خوبصورت پرندوں کی امد و رفت رہتی ہے اور پرندوں کا یہاں مسکن بھی ہے۔
خیر میں مالی بابا کے ساتھ چیکو کے درخت کے پاس گئی تو انہوں نے اشارے سے دکھایا کہ وہ دیکھیں شہد کی مکھی نے کتنا بڑا چھتا بنا رکھا ہے ۔میری ذبان سے فوراً سبحان اللہ نکلا اور سورہ النحل کی ایت ۴۸ مجھ کو یاد اگئی ۔
اس سورت کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مفصل بیان ہے جو رب العزت نے اس کائنات میں انسان کے فائدے کے لئے بیان کی ہیں۔
اس لئے اس سورت کو “سورة النعم” (نعمتوں کی سورت) بھی کہا جاتا ہے.
نحل عربی ذبان میں شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ اس سورہ کی ایت ۶۷ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دیے گئے انعامات کا تزکرہ کرتے ہوئے شہد کی مکھی کا حوالہ دیا ہے۔
یہ بات بھی غور کے قابل ہے کہ رب العزت نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں میں گھر یعنی( چھتہ ) بنا لے اور درختوں میں (بھی) اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں ان میں بھی چھتہ لگا لے چنانچہ ان سب موقعوں پر وہ چھتہ لگاتی ہے پھر ہر قسم کے (مختلف) پھلوں سے (جو تجھ کو مرغوب ہوں) چوستی پھر .. پھر چوس کر چھتہ کی طرف واپس آنے کے لئے اپنے رب کے راستوں پر چل جو (تیرے لئے باعتبار چلنے کے اور یاد رہنے کے) اسان ہیں، (چنانچہ بڑی بڑی دور سے بے راستہ بھولے ہوئے اپنے چھتے کو لوٹ آتی ہے،پھر جب چوس کر اپنے چھتہ کی طرف لوٹتی ہے تو)اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے(یعنی شہد)جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں،اس میں لوگوں(کی بہت سی بیماریوں) کے لئے شفا ہے اس میں بھی ان لوگوں کے لئے(توحید کی اور منعم اور نیکی)بڑی دلیل ہے جو سوچتے ہیں۔
النحل ، شہد کی مکھی اپنی عقل و فراست اور حسن تدبیر کے لحاظ سے تمام حیوانات میں ممتاز جانور ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خطاب بھی امتیازی شان سے کیا ہے، باقی حیوانات کے بارے میں تو قانون کلی کے طریقہ پر” اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى “فرمایا ،لیکن اس ننھی سی مخلوق کے بارے میں خاص کر کے ” وَاَوۡحٰى رَبُّكَ “فرمایا جس سے اشارہ اس بات کی طرف کر دیا کہ یہ دوسرے حیوانات سے به نسبت عقل و شعور اور سوجھ بوجھ میں ایک ممتاز حیثیت رکھنی ہے، شہد کی مکھیوں کی فہم و فراست کا اندازہ ان کے نظام حکومت سے بخوبی ہوتا ہے کہ ضعیف جانور کا نظام زندگی انسانی سیاست و حکمرانی کے اصول پر چلتا ہے، تمام نظم و نسق ایک بڑی مکھی کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جو تمام مکھیوں کی حکمران ہوتی ہے، اس کی تنظیم اور تقسیم کار کی وجہ سے پورا نظام صحیح سالم چلتا رہتا ہے ، اس کے عجیب و غریب نظام اور مستحکم قوانین و ضوابط کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے،

“وَاَوۡحٰى رَبُّكَ ” سے جو ہدایت دی گئی ہے ان میں سے یہ پہلی ہدایت ہے جس میں گھر بنانے کا ذکر ہے ، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ہر جانور اپنے رہنے سہنے کے لئے گھر تو بناتا ہی ہے ، پھر گھروں کی تعمیر کا حکم مکھیوں کو دینے میں کیا خصوصیت ہے، پھر یہاں لفظ بھی ” بیوت ” کااستعمال فرمایا جو عموماً انسانی رہائش گاہوں کے لئے بولا جاتا ہے ، اس سے اشارہ ایک تو اس طرف ہے کہ مکھیوں کو چونکہ شہد تیار کرنا ہے، اس کے لئے پہلے سے ایک محفوظ گھر بنا لیں ، دوسرا اس طرف اشاره کر دیا کہ جو گھر یہ بنائیں گی وہ عام جانوروں کے گھروں کی طرح نہیں ہوں گے ، بلکہ ان کی ساخت و بناوٹ غیر معمولی قسم کی ہوگی، چنانچہ ان کے گھر عام جانوروں کے گھروں سے ممتاز ہوتے ہیں، جن کو دیکھ کر انسانی عقل بھی ششدر رہ جاتی ہے، اُن کے گھر مسدس شکل کے ہوتے ہیں اگر ان کی پیمائش کی جائے تو بال برابر بھی فرق نہیں رہتا، مسدس شکل کے علاوہ وہ دوسری کسی شکل مثلا مربع اور مخمس وغیرہ کو اس لئے اختیار نہیں کرتیں کہ ان کے بعض کونے بے کار اور خالی رہ جاتے ہیں۔
رب تعالی نے مکھیوں کو محض گھر بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کا محل وقوع بھی بتلا دیا کہ وہ کتنی بلندی پر ہونا چاہئے کیونکہ ایسے مقامات پر شہد کو تازہ اور صاف چھینی ہوئی ہوا پہنچتی رہے تاکہ وہ گندی ہوا سے چھتہ محفوظ رہے اور کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔

شہد کے چھتہ کو دیکھ کر میں نے سورہ النحل کا مطالعہ کیا اور اس سورہ کو سمجھنے کی کوشش کی تو بے اختیار ذبان سے اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نعمتوں کا شکر ادا کیا۔
خاص طور سے آیت ۶۸ کی تفسیر پڑھ کر معلوم ہوا کہ عقل وشعور انسانوں کے علاوہ دوسرے جانوروں میں بھی ہے۔ البتہ عقل وفہم کے درجات اللّٰہ تعالیٰ نے مختلف مقرر کئے ہیں۔انسان اشرف المخلوقات ہے اس لیے انسانوں کی عقل تمام ذی حیات اشیاء کی عقول سے ذیادہ کامل ہے۔اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پابند ہے۔
اخر میں شہد کی مکھی کی فضیلت اور خصوصیت اس حدیث مبارکہ میں اس طرح بیان کی گئی ہے۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
“یعنی دوسری ایذاء رساں جانداروں کی طرح مکھیوں کی بھی تمام قسمیں جہنم میں جائیں گی،جو وہاں جہنمیوں پر بطور عذاب مسلط کر دی جائیں گی،مگر شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی۔”(نوادرالاصول بحوالہ قر طبی)
شہد کی مکھی کی فضیلت کے کیا کہنے اللہ تعالیٰ قران کریم میں اس کا زکر تفصیل کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی شہد کی مکھی کی فضیلت احادیث سے بھی واضح کی گئی ہے۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں