0

اوزون ہماری بقا کی چھت /تحریر/ محمد اویس شاہد

اوزون: ہماری بقا کی چھت

محمد اویس شاہد


اوزون کے بچاؤ کا عالمی دن ہر سال 16 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد اوزون کی تہہ کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ اوزون کی تہہ زمین کو سورج کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں سے بچاتی ہے۔ اس دن کو 1987ء میں مونٹریال پروٹوکول پر دستخط کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو کہ اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادوں کو ختم کرنے کا عالمی معاہدہ ہے۔ اس دن مختلف تقریبات اور سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، تاکہ لوگوں کو ماحول کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
آج، جب ہم اوزون کے بچاؤ کا عالمی دن منا رہے ہیں، تو ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہم ایک ایسی چھتری کے نیچے سانس لے رہے ہیں جو نہ صرف ہمیں سورج کی تباہ کن شعاعوں سے بچاتی ہے، بل کہ زمین پر زندگی کے توازن کو بھی برقرار رکھتی ہے۔ یہ اوزون کی تہہ، جو ہماری فضا کے بالائی حصے میں ایک لطیف چادر کی طرح پھیلی ہوئی ہے، کروڑوں سالوں سے ہمارے سیارے کی محافظ ہے۔ یہ دراصل آکسیجن کے تین ایٹمز پر مشتمل ایک مالیکیول ہے جو اوزون (O₃) کہلاتا ہے، اور اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ سورج سے آنے والی بالائے بنفشی (Ultraviolet) شعاعوں کو جذب کر لیتا ہے۔ ان شعاعوں کا ایک بڑا حصہ اگر زمین تک پہنچ جائے تو یہ انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جیسے جِلد کا کینسر، آنکھوں کا موتیا، اور قوت مدافعت کا کم زور ہونا۔ اس کے علاوہ، یہ نباتات اور آبی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے ہماری خوراک کی پیداوار اور ماحولیاتی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
بدقسمتی سے، بیسویں صدی کے وسط میں، صنعتی ترقی کی دوڑ میں انسان نے کچھ ایسے کیمیکلز کو ایجاد کیا جن کے تباہ کن اثرات کا ادراک ہمیں دہائیوں بعد ہوا۔ ان میں سب سے بدنام کلورو فلورو کاربن (CFCs) تھے، جو عام طور پر ایئر کنڈیشنرز، ریفریجریٹرز اور ایئروسول اسپرے میں استعمال ہوتے تھے۔ یہ بے ضرر لگنے والے کیمیکلز جب فضا کے بالائی حصوں میں پہنچتے ہیں، تو سورج کی روشنی کی مدد سے ٹوٹ کر کلورین اور برومین جیسے خطرناک عناصر کو آزاد کرتے ہیں۔ یہ عناصر اوزون کے مالیکیولز کے ساتھ ردِ عمل کر کے انہیں تباہ کر دیتے ہیں، اور ایک کلورین کا ایٹم ہزاروں اوزون کے مالیکیولز کو تباہ کر سکتا ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں ایک بڑا سوراخ نمودار ہوا، جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ سائنس دانوں نے پہلی بار 1980 کی دہائی کے وسط میں اس سوراخ کا پتہ لگایا، اور ان کے اعداد و شمار نے ثابت کیا کہ اوزون کی تہہ میں اس تیزی سے کمی آ رہی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں میں انسانوں کے لیے زمین پر رہنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
مونٹریال پروٹوکول، جو 1987 میں دنیا کے بیش تر ممالک کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ تھا، اس مسئلے سے نمٹنے کی جانب پہلا اہم قدم تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ان تمام کیمیکلز کی پیداوار اور استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنا تھا جو اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ابتدائی تخمینے یہ ہیں کہ اس معاہدے کے بغیر، 2050 تک شمالی نصف کرے میں اوزون کی تہہ کا 50 فیصد تک نقصان ہو چکا ہوتا، اور جنوبی نصف کرے میں یہ نقصان 70 فیصد سے تجاوز کر جاتا۔ اس کے نتیجے میں جلد کے کینسر کے لاکھوں اضافی کیسز سامنے آتے اور ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ لیکن مونٹریال پروٹوکول نے وقت پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان خطرات کو ٹال دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اوزون کو ختم کرنے والے مواد (ODS) کی پیداوار اور استعمال میں 99 فیصد تک کمی لائی گئی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کام یابی ہے جس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ اگر عالمی برادری کسی مشترکہ مسئلے پر متحد ہو جائے تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، مونٹریال پروٹوکول کے مؤثر عمل درآمد کی بہ دولت اوزون کی تہہ کی بحالی کا عمل زوروں پر ہے۔ 2023 کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوزون کی تہہ کی بحالی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ موجودہ شرح کے مطابق، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اوزون کی تہہ، جو کہ 1980 کی سطح سے کم ہو چکی تھی، اب اپنے اصل مقام پر واپس آ رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اوزون کی تہہ قطب شمالی (Arctic) کے اوپر تقریباً 2045 تک اپنی 1980 کی سطح تک بحال ہو جائے گی، جبںکہ قطب جنوبی (Antarctic) کے اوپر یہ بحالی 2066 تک ممکن ہو سکے گی۔ باقی دنیا میں بحالی کا عمل اس سے بھی تیز ہے اور توقع ہے کہ 2040 تک مکمل ہو جائے گا۔ یہ اعداد و شمار ایک امید افزا تصویر پیش کرتے ہیں کہ ہم ایک بڑا ماحولیاتی بحران ٹالنے میں کام یاب رہے ہیں۔
لیکن اس کامیابی کے باوجود، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ کچھ نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، جو اس بحالی کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ اور دیگر ODS کی غیر قانونی پیداوار اور استعمال اب بھی دنیا کے کچھ حصوں میں جاری ہے۔ سائنس دانوں نے حالیہ برسوں میں فضا میں ان کیمیکلز کی سطح میں غیر متوقع اضافہ دیکھا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ خفیہ ذرائع سے ان کا اخراج ہو رہا ہے۔ یہ عمل عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بحالی کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، آب و ہوا کی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ بھی اوزون کی تہہ کو متاثر کر رہے ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نچلی فضا کو گرم کرتا ہے، جب کہ بالائی فضا کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور اس درجہ حرارت میں تبدیلی کے پیچیدہ اثرات اوزون کی فطری اور قدرتی تقسیم پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
معزز قارئین! یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ہم ان کیمیکلز پر بھی نظر رکھیں جو CFCs کی جگہ لے رہے ہیں۔ ہائیڈرو فلورو کاربن (HFCs) جو اب عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، اوزون کو نقصان نہیں پہنچاتے، لیکن خطرناک حقیقت میں وہ طاقت ور گرین ہاؤس گیسیں ہیں جو آب و ہوا کی تبدیلی میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں نہ صرف اوزون کی حفاظت کرنی ہے، بل کہ ایک پائیدار اور ماحول دوست مستقبل کے لیے بھی اقدامات اٹھانے ہیں۔ اوزون کے تحفظ کی طویل داستان ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ ایک اجتماعی انسانی کوشش کس طرح ایک بڑے ماحولیاتی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔ اس دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اوزون کی چھتری کو مزید کم زور نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں اس کام یابی سے حوصلہ لے کر دیگر ماحولیاتی چیلنجز کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا، خواہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی ہو یا فضائی آلودگی۔ اوزون کی تہہ کی بحالی نہ صرف سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کی محنت کا نتیجہ ہے، بل کہ ان کروڑوں انسانوں کا بھی جنہوں نے ماحول دوست مصنوعات کو اپنایا اور اس تحریک کا حصہ بنے۔ ایک عام فرد بھی اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، ایسے ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز کا انتخاب کریں جو اوزون کو نقصان پہنچانے والے گیسوں سے پاک ہوں، ری سائیکلنگ کو فروغ دیں، اور ایسی مصنوعات کا استعمال کم کریں جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہوں۔ ہمارا مستقبل اوزون کی تہہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کی حفاظت ہماری اپنی بقا کی ضامن ہے۔ اگر ہم آج اپنی ذمے داریوں کو محسوس کرتے ہوئے عمل کریں تو یقیناً ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند دنیا چھوڑ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں