خاموشی، طاقت بھی عبادت بھی/تحریر/علی کاکڑاگر خاموشی کو سمجھا نہ جائے تو پھر ڈھول پیٹنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کے شور کو کم کرے اور رشتوں کی نزاکتوں کو زیادہ اہمیت دے۔ رشتے انا سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی خاموش رہنا ہی انسان کو بلندی پر لے جاتا ہے۔
برداشت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ صبر اور سکوت دراصل وہ اوزار ہیں جو دلوں کو جوڑتے ہیں، فاصلے گھٹاتے ہیں اور انا کی دیواریں گرا دیتے ہیں۔ بسا اوقات لوگ ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں، مگر درحقیقت یہی سکوت ایک ایسی گونج پیدا کرتا ہے جو وقت کے ساتھ اور زیادہ گہری ہوتی جاتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں اکثر رشتوں میں دراڑیں صرف ایک وجہ سے پڑتی ہیں — بے جا تقابُل۔ خاص طور پر آمدن اور مالی حیثیت کا موازنہ انسان کے دلوں میں حسد، شک اور احساسِ کمتری پیدا کر دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ہم چاہے دن رات محنت کر لیں، جو لکھا ہے وہی ملتا ہے۔ لیکن اقدار — یہ وہ خزانہ ہے جسے ہم خود بڑھا سکتے ہیں، نکھار سکتے ہیں، اور دوسروں کے لیے باعثِ سکون بن سکتے ہیں۔
اگر تکلیف دنیا کی وجہ سے ہے، تو ذکر “لا إله إلا الله” ہے — جو یاد دلاتا ہے کہ رب ہر خوف سے بڑا ہے۔
اگر تکلیف لوگوں کی وجہ سے ہے، تو ذکر “لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله” ہے — جو یہ سکھاتا ہے کہ تمام قوتیں صرف اللہ کے قبضے میں ہیں، لوگوں کے پاس کچھ نہیں۔
اور اگر تکلیف خود اپنی وجہ سے ہے، تو ذکر “استغفر الله” ہے — جو دل کو پاک کرتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے اور بے سکونی کو ختم کرتا ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم کتنا کماتے ہیں، بلکہ یہ کہ ہم کتنا نبھاتے ہیں۔ اپنی قدر بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ دولت بڑھائی جائے، بلکہ یہ کہ ہم دوسروں کے لیے ضرورت بن جائیں — مددگار بنیں، سہارا بنیں۔ جب ہم لوگوں کی مشکل میں کام آتے ہیں، تو اللہ خود ہماری مدد کے اسباب پیدا کر دیتا ہے۔
خاموشی، صبر، اور برداشت ہی وہ روشنی ہیں جو رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہیں اور انسان کے کردار کو سچ مچ بلند کرتی ہیں۔ جب انسان اپنی انا پر رشتوں کو ترجیح دیتا ہے، تو وہ دنیا کے شور میں نہیں، بلکہ اپنی خاموش صدا میں پہچانا جاتا ہے۔