قیادت اور انتظامی ہم آہنگی/تحریر/ایمل صابر شاہادارہ جاتی کام کے حوالے سے ایک بات جو عموماً سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کی انتظامیہ، جو عموماً ایک رہبر اور دیگر معاونین پر مشتمل ہوتی ہے، خواہ وہ دینی مدارس کا مہتمم اور اساتذہ ہوں یا عصری اداروں کا پرنسپل اور اس کا عملہ ہو، تین طرح کے انتظامی سیٹ اپ میں کام کرتی نظر آتی ہے۔
پہلا انتظامی سیٹ اپ وہ ہوتا ہے جس میں ادارے کا قائد، رہبر یا رہنما نہ صرف صلاحیت اور باریک بینی رکھتا ہے بلکہ ایک واضح وژن بھی رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ جو انتظامی عملہ ہوتا ہے، وہ بھی ہمت، اطاعت، صلاحیت اور وژن میں اس کا معاون ہوتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں قیادت اور اطاعت کا حسین امتزاج ادارے کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر دیتا ہے۔ رہبر رہنمائی کرتا ہے اور عملہ دل و جان سے ساتھ دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ بتدریج مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنی منزل کی طرف کامیابی سے بڑھتا ہے۔
دوسرا انتظامی سیٹ اپ وہ ہوتا ہے جس میں عملہ تو صلاحیتوں سے مالامال ہوتا ہے، لیکن قائد یا رہنما میں بصیرت اور وژن کی کمی ہوتی ہے۔ وہ ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے، منزل متعین کرنے، ہمت بڑھانے، حوصلہ افزائی کرنے اور کام لینے کا ہنر نہیں جانتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے ادارے ترقی نہیں کر پاتے۔ بلکہ اگر بظاہر ترقی پر بھی ہوں، تو بتدریج ایک، دو یا پانچ سال میں زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں صلاحیت رکھنے والے نوجوان اور انتظامی افراد اپنے رہبر سے مایوس ہو کر دوسرے اداروں کی طرف رُخ کر لیتے ہیں۔ گویا رہبر کی کم ہمتی و بے صلاحیتی ادارے کے مستقبل پر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔
تیسرے انتظامی سیٹ اپ میں رہبر تو صلاحیت، ہمت و حوصلہ، وژن اور تربیت کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے، مگر اس کے ماتحت عملہ غیر تربیت یافتہ یا کم ہمت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ادارے کی ترقی کا تمام دارومدار اسی قائد یا رہنما پر ہوتا ہے، اگر وہ مستقل مزاجی سے محنت کرے، اپنے عملے کی تربیت کرے، ان کے اندر مقصد کا شعور پیدا کرے، اور وقتاً فوقتاً صلاحیت رکھنے والے نئے نوجوانوں کو اپنے ٹیم میں شامل کرتا رہے، تو بالآخر وہ وقت آتا ہے کہ تمام عملہ اور رہبر ایک ہی پیج پر آ جاتے ہیں۔ یوں ادارہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے اور اس کی بنیادیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔
حضرات گرامی!
ان تینوں سیٹ اپ کی مثالیں آپ کو اپنے گرد و نواح کے اداروں میں بہ آسانی نظر آئیں گی۔ اگر کوئی ان مذکورہ بالا جملوں میں غور کرے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی ادارے کی ترقی میں سب سے بڑا کردار قائد و رہبر کا ہوتا ہے، اگر وہ تربیت یافتہ، وسیع النظر، صبر آزما، بلند حوصلے اور بصیرت والا ہو تو ادارے کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
البتہ ایک قائد، رہبر یا رہنما میں کون سی خوبیاں اور صلاحیتیں ہونی چاہییں؟ یہ ایک مستقل مضمون کا عنوان ہے، جس پر تفصیل سے بات ان شاءاللہ پھر کبھی کریں گے۔