0

چار شادیاں اور ذہنی اذیت /تحریر/سنبل شہزادی

کالم: چار شادیاں اور ذہنی اذیت۔
سنبل شہزادی،سیالکوٹ

دنیا میں انسانی وجود کو سب سے پہلے جس رشتے نے خاندانی ڈھانچے میں ڈالا وہ نکاح ہے۔شادی ایک ایسا حق ہے جس کی آزادی ہر مذہب اپنے اصول و ضوابط کے مطابق دیتا ہے۔کیوں کہ شادی ہر بالغ مرد و عورت کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ شادی ایک ایسا عمل ہے جس سے ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور انسان اپنی پہچان کے لیے مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہوتا ہے۔کیوں کہ خوش گوار شادی شدہ زندگی نہ صرف بہترین رویوں کو فروغ دیتی ہے بلکہ ایک معتدل خاندان کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی ایک ایسا فرض ہے جس کو جتنا جلدی ادا کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے اور اس کی اہلیت کا معیار مرد و عورت کا عاقل و بالغ ہونا ہے۔دینِ اسلام نے شادی کے لیے خاص کر ”کفو کے لحاظ “ کا حکم دیا ہے اور اس میں بھی دین داری کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔کیوں کہ دیگر مذاہب یا نظریاتی فکر رکھنے والوں کے نزدیک شادی کا مقصد صرف مرد و عورت کا اپنی جسمانی ضرورت کو پورا کرنا ہے جبکہ اسلام میں شادی سے مراد ایک ایسا خاندان یا نسل کو وجود میں لانا ہے جو دینِ اسلام کی سربلندی کرے اور حاکمیت الٰہی کی ترجمان بھی ہو۔جبکہ مختلف تہذیبوں کے زیرِ اثر رہنے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شادی کے متعلق عجیب و غریب تصورات جنم لے چکے ہیں۔
اسلام نے شادی میں جس سکون،مودت اور رحمت کے ساتھ ساتھ مرد و عورت کی رضامندی کو بھی لازمی قرار دیا تھا،وہ اب صرف ایک سماجی مجبوری،انا اور ہوس کی تسکین اور صرف ذاتی برتری کا رعب جمانے کے لیے کی جاتی ہے۔ہمارے معاشرے میں روز بہ روز شادی کا مسئلہ ایسا موضوع بنتا جا رہا ہے جو صرف میمز اور شغل بازی اور انسانی رشتوں کی تحقیر کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے۔شادی ہونا یا نہ ہونا تو ایک الگ مسئلہ ہے لیکن جس موضوع کو آج بھی ہمارے ہاں پسندیدہ مشغلہ سمجھا جاتا ہے اور دوستوں کی محفلوں یا بازاروں کی رونق بنایا جاتا ہے، وہ صرف یہی ہے کہ مرد کو تو چار شادیوں کی اجازت ہے۔ہمارے ہاں کوئی سماجی و معاشرتی سرگرمی ہو یا چاہے کوئی خوشی و غم کا موقع ہو؛سب کی زبان پر صرف ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے اور جسے ایک بڑی مشکل سے ملی ہو وہ موصوف بھی شادی کے چوتھے دن یہ درس دے رہے ہوتے ہیں کہ مجھے تو چار کی اجازت ہے۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ چار کی یاد پہلی کے ملنے کے بعد ہی کیوں آتی ہے؟
جبکہ چار شادیوں کی اجازت کس مرد کو ملی اور کس وجہ سے ملی یہ کوئی سمجھنا ہی نہیں چاہتا جس کی وجہ سے ہی طلاق کی شرح بری حد تک بڑھتی جا رہی یے۔حالاں کہ چار شادیوں کی وجہ سے تو معاشرے میں زیادہ امن و سکون کی راہ ہموار ہونی چاہیے تھی۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے لیکن ہر مرد کو نہیں بلکہ صرف وہ جو اس کی استطاعت رکھتا ہو اور آگے ایک شرط رکھی کہ عدل کرنے والا ہو۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کو عدل کا مطلب ہی نہیں معلوم ہے۔عدل سے مراد یہ ہے کہ ایک مرد اپنی جسمانی و ذہنی و مالی استطاعت کے مطابق برابری کرسکے۔دین اسلام نے کبھی بھی عورت پہ ظلم نہیں کیا۔کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک ایسا مرد جس کی مالی استطاعت تو اتنی ہو کہ وہ چار بیویاں رکھ سکتا ہے لیکن ذہنی استطاعت اتنی بھی نہ ہو کہ وہ ایک کے ہی حقوق اچھے سے پورے کر سکے؛تو پھر کیسے وہ چار میں عدل کرے گا؟
ہمارے ہاں شادیوں کے ناکام ہونے کی بڑی وجہ میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے یا بعض دفعہ میاں بیوی میں تو ہوتی ہے لیکن پھر ہمارے مشرقی رسم و رواج انھیں جینے کی آزادی نہیں دیتے۔یہی وجہ ہے کہ آج تیس تیس سال کے مرد و عورت بھی اپنے والدین کے بچے ہی تصور کئے جاتے ہیں اور شادیاں کر دی جاتی ہیں لیکن انھیں شادی کا مطلب اور حقوق نہیں سمجھائے جاتے ہیں۔
دینِ اسلام نے ایک سے زائد شادی کی اجازت معاشرے میں عورت کا کردار و وقار بلند کرنے کے لیے دی تھی، نا کہ پہلی عورت کو تذلیل کا نشانہ بنانے کے لیے۔اسلام نے عورت کو اس کی انفرادی شخصیت کا حق دیا ہے اور عورت کی حساسیت کو جانتے ہوئے اسلام نے مرد کو یہ تعلیمات دی کہ وہ اس کے معاملے میں اللہ سے ڈرے کیوں کہ یہ اللہ کی امانت ہے۔اسلام ایک منظم دین ہے اور اس نے مرد و عورت دونوں کو ہی تزکیہ نفس اور ضبطِ نفس کا حکم دیا ہے۔اسلام نے چار شادیوں کا حکم صرف مرد کی خواہشِ نفس کا خیال کرتے ہوئے نہیں دیا بلکہ اس سے مقصود عورت کی عزت و آبرو کو محفوظ بنانا اور ایک بہترین نسل کی پرورش کرنا تھا۔کیوں کہ اگر چار شادیوں کو صرف مرد کی خواہشِ نفس سے تعبیر کیا جائے اور یہ رجحان پیدا کیا جائے کہ مرد کے اندر ضبطِ نفس کی کمی ہوتی ہے تو یہ وہ غلط تصور ہے جسے ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی سے فروغ دیا جارہا ہے۔تاریخ میں ایسے مرد بھی ملتے ہیں جنھوں نے شادی نہیں کی تو کیا ان کے اندر ضبطِ نفس نہیں تھا۔اگر ایسا ہوتا تو پھر مرد جنگوں کی شان نہ ہوتا اور اگر وہ نفسانی اعتبار سے اتنا کمزور ہوتا تو پھر قوامیت کا مرتبہ اس کے حصے میں نہ آتا۔اصل مسئلہ تربیت کا ہے ہم نے مرد و عورت کی تربیت کی بجائے ان میں شخصی حکومت کو ہوا دے دی ہے۔جس میں دونوں فریقین صرف اپنا اپنا اثر و رسوخ جمانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں بیمار نسل پیدا ہوتی ہے۔
اگر آج بھی معاشرتی طور پہ پاکستان کے بڑے مسائل کا ذکر کیا جائے تو چار شادیوں کا مسئلہ سر فہرست آتا ہے۔جہاں تک بات اجازت کی ہے تو یہ حق اسلام نے مرد کو پہلے ہی دے دیا ہے اور اس کے لیے انھیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن چار شادیوں کے مقاصد کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ہم اسے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔چار شادیوں کے نام پہ عورت کو ذہنی و نفسیاتی سطح پہ رسوا کیا جا رہا ہے۔اسلام سے پہلے بھی زمانہ جاہلیت میں بے شمار شادیاں کرنے کا رواج تھا اور جتنی تذلیل ان کے ہاں عورت کی شادی کے نام پہ ہوتی تھی، شائد ہی کسی اور معاملے میں ہوتی ہو۔عورت کو شادی کے نام پہ ساری زندگی کے لیے باندھ دیا جاتا اور اسے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا۔ان تمام باطل نظریات میں اگر کوئی چیز مشترک تھی تو وہ عورت کی شخصی توہین،اس کے جذبات و احساسات کی تحقیر،اس کی رائے اور پسند ناپسند کی تردید،یہاں تک کہ وہ بس گھر کے کونے میں پڑی ہوئی کسی فالتو چیز کے مترادف تھی جس کا مقصد بس مرد کی ضرورت پوری کرنا تھا۔
جبکہ اسلام وہ دین ہے جس نے سب سے پہلے عورت کی شخصی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے معاشرے میں عزت و وقار کی نشانی قرار دیا۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں پر سے بے شمار شادیوں کے نام پر کئے جانے والے تشدد کا خاتمہ کیا اور شادیوں کی کثیر تعداد کو قلیل کر کے چار تک محدود کیا۔یہ امتیاز بھی اسلام کو ہی حاصل ہے کہ جہاں مرد کو طلاق کا حق ملا تو وہیں دوسری طرف عورت کو خلع اور شادی میں پسند نا پسند کا اختیار بھی دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ جس قدر اسلام نے عملی طور پہ عورت کی جسمانی و ذہنی استطاعت اور اس کے جذبات و احساسات کا خیال رکھا ہے،کہیں اور اس کی مثال نہیں ملتی۔صحابہ کرام رضہ کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارے معاشرے میں میں چار شادیوں کا نعرہ صرف اور صرف طنز و تنقید بن کر رہ گیا ہے۔مرد کو چار کی اجازت ہے اور اگر وہ اس قابل ہے تو ضرور کرے لیکن ہمارے ہاں دوسری یا تیسری شادی کا مطلب ہی یہی ہے کہ پہلے والی میں کوئی “نقص یا خرابی” ہے۔بعض جگہ پہ پہلی والی کو اچھا خاصا ذلیل و رسواء کیا جاتا ہے یا پھر اسے جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور پھر جب عورت کمزور اور مرد بہادر ثابت ہو جاتا ہے تو معاشرہ دوسری شادی کے کاغذوں پہ دستخط کر دیتا ہے کہ پہلی شادی میں چونکہ عورت خراب نکلی تو اب اس مرد کو دوسری شادی کی اجازت ہے۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ معاشرے میں ایسے مرد بھی موجود ہیں جو غیرت اور حیاء کا صحیح مطلب جانتے ہیں اور اگر وہ چار کرتے ہیں تو پھر ان میں بہترین عدل بھی کرتے ہیں۔ان کے نزدیک “مزید” کا مطلب پہلی کی ”تردید“ کرنا نہیں ہوتا ہے۔
شادی ایک ایسا معاملہ ہے جس کو جلد سے جلد کرنے کا حکم ہے نہ کہ اس کی آڑ میں جگہ جگہ خود کو منسوب کرنے اور نفسانی لذت کو پورا کرنے اور دوسروں پر بری نظر رکھ کر،دیگر ازدواجی زندگیوں کو خراب کرنا ہے۔عدد چاہے ”چار“ کا ہو یا ”ایک“ کا اس کا مقصد یہی ہے کہ دونوں فرد اپنے آپ کو بری نظروں سے بچا کر ایک حدود کے پابند ہو جائیں۔
جبکہ ہمارے ہاں ایک عورت کو شادی سے پہلے کئی ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو اس کی شخصیت کو ویسے ہی فراموش کر دیتے ہیں اور پھر شادی کے بعد بھی ساری زندگی اس کے سر پہ ڈر کی یہ تلوار لٹکائی جاتی ہے کہ میں دوسری کر لوں گا۔اسے ہر محفل میں شرمندہ کیا جاتا ہے کبھی نظروں سے اور کبھی لفظی اشاروں سے کہ اگر میری نا مانی تو دوسری لے آؤں گا۔اسے اپنی تمام خوبیوں کے باوجود یہ بار بار باور کروایا جاتا ہے کہ تم کمزور ہو یا تمہارے اندر کمی ہے۔اس سب میں کافی حد تک خود خواتین بھی شامل ہیں جو اپنے بیٹوں کو ایسا رویہ رکھنے پہ مجبور کرتی ہیں۔لیکن جسے اسلام نے قوام بنایا ہے اس پر لازم ہے کہ اپنی عقل و حکمت کا مظاہرہ کرے اور اپنے اندر قوتِ فیصلہ پیدا کرے۔
آج معاشرہ جس نہج پہ چل پڑا ہے اس سے عورتوں کو شادی کے تیس چالیس سال بعد بھی یہی خوف رہتا ہے کہ ہمارے اوپر سوتن نہ آجائے۔
آج کی عورت کے لیے دوسری شادی کو ایک “گالی” بنا دیا گیا ہے کہ اگر اس کے مرد نے دوسری کی ہے تو اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ صحیح عورت نہیں تھی۔
اسلام نے تو جانوروں کے حقوق تک متعین کئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے ان کے سامنے چھڑی تیز نہ کرو کہ اس سے ان میں خوف بڑھ جاتا یا انھیں تکلیف ہوتی ہے۔لیکن عورت کو ہر جگہ پہ دوسری شادی کے نام پہ ذہنی طور پہ تشدد اور تمسخر کا مرکز بنانا،اس کی صلاحیتوں کو ختم کر دیتا ہے اور پھر معاشرے میں ایک کمزور اور بزدل نسل نمو پاتی ہے۔
ہم آج جس محاذ پہ ہیں بحیثیت مرد و عورت ہمیں ایک دوسرے کی تربیت کرنے اور ایک بہادر قوم کو وجود بخشنے کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ ہر چیز کو بس ایک دوسرے کا مذاق بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ عورت میں حسد آجاتا ہے تو یہ چیز اللہ نے فطرتاً عورت میں رکھی ہے یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔روایت میں آتا ہے کہ:
انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت ایک زوجہ (زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی جن کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے خادم کے ہاتھ پر (غصہ میں) مارا جس کی وجہ سے کٹورہ گر کر ٹوٹ گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کٹورا لے کر ٹکڑے جمع کئے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور (خادم سے) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے۔ اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔ آخر جن کے گھر میں وہ کٹورہ ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورہ منگایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نیا کٹورہ ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورہ توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورہ ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5225]
یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ایک بیوی یا چار بیویوں کے حقوق کی حفاظت کیسے کرتا ہے۔کیوں کہ روز ایک نئی کے چکر میں پہلی کو طلاق ملتی ہے اور پھر معاشرہ اتنا بھی مہذب یا تربیت یافتہ نہیں رہا کہ وہ طلاق شدہ کو اپنائے۔چار کا شوق رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا پہلے مطالعہ کریں کہ کیسے آپ نے اپنی بیویوں کی خواہشات کا احترام کیا اور ان سے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔
حدیث میں آتا ہے کہ:
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی مسجد میں چھوٹے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے تھے تاکہ میں آپ کے کان اور گردن کے بیچ سے ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہتے حتی کہ میں ہی وہاں سے ہٹتی تھی، تم نو عمر، کھیل سے شغف رکھنے والی، لڑکی کے کھڑے ہونے کا اندازہ کر لو۔ (کہ وہ کتنی دیر کھڑی ہو سکتی ہے۔) متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3244]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو کھیل دکھایا۔یہاں عمر کا فرق بھی ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ شادی کا مطلب ہی ایک دوسرے کی پسند اور ناپسند کاخیال رکھنا اور احترام کرنا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت خدیجہ رضہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔
اسلام میں شادی کا مطلب کوئی “جوا” نہیں ہے کہ بازی لگاتے جاؤ اور نہ شادی کا مطلب یہ ہے کہ بس وقتی ساتھ اور طلب پوری کی جائے۔ہمیں یہ چیز سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے جو خاندانی نظام کی اعلی شکل پیش کی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی اور شادی کا مطلب ہی “نبھاہ” کرنا ہے۔ایک مرد و عورت کا ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سمیت اسے قبول کرنا اور دونوں کی مل کر آپس میں ایک دوسرے کی اصلاح کرنا ہے۔شادی کا مطلب احساس و ذمہ داری کا ایسا بندھن ہے جس میں دو لوگ اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں۔زندگی میں کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا اور بحیثیت مجموعی قوم ہمیں ان رشتوں کو عزت و مقام دینے کی ضرورت ہے جس کا اسلام نے ہمیں ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور مرد و عورت کو ہوس کی چکی سے نکال کر ایک مضبوط اور باکردار انسان بنانے کی ضرورت ہے۔مرد و عورت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی نظر میں اپنا مقام پیدا کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ “غیرت اور حیاء کا مطلب ہے یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو نہ توڑنا ہے۔”
اگر عورت کا کام ہی بس مردوں کی خواہش کو پورا کرنا ہوتا تو پھر اسلام عورت کو خلع کا حق نہ دیتا۔مردوں کو یہ چیز سمجھنی چاہیے کہ بات صرف چار شادیوں کی نہیں ہوتی بلکہ اپنے اہل خانہ کے بنیادی حقوق بھی پورا کرنے ہوتے ہیں اور پھر اپنی نسل کی تربیت کے فرائض بھی ادا کرنے ہوتے ہیں۔شادی کے موضوع نے مردوں کے اندر سے سنجیدگی اور حیاء کو ختم کر دیا ہے۔جبکہ اس میں زیادہ نقصان خواتین کا ہے کیوں کہ خواتین احساسات میں جکڑی ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کی طرف سے کی جانے والی ہر وقت کی بے قدری اور احساس شرمندگی انھیں کئی اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے اور وہ اپنے خوابوں کو پس پشت ڈال کر بعض دفعہ اپنے ہی اہل و عیال کے سامنے جانے سے کتراتی ہے۔وہ ان محفلوں اور تقریبوں میں جانا چھوڑ دیتی ہیں جہاں ان کے شوہر کی دوسری شادی کو ہی موضوع بنایا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ایک مضبوط عورت کب تنہائی اور بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے شائد مردوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔
ہمارے معاشرے میں زنا اور بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور نکاح جیسے سنجیدہ عمل کو تمسخر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عورت معاشرے کو بنانے والی ہوتی ہے اور آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں کو ذہنی اذیت سے نکالا جائے کیوں کہ وہ جتنا مرضی خود مختار بن جائے،جب تک وہ ذہنی سطح پہ مضبوط اور مطمئن نہیں ہو گی وہ ایک منظم اور متحد خاندانی نظام کو بھی فروغ نہیں دے سکے گی اور پھر ایسے ہی آہستہ آہستہ نکاح کی “حقیقت” خوفناک اور زنا کا “خواب” خوبصورت بنتا جائے گا۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں