0

اسلام آباد سی ایس ایس آفیسر کی موت /تحریر/عابد محمود عزام

اسلام آباد/سی CSS پولیس آفیسر کی موت/تحریر/عابد محمود عزام

کوئی بھی انسان اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہر انسان جینا چاہتا ہے، مگر جب زندگی کے زخم ناسور بن جائیں، امید کے چراغ بجھنے لگیں اور دل کے اندر کا سکون مر جائے تو انسان وہ قدم اٹھا لیتا ہے جس سے وہ خود بھی ڈرتا ہے۔ ہر خو۔ دکشی کے پیچھے کچھ نہ کچھ محرکات ضرور ہوتے ہیں، جو درحقیقت اُس کے اصل قاتل ہوتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے جواں سال افسر اے ایس پی عدیل اکبر کی اچانک موت نے پورے ملک کو افسردہ اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس نے اسے خو۔ دکشی قرار دیا ہے، مگر تفتیش کے آغاز سے پہلے ہی میڈیا پر “خو۔ دکشی” کی خبر جاری کر دینا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ واقعے کے وقت موجود آپریٹر کے بقول عدیل اکبر نے مجھ سے گن چھین کر خود پر فائر کیا، مگر کیا صرف ایک شخص کے بیان پر اتنے بڑے واقعے کا فیصلہ کر دینا درست ہے؟
ایک فعال، متحرک، باصلاحیت اور ذمہ دار افسر اچانک اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے، یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ایک سماجی اور ادارتی سوال ہے۔ اگر یہ واقعی خودکشی تھی تو اس کے پسِ پردہ دباؤ، ناانصافی، یا نفسیاتی جبر کی وجوہات تلاش کرنا ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے اور اگر یہ قتل تھا تو قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا انصاف کا تقاضا ہے۔

اگر اسے خو۔ دکشی تسلیم کر لیا جائے تو ہمیں یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ بظاہر مضبوط، خوش مزاج اور پُرعزم دکھائی دینے والے لوگ بھی اندر سے ٹوٹے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چہروں کے پیچھے چھپے دکھوں کو پڑھنے اور خاموش لبوں کے پیچھے سسکتے دلوں کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید زندگی کے دباؤ، محرومیوں اور ناقدری نے اس نوجوان کو اس قدر تنہا کر دیا کہ موت اسے زندگی سے بہتر محسوس ہونے لگی یا شاید کسی نے اُسے ایسی موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا جس کا فیصلہ وہ خود نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں اپنے سماج میں احساس، اعتماد اور سچائی کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ لوگوں کے دکھ سنیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف کے نظام کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی شخص اپنی زندگی خود ختم کرنے یا کسی کے ہاتھوں ختم ہو جانے پر مجبور نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں