0

کیا عورت کی حکمرانی عذاب ہوتی ہے ؟؟ /تحریر/احسن بودلہ

کیا عورت کی حکمرانی ، عذاب ہوتی ہے ؟؟/تحریر/احسن بودلہ

ملتان شہر کا وہ سفر اور بس میں بیٹھے دو ادھیڑ عمر افراد کی
محترمہ ، مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے پر گفتگو، سماعت میں آج بھی وہی کھنک چھوڑ گئی ، ایک نے کہا، “جدوں زنانیاں حکمران بن جاون تے فیر عذاب آندے نیں ” ۔ میں نے پوچھا تو بابا جی نے وہی سادہ مگر عمیق خیال دہرایا: “زنانیاں دا کم ایہہ تھوڑی ای اے ، اوہ بس گھر سنبھالن “. اس لمحے بے نظیر بھٹو کے زمانے کی وہی پرانی آمادۂِ رائے ذہن میں گھوم گئی اور میں نے سوچا: کتنے برس گزر گئے، مگر ہمارے دل و دماغ میں وہی پدر شاہی تاثر اب بھی گہرا ہے۔ جب روایت اور مذہبی جواز اس تاثر پر نمک چھڑکتے ہیں تو بات مزید پختہ ہو جاتی ہے ، سونے پر سہاگہ۔

مگر جب محترمہ مریم نواز ، وزیر اعلیٰ پنجاب بنی تھیں تو بہت اچھا لگا تھا کیونکہ ، ایک پدر شاہی سماج میں عورت کا کسی ایسی کرسی پر بیٹھنا بذاتِ خود ایک شورِ نئی امید ہے ، چاہے وہ خاتون جتنے بھی بڑے گھرانے سے آئی ہو۔ یہی وہ لمحہ ہے جب سماج کے افق پر نئے سوال اور نئے امکانات نمودار ہوتے ہیں، عورت کے تجربے، عورت کی حساسیت اور عورت کے نقطۂ نظر سے بننے والی پالیسیاں اکثر ایسے زاویے لاتی ہیں جو مرد نظر سے نظرانداز رہ جاتے ہیں۔

محترمہ مریم نواز نے خواتین کی حفاظت کو سرِ فہرست رکھا ، ایک مخصوص ہیلپ لائن، ویمن سیفٹی ایپ اور ورچوئل وومن پولیس اسٹیشن جیسی سہولیات متعارف کروائیں جن کا مقصد خواتین کے خلاف ہراسانی اور تشدد کی شکایات کے مؤثر اور فوری ازالے کو آسان بنانا تھا۔ اس کے ساتھ پولیس سمیت دیگر شعبہ جات میں خواتین کی شرکت کو بہت سراہا گیا ۔ یہ عہدِ سماجی انصاف کی ایک ٹھوس پیش رفت ہے۔ گوکہ اس ضمن میں ابھی مزید کام کرنے بھی اشد ضرورت ہے ۔ مگر یہ سب اقدامات بھی اپنی جگہ پر اہم ہیں ۔

مگر بطور وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز کی توجہ صرف خواتین کے مسائل پر ہی نہیں رہی ۔ صوبائی حکومت نے غیرقانونی تجاوزات کے خلاف بھی سخت مہم چلائی، جس کی وجہ سے عام ووٹرز کا رد عمل بھی سامنے آیا ۔ مگر اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ، جہاں قانون کی بالا دستی بحال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ عوامی سرکاری زمینیں واپس آئیں اور شہر کی رونقیں محفوظ رہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ مہم کے دوران بے گھر ہونے والوں اور روزگار کھونے والوں کی بحالی کے اقدامات کا خیال بھی رکھا گیا ، یعنی نفی کے ساتھ ساتھ مراعاتِ ازسرِ نو کا انتظام بھی کیا گیا۔

اسی طرح ، صحت کے شعبے میں مریم بی بی کی توجہ بھی مخصوص رہی ، سول سطح پر صحت کی سہولتیں مزید قریب لانے کے لئے ‘مریم نواز ہیلتھ کلینکس’ اور موبائل کلینکس یا کلینک آن وہیلز جیسی سکیمیں شروع کی گئیں تاکہ دور دراز اور کم سہولتی علاقوں تک معیاری طبی خدمات پہنچائی جا سکیں۔ یہ وہ قدم ہیں جو طبّی مساوات اور انسانی وقار دونوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ، مریم بی بی کی پنجاب حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے ” ستھرا پنجاب ” اور ” الیکٹرک بسوں ” کے منصوبے بھی بہت لاجواب ہیں کیونکہ ان کا دائرہ کار صرف بڑے شہروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کو چھوٹے شہروں ، حتیٰ کہ گاؤں کی سطح پر بھی پھیلایا گیا ہے ۔ یہ منصوبے ماحول کو بہتر کرنے کے حوالے سے کافی اہم ہیں ۔ پھر وزیر اعلیٰ کی طرف سے طلبہ میں سکالر شپس اور لیپ ٹاپس کی تقسیم اور مختلف تعلیمی اداروں میں جا کر طلبہ سے تبادلہ خیال کرنا بھی خوش آئند ہے ۔

مزید برآں، صوبائی حکومت نے عوامی بہبود کے ادارتی ڈھانچوں میں اصلاح کے لیے نیا محکمہ اور نفاذی ادارے قائم کئے، جیسے کہ پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولٹری اتھارٹی (PERA)، تاکہ ناصحیح ٹھوس اقدامات کو منظم طریقے سے نافذ کیا جا سکے اور قانون شکنی کے خلاف باقاعدہ اور شفاف کارروائی ممکن ہو۔ یہ ادارتی قدم منصوبہ بندی اور شفافیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

حال ہی میں جو قدم صدارتی/وفاقی رابطے کے ساتھ زیرِ غور آیا ہے ، وہ مذہبی انتہاپسند تنظیموں خاص طور پر ٹی ایل پی کے خلاف کڑی کارروائی، اس پر پابندی کی منظوری اور متعلقہ تجاویز کو وفاقی سطح پر بھیجنا تھا۔ یہ فیصلہ اس لئے اہم ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ہمارے ہاں کئی بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے اور کئی توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات میں جیل گئے۔ ایسی صورت میں پھر امنِ عامہ اور آئینی حدود کی پاسداری کے سوالات صرف انتظامی یا نظریاتی نہیں رہتے بلکہ عملی طور پر عوامی سلامتی سے بھی جڑ جاتے ہیں ۔

سب ملا کر دیکھا جائے تو محترمہ مریم نواز کی حکومت میں یہ اقدامات ، خواتین کی حفاظت کے لئے ڈیجیٹل اور حقیقی سہولتیں، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جو شہری آبائی وسائل کو محفوظ بنائیں، صحت کی بنیادی خدمات کی توسیع، اور ادارتی اصلاحات ، ایک ایسے منظرنامے کی بنیاد رکھتے ہیں جہاں عورت بطور حکمران صرف علامت نہیں بلکہ ایک فعال ہاتھ بن کر نمودار ہو رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کے باوجود ، ان تمام منصوبوں پر عمل درآمد اور مختلف معاملات پر واضح موقف ، محترمہ مریم نواز کی مضبوط قوت فیصلہ کی دلیل بھی ہے ۔ ظاہر ہے ہر سیاسی رہنماء کی خامیاں بھی ہوتی ہیں، تشہیر کی شدید خواہش یا دیگر کمزوریاں ، مگر اُن کے بعض فیصلے، بالخصوص جب وہ خواتین کے تحفظ اور عوامی مفاد سے متعلق ہوں، ہمیں غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

آخر میں وہی کہنا تھا کہ جو بس کے اس محاورتِ عام سے شروع ہوا تھا: عورت کو “صرف گھر” تک محدود سمجھنا تاریخ کے کندھوں پر بیٹھے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ جب عورت قانون بنائے، عدالتوں میں آواز اٹھائے، یا صحت و تحفظ کے منصوبے چلائے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے روشنی کھڑی کرتی ہے۔ اور یہ روشنی، چاہے کبھی ستم و تنقید کا نشانہ بنے، پھر بھی روشنی رہتی ہے، اندھیروں میں راستہ دکھانے والی۔ اور کسی عورت کے حکمران بننے سے اگر ایسے عذاب آتے ہیں تو ایسے عذاب ،، سر آنکھوں پر ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں