0

جامعہ خیر المدارس ملتان کا فضلاء اجتماع/تحریر/محمد زبیر

جامعہ خیرالمدارس ملتان کا فضلاء اجتماع/تحریر/محمد زبیر

کل ہماری مادرِ علمی جامعہ خیرالمدارس ملتان کے گذشتہ بیس برسوں کے فضلائے کرام کا اجتماع منعقد ہوا۔ جامعہ میں اس نوعیت کا اجتماع پہلی بار ہوا، اور پہلا ہی تجربہ فضلا کی پُرجوش، بھرپور اور وقار آفریں شرکت، اکابر کے نظریہ ساز، رہ نما اور ولولہ انگیز بیانات، اور جامعہ کی انتظامیہ کے حسنِ انتظام، خوش سلیقگی اور دقّتِ تدبیر کے انمٹ نقوش چھوڑ گیا — فالحمد للہ ربّ العالمین!

اس اجتماع میں جن فضلائے کرام کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، ان میں سب سے قدیم جماعت وہ تھی جس کا ایک فرد ہونے کا فخر ہمیں بھی حاصل ہے۔ “فخر حاصل ہونے” پر ادا جعفری یاد آگئیں —

یہ فخر تو حاصل ہے، بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں ۔

اس اجتماع کے توسط سے اپنے بعض ہم مکتبوں سے — رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد — گویا بیس سال بعد پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وہ چہرے جو تب شباب کی رعنائیوں سے گلنار تھے، اب ہَرم و کہولت کی متانت نے انہیں باوقار بنا دیا ہے۔

یہ اجتماع جامعہ خیرالمدارس کی پُرشکوہ، دیدہ‌زیب، خوش‌نما اور جمالیاتی ذوق کو تسکین بخشتی جامع مسجد میں منعقد ہوا۔ تلاوت و نعت کے بعد حضرت مہتمم صاحب کے ترحیبی کلمات سے تقریب کا آغاز ہوا۔ جامعہ کی تاریخ اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جب حضرت مہتمم صاحب نے اُن اساتذہ کرام کا ذکر کیا جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، تو خیال ہمیں بیس سال پہلے کے خیرالمدارس میں لے گیا — جہاں ہم نے کئی ایسی ہستیوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا جن میں سے ہر ایک اپنی ذات میں ایک ادارہ تھی۔

جامعہ کے اکابر اساتذہ نے جامعیت و اختصار کے ساتھ نہایت کارآمد، مفید اور حکیمانہ نصائح فرمائیں، جنہیں “جوانانِ سعادت‌مند” نے “پندِ پیرِ دانا” سمجھ کر بگوشِ دل سنا اور انہیں حرزِ جان بنانے کا عزم کیا۔

جامعہ کے بعض قدیم اور نامور فضلائے کرام نے اپنی مادرِ علمی کو جس جوشِ محبت، وفورِ جذبات اور کمالِ عقیدت کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا، اسے سن کر جامعہ خیرالمدارس کے ہر فاضل نے اپنے دل میں جامعہ سے وابستگی پر شکرآمیز فخر کے جذبات محسوس کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں