ماحولیاتی تبدیلی عصر حاضر کا وہ سنگین ترین مسئلہ ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ محض ایک بحث نہیں، بل کہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی نقشے پر پاکستان کا جغرافیائی وقوع اسے ان خطوں میں شامل کرتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی اداروں، بہ شمول جرمن واچ کے گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کی رپورٹس میں پاکستان کو مسلسل ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا ہے جو ماحولیاتی تغیرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر اس کا خمیازہ اسے دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الممالک پینل بہ رائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی حالیہ رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز کر دی ہے۔ پاکستان، جہاں قطبین کے باہر دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں، اس رجحان سے بہ راہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں برف باری کے پیٹرن میں تبدیلی اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں گلوف یعنی گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف بالائی علاقوں میں تباہی مچا سکتی ہے، بل کہ دریائے سندھ کے پورے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے، جس پر پاکستان کی زراعت اور معیشت کا مکمل انحصار ہے۔
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کا ایک ہول ناک رخ غیر متوقع اور شدید بارشوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ سال 2022 کے ملک بھر میں سیلاب اس کی واضح مثال ہیں، جسے عالمی ماہرین نے مونسون آن سٹیرائڈز قرار دیا تھا۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کی تحقیق کے مطابق، انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی تپش نے ان بارشوں کی شدت میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔ اس سیلاب کے نتیجے میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا، لاکھوں مکانات تباہ ہوئے اور معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا، بل کہ اس مسلسل موسمیاتی بگاڑ کا تسلسل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے ملک میں خشک سالی اور سیلاب کے باری باری چکروں کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔
زراعت، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بدلتے ہوئے موسموں نے فصلوں کی کاشت اور کٹائی کے روایتی اوقات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہیٹ ویوز یا گرمی کی لہروں کے اچانک آنے سے گندم اور آم جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر درجہ حرارت میں اضافے کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں مستقبل قریب میں بڑی گراوٹ آ سکتی ہے۔ غذا کے تحفظ کا بحران ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی مشکل تر ہو چکی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ہے۔ پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو رہا ہے۔ ایک طرف سیلاب تباہی پھیلاتے ہیں تو دوسری طرف سال کے باقی حصوں میں دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی اور بارشوں کے غیر یقینی ہونے نے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے اپنی رپورٹس میں خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کے انتظام کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو مستقبل میں خشک سالی کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صحت عامہ پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بڑھتی ہوئی تپش اور ہوا کے معیار میں تنزلی نے سانس کی بیماریوں، ہیضے اور ملیریا جیسے امراض کے پھیلاؤ میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں اربن ہیٹ آئی لینڈ کا اثر بڑھ رہا ہے، جہاں کنکریٹ کی عمارتوں اور درختوں کی کمی کی وجہ سے درجہ حرارت دیہی علاقوں کی نسبت کئی ڈگری زیادہ رہتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں اسموگ کا مسئلہ، جو اب پنجاب کے میدانی علاقوں کا مستقل حصہ بن چکا ہے، درحقیقت اسی ماحولیاتی بگاڑ اور فضائی آلودگی کا مجموعی نتیجہ ہے، جو انسانی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔
اس سال کے آغاز میں موسم سرما کا غیر معمولی طور پر طویل ہونا اور پھر اچانک اپریل کے مہینے میں ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے موسمیاتی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس سال موسم گرما میں شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث بالائی علاقوں میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ آنے والے مون سون سسٹم کے حوالے سے عالمی موسمیاتی اداروں کی پیش گوئیاں کافی تشویش ناک ہیں۔ بحر الکاہل میں ایل نینو (El Niño) کے خاتمے اور لا نینا (La Niña) کی ممکنہ واپسی کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔
اس سنگین صورت حال کا حل مختصر مدت کی پالیسیوں میں نہیں، بل کہ طویل المدتی قومی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کو عالمی فورمز پر اپنی آواز مزید موثر انداز میں اٹھانی چاہیے تاکہ کلائمیٹ جسٹس یا موسمیاتی انصاف کے تحت بڑے صنعتی ممالک سے فنڈز اور ٹیکنالوجی کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ نقصان کے ازالے کے لیے فنڈ کا نظام کسی حد تک موجود ہے، لیکن اس کی شفاف اور فوری رسائی کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔ اسی طرح مقامی سطح پر شجر کاری کی مہمات کو صرف کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر مقامی درختوں کی اقسام اور ان کی دیکھ بھال پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ہریالی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
پانی کے ذخائر کی تعمیر اور موجودہ نہری نظام کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھوٹے ڈیمز اور پانی کے انتظام کے جدید طریقے اپنا کر ہم سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں اور خشک سالی کے دوران اسے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ زراعت کے شعبے میں ایسی فصلوں کی ترویج ضروری ہے جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور بدلتے درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ توانائی کے شعبے میں کوئلے اور تیل پر انحصار کم کر کے شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے ماحول دوست ذرائع کی طرف منتقلی ناگزیر ہے۔ شہروں کی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی پہلوؤں کو اولیت دینا ہوگی، جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ اور سبزہ زاروں کا تحفظ شامل ہو۔ سب سے بڑھ کر، تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی آگاہی کو شامل کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ معزز قارئین! پاکستان کے لیے ماحولیاتی تبدیلی اب صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بل کہ معاشی اور سماجی سلامتی کا مسئلہ ہے، جس کا حل اجتماعی ذمے داری، سائنسی تحقیق، عملی شعور اور سیاسی عزم میں مضمر ہے۔ اگر بروقت اصلاحات اور اقدامات نہ کیے گئے تو بعید نہیں کہ آنے والا وقت پاکستان کو معاشی اعتبار سے مزید غیر مستحکم کر دے۔
0