
سماج اور معاشرے میں نوجوان نسل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے، جو قوم وملت کی فلاح وبہبود میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ لیکن جب وہ خوابِ خرگوش کی نیند سو جائیں، تو قوم کا عروج، زوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سماج میں اصلاح اور بیداری کی بجائے ژولیدہ فکری کی جڑیں پھیلنے لگتی ہیں، بے حیائیوں اور فحاشیوں میں آئے دن اضافہ ہونے لگتا ہے۔ معاشرہ بدامنی کا منظر پیش کرتا ہے۔ سسٹم تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب قوم کے معمار ہی غلط راستے کا انتخاب کر لیں تو قومیں کے مقدر میں تباہی لکھ دی جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے معمارانِ وطن کس راہ پر چل نکلے ہیں۔ لاابالی پن، پُرتعیش زندگی کے خواب کا نتیجہ ان کی زندگی کی بربادی پر رکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے ایک موضوع تواتر کے ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر زیرِ بحث ہے کہ تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کے استعمال میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اعداد وشمار تشویش ناک صورت حال کو ظاہر کر رہے ہیں۔
لیکن کیا کیجیے ہماری ازلی بے پروائی کا، جو ہر مسئلے کو حل کرنے میں آڑے آ جاتی ہے۔ ذمہ داران شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلے کے حل کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور بات ختم۔ شاید ہمیں صورت حال کی نزاکت کا اندازہ ہی نہیں ہو رہا ہے۔
سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منشیات کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور اشیاء کے عادی ہیں۔ نوجوان چونکہ پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس لیے نشے کے عادی افراد میں بھی ان کی شرح زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 44 ٹن ہیروئن استعمال کی جاتی ہے، جو امریکا میں استعمال ہونے والی ہیروئن سے تین گناہ زیادہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق چالیس لاکھ افراد بھنگ کے نشے میں مبتلا ہیں جبکہ 90 لاکھ کے قریب ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں روزانہ 700 افراد نشے کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جو دہشت گردی سے مرنے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
نشے کے عادی نوجوانوں میں لڑکیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جو ایک انتہائی تشویش ناک رجحان ہے۔ صرف چند مایہ ناز تعلیمی ادارے ہیں، جہاں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کی گئی ہے۔ اس سے بڑے دکھ کی بات کیا ہوگی کہ وہ ادارے، جنہیں ہماری نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا، وہ نشے کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ جو شرم یا جھجک بچوں میں ہو سکتی تھی، اساتذہ ان کے سامنے نشہ کر کے وہ بھی ختم کر دیتے ہیں۔
نشہ آور اشیاء کا نئی نسل میں بڑھتا ہوا استعمال مالی لحاظ سے بہتر طبقے میں زیادہ ہے۔ ایسے گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو ماں باپ ضرورت سے زیادہ آسائشیں دے کر انہیں اتنا آرام پسند بنا دیتے ہیں کہ یہ زندگی کی تلخیاں برداشت کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے اور جلد ہی ہمت ہار دیتے ہیں اور خود کو نشے میں گم کر کے اس مشکل سے فرار حاصل کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ نشہ کرنا ان کے سرکل میں “نیو کول” تصور کیا جاتا ہے۔ پیسے کی فراوانی، والدین کی قربت اور نگرانی سے محروم یہ بچے نہ صرف خود نشے کا استعمال کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو فخر سے اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔کیونکہ یہ بچے اپنے والدین کو بھی کسی نہ کسی قسم کا نشہ کرتے دیکھتے ہیں۔ نئی نسل میں تیزی سے فروغ پانے والا نشہ ”کرسٹل میتھ“ ایک تباہ کن ہتھیار ہے۔ جو ہمارے بچوں کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، جبکہ 16 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ لاہور میں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیا گیا، جس کے بعد سینیٹ سمیت ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی لیکن ابھی تک اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
میڈیا کی جانب سے بار بار اس اہم مسئلے کو اٹھائے جانے کے باوجود متعلقہ ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ لمحۂ فکریہ اور المیہ یہ ہے کہ بعض نشہ آور چیزیں جیسے سگریٹ، نسوار اور چرس آج اتنی عوامی ہوچکی ہیں کہ انہیں قومی نشے کا درجہ دیا جانے لگا ہے جبکہ اس فہرست میں اب میں آئس اور کرسٹل میتھ کا اضافہ بھی عمل میں آچکا ہے۔ چند سال قبل”شیشہ“ کی وبا پھیلی لیکن حکومت کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے اس میں کمی دیکھنے میں آئی۔
آئس کی ایک پڑیا مارکیٹ میں پانچ سے دس ہزار روپے میں فروخت ہونے کے باوجود طلبہ میں اس کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ آئس کی مقبولیت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسے استعمال کرنے والا چار دن تسلسل کے ساتھ جاگ سکتا ہے اسی لیے بیشتر طلبا امتحانات کی تیاری کے لیے آئس کا استعمال کرتے ہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ تعلیمی اداروں خصوصاً ہاسٹلوں میں رہنے والے طالبعلم سگریٹ میں آئس بھر کر پیتے ہیں جبکہ یہ نشہ انجکشن کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہاسٹلوں میں رہنے والی لڑکیوں کی اکثریت نشے کی عادی ہے، تاہم ان میں نشہ آور چیونگم کا استعمال زیادہ عام ہے اور پاکستان میں تھائی لینڈ اور یورپ سے درآمد شدہ ”فلیتو“ نامی چیونگم نوجوانوں میں مقبول ہورہی ہے۔ جسے 500 سے 1200 روپے تک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اسے چبانے والے طلبہ گھنٹوں نشے میں دھت رہتے ہیں۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسکولوں میں نشے کے عادی بیشتر طلبا کا تعلق امیر گھرانوں سے ہے جو منشیات کے استعمال کو فیشن سمجھتے ہیں، لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل منشیات کو برا نہیں سمجھتی اور نہ ہی انہیں اس کے مضمرات سے آگاہی حاصل ہے۔ منشیات کے عام ہونے میں اس کی آسانی سے دستیابی کا اہم کردار ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے جنرل اسٹورز، کینٹین، فروٹ شاپس، ہوٹل، لانڈری، بچوں کو لانے لے جانے والے ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیورز اور باربر شاپس پر کام کرنے والے ملازمین منشیات کی فراہمی میں پیش پیش ہیں۔ بلکہ کچھ نجی تعلیمی اداروں کے گارڈز بھی اس کام میں ملوث پائے گئے ہیں۔ منشیات فروشوں نے نئے دور کے ساتھ زہر بیچنے کا انداز بھی جدید کر لیا ہے۔ آج فیس بک، واٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع منشیات کی ترسیل کا موثر ترین ذریعہ ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں۔ منشیات کے عادی افراد میں 13سے 24سال کے لوگ شامل ہیں جو ایک یا ایک سے زائد بار نشے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ پاکستان میں امیر اور غریب افراد کے نشے میں واضح فرق ہے کیونکہ نشہ اب سستا نہیں ہے۔ پیسے والا طبقہ آئس کرسٹل، میتھ ، حشیش اور ہیروئن کے ساتھ ساتھ مختلف دواؤں کا استعمال کرنا پسند کرتا ہے جبکہ متوسط طبقے وا لے فارماسیوٹیکل ڈرگز، شراب، چرس، پان، گٹکا، نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔
اس ضمن میں کیے گئے آخری قومی سروے (2002 تا 2003) کے مطابق ہیروئن کی لت میں مبتلا افراد کی اوسط عمر 26 سال سے کم ہو کر 22 سال تک کی تشویشناک حد پر پہنچ گئی ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین بالخصوص مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ہے اور یہ شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اس وقت مقبول ترین نشے میں سرفہرست سگریٹ نوشی ہے جسے لوگ نشہ سمجھتے ہی نہیں ہیں، سگریٹ سے آگے بڑھ کر بات شراب نوشی، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیا تک جا پہنچتی ہے۔ ایک ایسی ہی مالدار خاتون نے سگریٹ نوشی کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ”یہ ان کے لیے اسٹیٹس ”کی علامت ہے اور انہیں اپنے مغربی طرز کے رہن سہن کو برقرار رکھنے کی خاطر یہ سب کرنا پڑتا ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔“
نشے کی عادت جہاں انسانی تباہی کا باعث بنتی ہے وہیں کئی معاشرتی اور سماجی برائیوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ منشیات کے عادی افراد میں ایک جانب زمانے کے ٹھکرائے ہوئے یا ناکامی کے بوجھ تلے افراد شامل ہیں جو صرف راہ فرار تو دوسری جانب شوقیہ نشہ کرنے والے دولت مند ہیں جو اپنی روزمرہ زندگی میں کسی تبدیلی یا ایڈونچر کی غرض سے نشہ کرتے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد ایسی کم عمر لڑکیوں کی ہے جو مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں اور ان کے دوستوں میں نشہ آور اشیا کا استعمال عام بات ہے اسی وجہ سے بیشتر لڑکیاں دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جبکہ ایک بڑی تعداد وزن پر قابو پانے کرنے کے لیے چرس کا نشہ کرتی ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق ایسی خواتین کے مسائل کو اُن کے سماجی تربیت کے مختلف پہلوؤں مثلاً نسل پرستی، ہم جنس پرستی اور غربت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کوششیں کریں۔ منشیات کے مکمل خاتمے کے لیے، منظم تعلیم اور معاشرے کی مسلسل حمایت ضروری ہے جبکہ شعور و بیدار کرنے کے پروگرام مرتب کرنے اور ان پر مؤثر عمل درآمد کی بھی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے معاشرے کے ہر فرد کے لیے بہتر اور زیادہ خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں والدین سب سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیوں کہ اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں کہ بچوں کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور تربیت کا عمل گھر ہی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر والدین بچوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہوئے انہیں درست و غلط کی تمیز سکھائیں تو بہت سے مسائل سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ والدین کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں، ان کے بدلتے ہوئے رویے اور معمولات پر نظر رکھیں اور کوئی بھی غیر معمولی بات سامنے آنے پر فوری ایکشن لیں۔ جبکہ بچوں کی متواتر کاﺅنسلنگ بھی کرتے رہیں اور ان سے دوستانہ رویہ رکھیں۔ ایک تحقیق کے مطابق بچوں کی اکثریت تنہائی کی وجہ سے نشے کا سہارا لیتی ہے کیونکہ جب انہیں والدین کی طرف سے وقت اور توجہ نہیں ملتی تو وہ ایسی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، ان کی حفاظت اہم قومی ذمہ داری ہے لہٰذا ملک کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاﺅ اور استعمال کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا ضروری ہے۔
گزشتہ کئی ایسی رپورٹس میں منشیات کے اعداد و شمار، ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں پر اثرات سے متعلق خوفناک معلومات فراہم کی گئی تھی۔ اگر حکومت، عوام اور والدین نے مل کر اس وبا کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا نہ کیا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں، لہٰذا حکومت ہنگامی بنیادوں پر منشیات کے خلاف سخت قانون سازی ، حکومتی سطح پر آگاہی مہم چلانے کے علاوہ لا اینڈ آرڈر نافذ کرنے والے اداروں اور اینٹی نارکوٹکس فورس کو پابند کرے کہ وہ تعلیمی اداروں کو ایسے عناصر سے پاک کرے۔