چند روز سے سفیرِ نعت، بانی و چیئرمین پاکستان نعت کونسل، حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی رفاقت میں جنوبی پنجاب کے جماعتی دورے کی مبارک ساعتیں نصیب ہو رہی تھیں۔ یہ سفر محض ایک جماعتی مصروفیت نہ تھا بلکہ اکابرینِ دین کی علمی و روحانی نسبتوں سے فیض یاب ہونے، اہلِ علم و فضل کی مجالس میں حاضری دینے اور ان مراکزِ علم و عرفان کی زیارت کا ایک حسین ذریعہ تھا جنہوں نے برصغیر کی دینی، علمی اور اصلاحی تاریخ میں سنہری نقوش ثبت کیے ہیں۔
مختلف شہروں، قصبوں اور علمی مراکز سے گزرتے ہوئے ہمارا قافلہ کہروڑ پکا پہنچا، جس کی مختصر روداد گزشتہ قسط میں نذرِ قارئین کر چکا ہوں۔ وہاں سے روانگی ہوئی تو سفر نے ایک نئی کروٹ لی اور بہاولپور کی سرزمین سے گزرتے ہوئے ہم بالآخر خانپور پہنچ گئے؛ ایک ایسا شہر جو علم، دین، خانقاہی روایات اور اکابرینِ امت کی نسبتوں کے حوالے سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔
خانپور پہنچتے ہی ہماری پہلی حاضری جامعہ عبداللہ بن مسعودؓ میں ہوئی جہاں خانوادۂ درخواستی کی ممتاز علمی و دینی شخصیت، حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت سخت علیل تھے، مگر چہرۂ انور پر نمایاں بشاشت، شفقت اور اپنائیت کی وہ کیفیت موجود تھی جو اہلِ اللہ کا خاصہ ہوتی ہے۔ بیماری جسم کو کمزور کر سکتی ہے، مگر مردانِ خدا کے حوصلوں، محبتوں اور روحانی وقار کو نہیں۔
جامعہ عبداللہ بن مسعودؓ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ دعوت، اصلاح، تربیت اور دینی شعور کا ایک عظیم مرکز ہے۔ خصوصاً اس کا سالانہ سہ روزہ اجتماع گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر کے اکابر علماء، مشائخ عظام اور دینی قائدین شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس اجتماع کے مبارک اسٹیج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اکابرینِ دیوبند کی بے شمار نامور شخصیات یہاں جلوہ افروز ہوئیں اور اپنے علوم و معارف سے ہزاروں دلوں کو منور کرتی رہیں۔
حضرت مفتی حبیب الرحمن درخواستی دامت برکاتہم العالیہ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا تو اکابرین کے تذکروں، ماضی کی دلنشین یادوں اور علمی گفتگوؤں کا ایک روح پرور سلسلہ شروع ہوگیا۔ سفیرِ نعت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی اپنی سابقہ حاضریوں اور دیرینہ تعلقات کا ذکر فرمایا۔ کبھی علمی نکات زیرِ بحث آتے، کبھی اکابرین کے ایمان افروز واقعات سنائے جاتے اور کبھی لطائف و ظرائف کی چاشنی ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیتی۔ حضرت نے اپنی ناسازیٔ طبع کے باوجود نہایت محبت کے ساتھ ناشتے کا اہتمام فرمایا اور یوں مہمان نوازی کی وہ روایت زندہ کر دی جو اہلِ علم و خانقاہ کا امتیاز سمجھی جاتی ہے۔
اس مبارک ملاقات کے بعد ہم جامعہ امداد العلوم خانپور پہنچے جہاں خطیب العصر، حضرت مولانا علامہ عبدالکریم ندیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت بھی علالت کے باوجود علمی انہماک، مہمان نوازی اور شفقت کے پیکر نظر آئے۔ اس موقع پر حضرت کے صاحبزادۂ گرامی مولانا اسد ندیم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی اور نہایت مفید علمی گفتگو کا موقع ملا۔
اسی دوران دین پور شریف حاضری کا ذکر آیا تو حضرت سے اجازت طلب کی گئی۔ حضرت نے نہایت شفقت کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی اور ازراہِ محبت ارشاد فرمایا کہ واپسی پر قیام جامعہ امداد العلوم ہی میں ہوگا۔ مزید کرم فرماتے ہوئے فوراً اپنے ڈرائیور کو ہدایت جاری فرمائی کہ مہمانوں کو دین پور شریف پہنچایا جائے۔ حضرت کی اس بے ساختہ محبت، خلوص اور اپنائیت نے دلوں کو بہت متاثر کیا اور ہم دعاؤں کے ساتھ دین پور شریف کی جانب روانہ ہوگئے۔
دین پور شریف روانگی سے قبل راقم نے یہ خواہش ظاہر کی کہ شیخ درخواستی رحمہ اللہ کی قائم کردہ عظیم علمی درسگاہ ’’مخزن العلوم‘‘ کی زیارت بھی کی جائے۔ چنانچہ اس تاریخی مرکز میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے علمی ماحول، تعلیمی روایات اور اکابرینِ درخواستی کی یادگار نسبتوں کا مشاہدہ کیا۔ قدیم در و دیوار، علمی فضا اور اکابرین کے نقوش گویا آنے والوں کو علم و عمل کی ایک درخشاں تاریخ سنا رہے تھے۔
واپسی پر سفیرِ نعت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ خانپور شریف کی حاضری اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک یہاں کی مشہور سوغات سے لطف اندوز نہ ہوا جائے۔ چنانچہ انہوں نے خانپور کے معروف کھوئے والے پیڑوں سے تمام رفقائے سفر کی تواضع فرمائی۔ یوں اس علمی و روحانی سفر میں مقامی محبتوں کی شیرینی بھی شامل ہوگئی۔
شام ڈھلتے ہی جامعہ امداد العلوم واپسی ہوئی۔ اگلی صبح ناشتے کے وقت حضرت مولانا علامہ عبدالکریم ندیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ بنفسِ نفیس تشریف لائے اور نہایت محبت و شفقت کا اظہار فرمایا۔ ناشتے کے بعد دوبارہ علمی و فکری گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ دورانِ مجلس راقم نے دین پور شریف کی تاریخ، وہاں کے اکابرین اور علمی و روحانی خدمات کے حوالے سے متعدد سوالات حضرت کی خدمت میں پیش کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت محققانہ، مدلل اور حکیمانہ انداز میں مرحمت فرمائے۔ ان قیمتی گفتگوؤں سے استفادہ کرتے ہوئے علم و تحقیق کے کئی نئے دریچے وا ہوئے اور حضرت کے علمی تبحر کا ایک اور روشن پہلو سامنے آیا۔
اسی بابرکت نشست میں حضرت نے راقم کو اپنی عالی سندِ اجازتِ حدیث سے نوازا جو سترہ واسطوں کے ساتھ سید الانبیاء، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔ یہ میرے لیے اس پورے سفر کی عظیم ترین سعادتوں میں سے ایک سعادت تھی جسے میں اپنے لیے سرمایۂ حیات اور ذخیرۂ آخرت سمجھتا ہوں۔
بعد ازاں حضرت نے جامعہ کے استاذ، معروف کالم نگار حضرت قاری عرفان الاختر صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے بھی ملاقات کروائی۔ ان سے علمی، ادبی، صحافتی اور فکری موضوعات پر نہایت مفید گفتگو ہوئی جس سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یوں خانپور کی یہ حاضری اہلِ علم کی صحبتوں، اکابرین کی نسبتوں اور محبتوں بھری یادوں سے مزین ایک یادگار باب بن گئی۔
تاہم اس سفر کا ایک نہایت اہم، روح پرور اور ایمان افروز باب ابھی باقی تھا۔
جامعہ امداد العلوم میں دورانِ قیام جب دین پور شریف کا تذکرہ چھڑا تو دل میں اس تاریخی اور روحانی بستی کی حاضری کا اشتیاق مزید بڑھ گیا۔ حضرت مولانا عبدالکریم ندیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی دعاؤں اور اجازت کے ساتھ ہم اس جانب روانہ ہوئے؛ اُس سرزمین کی طرف جہاں سلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیہ کے فیوض آج بھی طالبانِ حق کے دلوں کو منور کر رہے ہیں، جہاں اکابرینِ امت کے مزارات اہلِ محبت کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور جہاں تاریخ، روحانیت اور نسبتِ اکابر ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔
دین پور شریف کی گلیوں میں بکھری ہوئی روحانی خوشبو، حضرت میاں مسعود احمد دین پوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت، حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ سمیت دیگر اکابرین کے مزارات پر حاضری، تاریخی قبرستان کی زیارت اور وہاں حاصل ہونے والی قلبی کیفیات ان شاء اللہ سفرنامے کی آئندہ قسط میں نذرِ قارئین کی جائیں گی۔
خانپور کی یہ ساعتیں اگرچہ اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نئے روحانی باب کا آغاز تھیں۔