خسرِ نبیؐ صلی اللہ علیہ وسلم
دامادِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ
میرے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ میرے پسندیدہ ترین صحابی ہیں. واللہ وجہ کا علم نہیں. بس کچھ عشق دل میں کھبے ہوئے ہوتے ہیں. جیسا امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ہے. کچھ علم نہیں لیکن عشق ہے. بس یہی کیفیت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد سب سے پیارے یہی دونوں ہیں.
مجھے عمر پرفیکٹ مرد لگتے ہیں. جری، بے خوف، منصف مزاج، مضبوط، اپنے ارادوں پہ اٹل رہنے والے. جنگوں کے درمیان سپہ سالار معذول کردیا. سپہ سالار بھی کون. سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ. سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے جید صحابی کو کوفے کی گورنری سے ہٹا دیا. حمص کے گورنر کو عہدے سے ہٹا کر اونٹ چرانے پہ لگا دیا. ایسے فیصلے کرنا اور اس پہ ایسا عمل درآمد کرانا کہ کسی کو حکم عدولی کی جرآت تک نہ ہو کسی معمولی شخص کے بس کی بات نہیں.
سیدنا عمر گلے بان تھے لیکن بائیس لاکھ مربع کلومیٹر کا رقبہ فتح کیا تھا. اس میں اس وقت کے سپر پاور ایران اور روم بھی شامل تھے. مسجد اقصٰی کو مسلمانوں کی تحویل میں دینا اسی مرد جری کا کارنامہ ہے.
لیکن وہی عمر جب زوجہ غصہ کریں تو ہنس کر ٹال دیں. دو چادروں کا بھی حساب دیں. جب ایک بڑھیا کہے کہ تم کون ہوتے ہو مہر کی رقم مقرر کرنے والے جب نبی نے نہیں کی تو فوراً اپنی غلطی تسلیم کرلیں.
میرے عمر تو وہ ہیں جنہیں خود نبی کریمﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا میں مانگیں. جب مسلمان ہوۓ اور نماز کا وقت ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا صحابہ تیاری کرو نماز کی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا حضور نماز کہاں پڑھیں گے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کسی کونے میں پڑھتے ہیں. عمر فاروق نے کہا حضور آپ کے قدموں پہ میرے ماں باپ قربان، آگر اب بھی بیت اللہ میں نماز نہ پڑھیں تو عمر کے مسلمان ہونے کا کیا فائدہ؟ عمر فاروق نے کہا حضور آج نماز کعبۃ للہ میں پڑھیں گے. حضور ﷺنے فرمایا عمر کفار کا بڑا غلبہ ہے. عمر کہیں کہ میں دیکھتا ہوں کس کافر کی جرآت ہوتی ہے جو ہمارا راستہ روکے. با سلامت بیت اللہ کے دروازے پر پہنچے جب بیت اللہ کا دروازہ کھلا تو میرے نبی ﷺ نے خوشی میں نعرہ تکبیر خود بلند کیا. اللہ اکبر کی صدائیں مکہ مکرمہ میں گونجتی ہوئی آسمان کو چھونے لگی اور مسلمانوں نے کھلے عام عبادت کی. اسلام کو طاقت ملی ۔
میرے عمر تو وہ ہیں جب مسلمان ہوئے تو مکے کے کافروں نے گلیوں میں نکل کر ماتم کیا کہ ہائے آج آدھا مکہ ہم سے چھینا گیا. جب میرے نبی نے مکہ سے ہجرت کی اس وقت بھی عمر فاروق نے انوکھی ہجرت کی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر گھوڑے پر سوار ہوئے اور مکے کی گلیوں میں اعلان کیا کہ آج میں ہجرت کر کے جارہا ہوں مدینہ اپنے محبوب محمّد مصطفیٰ ﷺ کے پاس. اگر کسی کافر میں جرآت ہے تو عمر کے راستے کو روکے. کسی نے اپنے بیوی بیوہ کروانی ہے یا اپنے بچوں کو یتیم کروانا ہے تو آئے میدان میں. کسی کی جرآت تک نہ ہوسکی عمر کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی.
میرے عمر وہ ہیں جو صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام اسلامی تحریکات اور صُلْح و جنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں وزیر ومُشیر کی حیثیَّت سے وفادار و رفیقِ کار رہے. لیکن جب صلح حدیبیہ پہ افسردہ تھے. قریش مکہ کی یک طرفہ شرائط سے ناخوش تھے. جوش میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کر بیٹھے تو ساری زندگی شرمسار رہے. ساری زندگی کفارہ دیتے رہے.
میرے عمر تو وہ ہیں جو بیت المقدس فتح ہونے کے بعد جب شہر میں داخل ہوتے ہیں تو سواری پر غلام بیٹھا ہوتا ہے اور خود پیدل چل رہے ہوتے ہیں۔ جب بیت المقدس فتح ہوا تو نماز کا وقت تھا. مسلمان نماز پڑھنا چاہتے تھے لیکن اس وقت عیسائیوں کی عبادت جاری تھی. فرمایا اپنی عبادت مکمل کیجیے. ہم نماز صحن میں پڑھ لیں گے. کیا دوسری نماز کا وقت نہ ہوگا. اپنے بعد آنے والے سپاہ سالاروں اور فاتحین کے لیے مثال قائم. کی کہ کس طرح مفتوحین سے سلوک روا رکھا جاتا ہے.
میرے عمر وہ ہیں جنہوں نے کہا دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے تو میں ذمہ دار ہوں گا۔ عشرہ مبشرہ تھے لیکن خشیت کا یہ عالم کہ راتوں کو اٹھ کر روتے تھے کہ یااللہ کاش میں پیدا نہ ہوتا، کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا، کاش میں درخت کا پتہ ہوتا.
اللہ اکبر
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اکثر فرمایا کرتے میں، ابوبکر اور عمر. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہزادی امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے شادی کر کے خانوادہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو اعزاز بخشا، وہی اعزاز اللہ کے محبوب نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہزادی امی حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے شادی کر کے خانوادہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمایا.
جب ہر جگہ محبوب خدا، ابوبکر اور عمر ساتھ ہوتے تھے تو ابدی زندگی میں کیسے ساتھ نہ ہوتے. امی عائشہ کے حجرے میں ایک قبر کی جگہ امی نے اپنے لیے رکھی تھی. جب نماز فجر میں ایک بدبخت ابولؤلؤ فیروز نامی (مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر خنجر سے وار کیا. اطباء نے جواب دے دیا. سیدنا اپنے بیٹے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امی عائشہ کے پاس بھیجتے ہیں. کہتے ہیں ام المومنین سے یہ نہ کہنا کہ امیر المومنین اس جگہ مدفون ہونا چاہتے ہیں. ام المؤمنین لحاظ والی ہیں. میرا بڑا احترام کرتی ہیں. التجا کرنا کہ آپ کا بیٹا عمر آپ سے استدعا کر رہا ہے کہ مجھے وہ جگہ عنایت فرما دیں. امی کیسے انکار کرتیں جب ساری زندگی سرکار سے سنا تھا میں، ابوبکر اور عمر❤️❤️❤️
حضرتِ سیدنا صہیب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور گوہرِ نایاب، فیضانِ نبوت سے فیضیاب خلیفۂ رسالت مآب حضرتِ سیدنا عمر بن خطّاب رضی اللہ تعالٰی عنہ روضۂ مبارکہ کے اندر #یکم_مُحَرَّمُ_الْحرام 24 ہجری بروز اتوار پہلوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ میں مدفون ہوئے.
0