Usman Anees Darkhwasti 0

مستقبل میں نوجوانوں کو پیش آنے والے مسائل اور ان کا حل/تحریر/مولانا محمد عثمان انیس درخواستی

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر دور کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جب بھی کسی قوم نے عروج حاصل کیا، اس کے پس منظر میں باکردار، باعلم، باہمت اور باایمان نوجوانوں کی ایک جماعت موجود تھی، اور جب بھی کوئی قوم زوال پذیر ہوئی تو اس کی ایک بڑی وجہ نوجوان نسل کا اخلاقی، فکری اور دینی انحطاط تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی اور انہیں امت کا سرمایہ اور مستقبل کا معمار قرار دیا۔ قرآن مجید نے صالح نوجوانوں کو پوری امت کے لیے نمونہ بنایا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی ہی میں بت پرستی کے خلاف علمِ توحید بلند کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جوانی میں اپنے والد کے حکم پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرنے کا جذبہ دکھایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جوانی کے پرکشش ماحول میں گناہ سے بچ کر پاک دامنی کی ایسی مثال قائم کی جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ اصحابِ کہف نے ایمان کی حفاظت کے لیے وطن، گھر اور آرام کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: “وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ فرما دیا۔” (سورۃ الکہف: 13) رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کی قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، ان میں وہ نوجوان بھی ہے جو اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، ان میں بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی بھی شامل ہے۔” (مستدرک حاکم) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ نوجوانوں کے روشن کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کم عمری میں اسلام قبول کرکے قربانی و شجاعت کی عظیم مثال بنے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنی جوانی، دولت اور آسائش کو اسلام کے لیے قربان کرکے مدینہ منورہ کے پہلے معلم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ صرف اٹھارہ برس کی عمر میں ایسے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے جس میں اکابر صحابہ بھی موجود تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نوجوانی ہی میں “ترجمان القرآن” کہلائے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کم عمری میں قرآن کریم کی کتابت اور جمع و تدوین کی عظیم خدمت انجام دی، جبکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ علم و فقہ میں ممتاز مقام پر فائز ہوئے۔
تابعین اور بعد کے ادوار میں بھی نوجوانوں نے تاریخ کا رخ موڑا۔ محمد بن قاسم نے نوجوانی میں برصغیر میں عدل و انصاف کی بنیاد رکھی، سلطان محمد فاتح نے اکیس برس کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کرکے رسول اللہ ﷺ کی بشارت کو پورا کیا، جبکہ صلاح الدین ایوبی نے نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار کی جس نے بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ آنے والے زمانے میں نوجوانوں کو سب سے پہلے دینی کمزوری، الحاد اور فکری انتشار کا سامنا ہوگا۔ مغربی تہذیب، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے بے جا استعمال سے اسلامی اقدار کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بے حیائی، مادہ پرستی، وقت کا ضیاع، والدین سے دوری، ذہنی دباؤ، بے روزگاری، منشیات، غلط صحبت اور خاندانی نظام کی کمزوری بھی نوجوان نسل کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
ان تمام مسائل کا حقیقی حل قرآن و سنت کی مضبوط وابستگی میں ہے۔ نوجوان قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھیں، نماز کی پابندی کریں، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، صالح علماء اور نیک دوستوں کی صحبت اختیار کریں، والدین کی خدمت کریں، علم اور ہنر حاصل کریں، وقت کی قدر کریں، سوشل میڈیا کو مقصد کے تحت استعمال کریں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: “جوانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس کی حفاظت کرو، کیونکہ یہی تمہارے مستقبل کی بنیاد ہے۔” امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جس نے اپنی جوانی کو علم اور تقویٰ میں گزار دیا، اس نے اپنی پوری زندگی کو کامیاب بنا لیا۔” حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: “مجھے وہ نوجوان بہت پسند ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے محنت کرتا ہے۔”حقیقت یہ ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کی امید، قوت اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کے دل ایمان سے روشن، ذہن علم سے منور، کردار تقویٰ سے آراستہ اور زندگی مقصد سے وابستہ ہو تو وہ دنیا کی قیادت کرتے ہیں، لیکن اگر یہی نوجوان خواہشات، بے دینی اور غفلت کا شکار ہو جائیں تو قوموں کے زوال کو کوئی نہیں روک سکتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرہ مل کر ایسی نسل تیار کریں جو قرآن کی تلاوت بھی جانتی ہو، سیرتِ نبوی ﷺ سے بھی محبت رکھتی ہو، جدید علوم میں بھی مہارت رکھتی ہو اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی بھی امین ہو۔ یہی نوجوان اسلام کے محافظ، پاکستان کے معمار اور امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گے۔
علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کی عظمت کو یوں بیان کیا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں۔ اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو ایمان، علم، عملِ صالح، اخلاص، عفت، تقویٰ اور امت کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔

مستقبل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں