والدین اپنی بیٹیوں کو سکوٹی دے کر انہیں خودمختار اور بااعتماد بناتے ہیں یقیناً ایک اچھی بات ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی جڑی ہوئی ہیں جنہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے ابھی بحریہ سے دعوتِ ولیمہ سے گھر واپسی پر راستے میں ایک بیٹی سکوٹی پر اپنے گھر کی طرف جاتے دیکھاسکوٹی کی رفتار بہت کم تھی اور سکوٹی کی لائٹس بھی بند تھیں تشویش ہوئی تو اپنی بساط کے مطابق کبھی آگے اور کبھی پیچھے رہ کر اسے کور کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ سکے لیکن ہم اپنے سٹاپ تک ہی محدود رہے اور گھر کی طرف موڑ کاٹ لیاشاید سکوٹی کی چارجنگ ختم ہونے کے قریب تھی بیٹی کی تربیت بیٹوں کی طرح کیجیے لیکن ذرا سوچیے، اگر اتنی رات گئے کسی اکیلی بچی کی سکوٹی کی بیٹری راستے میں ختم ہوجائے تو وہ بیچاری کیا کرے گی؟
اس لیے والدین سے گزارش ہے کہ بیٹیوں کو سکوٹی ضرور دیں، انہیں اعتماد اور سہولت ضرور فراہم کریں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائیں کہ رات کو نکلتے وقت سکوٹی مکمل چارج ہو، لائٹس اور بریک درست حالت میں ہوں، موبائل فون چارج ہو اور گھر والوں کو اس کے آنے جانے اور واپسی کے وقت کا علم ہو۔
خاص طور پر رات گئے واپسی کی صورت میں ممکن ہو تو کوئی ذمہ دار فرد اسے لینے یا ساتھ جانے کا انتظام کرے۔
یہ بات کسی بچی کو سکوٹی چلانے سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ صرف احتیاط اور حفاظت کے احساس کو اجاگر کرنے کے لیے ہے، کیونکہ ایک معمولی سی احتیاط کسی بڑے حادثے یا پریشانی سے بچا سکتی ہے۔
ہماری بیٹیاں ہماری ذمہ داری اور ہمارے لیے اللہ کی امانت ہیں، اس لیے انہیں آزادی دینے کے ساتھ ان کی حفاظت کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے رب کریم تمام بیٹیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہر والدین کو اپنی اولاد کی بہتر تربیت اور حفاظت کی توفیق عطا فرمائے.
بیٹی
0