0

بیٹیاں/تحریر/یونس خان نیازی

بیٹیاں/تحریر/یونس خان نیازی

صاحبو! مجھے تو لگتا ہے، بیٹیاں ہماری کسی نیکی کا بدل ہوتی ہیں یا پھر وہ ہماری ان دعاوں سے جنم لیتی ہیں جنہیں مانگ کر ہم بھول بھی چکے ہوتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ شاید قبول نہیں ہوئیں۔۔۔ مگر قدرت انہیں ایسی ہی کسی انمول مورتی میں چنتی رہتی ہو گی۔۔۔! جسے وقت آنے پر ہمارے آنگن میں “اَمرِ رَبی” سے “بیٹی” کے روپ میں اتارا جاتا ہے۔

مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ “بیٹیاں” آئینہ ہوتی ہیں جن پر نظر پڑتے ہی والدین خود کو سدھارنے کا بندوست کرتے رہتے ہیں۔۔۔ بیٹیاں اپنے “شمس” یعنی بابا کا اوتار ہوتی ہیں، وہ پرتو ہوتی ہیں والدین کا۔۔۔ جس میں ان کی محنت، تربیت اور دعاؤں کا عکس دکھائی پڑتا ہے۔

بیٹیاں بیک وقت دل، دیا، دہلیز ہوتی ہیں۔۔۔

ایسا “دل” جو محبت کا دریا ہوتا ہے جو ہر موڑ پر والدین کو اپنی محبت اور عقیدت سے سیراب کرتا ہے۔

روشنی کا وہ “دیا”، جس میں لوبان کا عرق ملادیا گیا ہو۔۔۔ جو گھر کو محبت، سکون اور خوشبو سے بھر دے۔

ایسی “دہلیز” جس پر نظر پڑتے ہی سکون رگوں میں دوڑ جائے۔۔۔ اپنائیت اور چاہت، کے برگد جیسی چھاؤں کا تصور ذہن میں آئے۔

بیٹیاں ایسی “روشنی” ہیں جو کبھی مدھم نہیں ہوتی، یعنی اک ایسا رشتہ۔۔۔ کہ جو وقت، فاصلے اور حالات کے سے قطع نظر روشنی کی رفتار سے آپ تک سفر کرتا ہے۔

بیٹیاں خاطر تواضع میں کسی صراحی کی مثل ہوتی ہیں جو جھکی جاتی ہیں مگر فیض جاری رہتا یے۔ بلاشبہ ان کا وجود والدین کے لیے زندگی میں ہی نہیں بلکہ بعد از مرگ بھی نعمت و رحمت ثابت ہوتا ہے۔

میں نے کبھی کہا تھا کہ؛
“تعلیم سے علم اور علم سے عرفان کی بلندیوں کو چھونا ہو تو لالہ کاری اپنی دہلیز سے۔۔۔ بیچ دالان تک کرنی پڑتی ہے”

بیٹیاں اسی لالا کاری کا ہی ثمر۔۔۔ اک خوبصورت اور انمول پھول ہوا کرتی ہیں۔

جب کوئی مرد تعلیم حاصل کرتا ہے، تو علم گھر کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے مگر جب کوئی خاتون تعلیم یافتہ ہو تو علم گھر کے عین دالان کی زینت بنتا ہے۔۔۔اور اسکی آبیاری کے لیئے خون نھی صرف خلوص درکار ہوتا ہے۔

بہت ساری دعائیں،سب ہی بیٹییوں کے لیئے، سدا بابا کی پیاری، اماں کی دلاری رہو۔
اور
یہ بھی دعا ہے کہ آپ سب وہ دن دیکھو کہ جب بولو تو قول ٹھہرے۔ لکھو تو قلم تمہارا دست ہنر ہو۔۔۔
اور کائنات کا طول و بلد تمہارا قرطاس بنے۔

اور اس قول، قلم، قرطاس کے سفر میں ہمیشہ آپ کے سائبان، یعنی والد، بھائی، شوہر، بیٹے آپ کو آپ کے دائیں بائیں کھڑے ملیں۔۔۔ اور آپ فخر سے کہہ سکیں۔۔۔

بیٹیاں سلامت رہیں۔۔۔ تاقیامت رہیں۔

ڈیڑھ دو سال پرانی ہے اب تو میری شھزادیاں بڑی ہو گئی ہیں ماشاءاللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں