WhatsApp Image 2026-09-24 at 7.01.56 AM 0

جماعت پرستی — جب مقصد ایک ہو تو پھر یہ تقسیم کیوں؟/تحریر/انس بن داؤد

سوشل میڈیا پر اس وقت ایک عجیب سی جنگ چل رہی ہے، اور اس جنگ کا لبِ لباب صرف ایک جملہ بن کر رہ گیا ہے:
“میری جماعت، میری جماعت، میری جماعت!”
کبھی ہم نے قوم پرستی دیکھی، کبھی مذہب پرستی اور کبھی مسلک پرستی کی بحثیں سامنے آئیں، لیکن اب ایک نئی صورتِ حال ہمارے سامنے ہے کہ ایک ہی مسلک اور ایک ہی دینی فکر سے وابستہ جماعتیں بھی ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آ رہی ہیں۔
ہر طرف اپنی جماعت کو درست ثابت کرنے کی کوشش، اپنے قائد کو مقدم رکھنے کی کوشش اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی دوڑ دکھائی دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اگر سب کا بنیادی مقصد دین کی سربلندی ہے، اگر سب یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اسلامی اقدار قائم ہوں، قرآن و سنت کی تعلیمات عام ہوں اور ایک اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کی جائے، تو پھر آپس کی یہ کشمکش، ایک دوسرے کے خلاف تلخ زبان اور سوشل میڈیا پر مسلسل محاذ آرائی کیوں؟
اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ ہر جماعت کا اپنا طریقۂ کار، اپنا نظم اور اپنی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔ لیکن اختلاف کو دشمنی، جماعت کو دین اور جماعتی وابستگی کو حق و باطل کا معیار بنا دینا ایک الگ معاملہ ہے۔
ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
کیا ہماری وفاداری دین کے ساتھ ہے یا صرف جماعت کے ساتھ؟
کیا ہم حق کو حق اس لیے مانتے ہیں کہ وہ حق ہے، یا اس لیے کہ وہ ہماری جماعت سے وابستہ ہے؟
جماعتیں دین کے لیے ہونی چاہئیں، دین جماعتوں کے لیے نہیں۔
اگر مقصد واقعی ایک ہے تو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے گنجائش، احترام اور حسنِ اخلاق کیوں نہیں ہو سکتا؟
آئیے “میری جماعت” کے نعرے سے ذرا اوپر اٹھ کر “میرا دین، میری امت” کی بات کریں۔
اپنی جماعت سے محبت ضرور کریں، لیکن اتنی نہیں کہ دوسروں سے نفرت شروع ہو جائے۔
کیونکہ جماعتیں بدل سکتی ہیں، قیادتیں بدل سکتی ہیں، طریقۂ کار بدل سکتے ہیں؛ مگر دین اور امت کا رشتہ اس سے کہیں بڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں