Mohammad Owais Shahid 0

انٹرنیشنل/سعودی عرب کا نیوم منصوبہ/ صحرا کا سراب/تحریر/محمد اویس شاہد

سعودی عرب کا ایک وسیع ریگستان، جہاں دور دور تک صرف خاموشی، چبھنے والی دھوپ اور سناٹا رقص کرتا تھا، اسی خاموشی کے بیچ ایک ایسا خواب دیکھا گیا جو اگر پورا ہوتا تو صحرا میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور حیران کن عجوبہ بن جاتا۔ ایک ایسی جگہ جہاں عمارتوں کو ہوا میں معلق ہونا تھا، جہاں تپتی گرمی کے بیچ برف کے پہاڑ کھڑے کیے جانے تھے اور جہاں آسمان پر ایک مصنوعی چاند چمکنا تھا۔ اس منصوبے کا پیمانہ اور بجٹ اتنا وسیع تھا کہ اگر ممبئی، کراچی اور لاہور جیسے عظیم میٹروپولیٹن شہروں کو یکجا کر دیا جائے، تب بھی یہ منصوبہ ان سب سے کہیں زیادہ بڑا، جدید اور مہنگا ثابت ہوتا۔ یہ سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا سب سے پرعزم، غیر معمولی اور شاندار خواب “نیوم” تھا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک ہوش رُبا تحقیقاتی رپورٹ اور حالیہ سیٹلائٹ تصاویر نے اس معاشی خواب کی اصل حقیقت دنیا کے سامنے بے نقاب کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہاں دنیا کا سب سے جدید اور حیرت انگیز شہر تعمیر ہونا تھا، وہاں آج ہزاروں فٹ گہرا گڑھا، ادھورے کاٹے گئے پہاڑ اور ایک ایسا الم ناک سناٹا موجود ہے جو اربوں ڈالرز کے ڈوبنے کا ماتم منا رہا ہے۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس منصوبے پر اب تک 50 ارب ڈالر سے زیادہ رقم بہائی جا چکی ہے، اب اس معطل ہوتے ہوئے منصوبے کو سمیٹنے کے لیے مزید اربوں ڈالرز پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا یہ سب سے بڑا خواب آخر ایک ناکام میگا پروجیکٹ میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ پردے کے پیچھے ایسی کون سی داستان پوشیدہ تھی اور کیسے ڈر، جھوٹ اور کاغذی ہیرا پھیری کے سائے میں یہ تمام خواب تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے؟
جب محمد بن سلمان نے نیوم کا باقاعدہ اعلان کیا تو پوری دنیا دنگ رہ گئی تھی۔ ان کا مقصد محض ایک شہر بسانا نہیں تھا، بل کہ عالمی برادری کو یہ باور کرانا تھا کہ سعودی عرب اب صرف تیل بیچنے اور اس پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہا۔ اس پورے پروجیکٹ کا مرکزی اور بنیادی حصہ “دی لائن” تھا، جو 170 کلومیٹر لمبی ایک عمودی عمارت کی صورت میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس ایک ہی عمارت کے اندر 90 لاکھ لوگوں کو بسانے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا، جو ایک حیرت انگیز منصوبہ بندی تھی۔
محمد بن سلمان ایک ایسا شاہکار بنانا چاہتے تھے جو دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے اسٹاف اور انجینئرز سے بارہا مطالبہ کیا کہ انہیں “زیرو گریویٹی آرکیٹیکچر” چاہیے، یعنی ایک ایسا ڈیزائن جو سب سے منفرد اور سائنسی مروجہ اصولوں سے آزاد ہو۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ ایسا منصوبہ ممکن ہی نہیں تھا، جس کا ادراک تمام ماہرین کو ابتدائی روز سے تھا۔
اس منصوبے کا نقشہ اور خاکہ تیار کرنے کے لیے دنیا کے سب سے مہنگے مغربی ماہرین کو اربوں ڈالرز کے معاوضے پر بلایا گیا۔ ان ہی ماہرین کے توسط سے انویسٹیگیٹو رپورٹرز کو 2000 صفحات پر مشتمل ایک ایسا خفیہ دستاویز ملا ہے جس میں اس پروجیکٹ کی تمام تر تعمیراتی تفاصیل درج ہیں۔ اس فائل میں سائنس فکشن فلم کی اسکرپٹ جیسے ہوش اڑا دینے والے منصوبے شامل تھے۔ اس میں ایک ایسے دیو ہیکل مصنوعی چاند کی تیاری کا ذکر تھا جو انسانی ہاتھ سے بنا دنیا کا سب سے بڑا ساختار ہوتا اور اس کے لیے امریکی خلائی ادارے ناسا کے ساتھ شراکت داری کا سوچا گیا تھا۔ مزید برآں روبوٹک ڈائناسورز پر مشتمل جراسِک پارک، صحرا کے موسم کو خودکار نظام سے کنٹرول کرنے اور مصنوعی برف باری کروانے کے خیالی منصوبے شامل تھے۔
انہی تصورات سے نیوم کے چار بنیادی حصے تشکیل پائے: پہلا “دی لائن”، جو 170 کلومیٹر طویل اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین عمودی شہر تھا؛ دوسرا “تروجینا”، جو ایک سوکھے صحرا کے پہاڑوں پر بننے والا اسکیئنگ ریسارٹ تھا جہاں سال کے تین ماہ برف باری اور اسکیئنگ کروانے کا منصوبہ تھا؛ تیسرا “اوکساگون”، جو سمندر کے پانی پر تیرتا ہوا ایک جدید صنعتی اور تجارتی پورٹ شہر تھا؛ اور چوتھا “سندالہ”، جو بحیرہ احمر میں دنیا کے امیر ترین افراد اور ان کی پرتعیش کشتیوں کے لیے تیار کردہ جزیرہ تھا۔
لیکن قدرت کے قوانین اور معاشی اصولوں کو محض پیسے کی طاقت سے بدلنا ممکن نہیں تھا، جس کا اندازہ شاید کسی نے نہیں لگایا تھا۔ شروعات سے ہی پروجیکٹ کے انجینئرز اور عملے کو پتہ تھا کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اندرونی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ماہرین کے ذہنوں میں عمارتوں کے تحفظ، ماحولیات اور لوگوں کی بود و باش کے حوالے سے ہزاروں سوالات اور خدشات موجود تھے، جب کہ سب سے بڑی وارننگ جو ان کاغذات میں لکھی تھی وہ یہ تھی کہ اس پر آنے والا خرچ تمام حدیں پار کر جائے گا۔
حالیہ ہائی ریزولیوشن سیٹلائٹ تصاویر نے اس پروجیکٹ کا وہ چہرہ بے نقاب کیا ہے جو سعودی عرب دنیا سے چھپانا چاہتا تھا۔ سیٹلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں جو بے حساب مشینری اور عملہ وہاں متحرک تھا، وہ اب مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے۔ سیٹلائٹ امیجز کے مطابق انہوں نے دی لائن کے لیے تقریباً 112 کلومیٹر طویل زمین کو کھود ڈالا تھا، جو کراچی سے حیدرآباد تک کی مسافت کے برابر بنتی ہے۔ زمین کو 150 فٹ گہرائی تک چیر کر کنکریٹ کے ہزاروں بڑے بڑے ستون گاڑے گئے، لیکن 2025 میں یہ تمام کام ایک دم سے روک دیا گیا۔
اگر آپ تروجینا کے علاقے کو دیکھیں تو وہاں ایک مصنوعی جھیل کا خاکہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے یہاں ایک بہت بڑا ڈیم بنانے کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے جس میں اسٹیل اور کنکریٹ تک ڈال دیا گیا تھا۔ ورکرز کی خفیہ ویڈیوز میں بھی تروجینا پر کام کافی آگے پہنچتا دکھتا ہے، لیکن پھر ایک دن مزدوروں کو اچانک حکم ملا کہ کام بند کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ یہی حال سندالہ جزیرے کا ہوا، جہاں کا شاداب گولف کورس اور فور سیزنز ہوٹل ادھوری دیواروں اور بکھری ریت میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔ یعنی نیوم کا صرف ایک حصہ نہیں بل کہ تقریباً ہر سائٹ پر کام ایک ہی وقت میں روک دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق نیوم کی اس عظیم ناکامی اور اربوں ڈالرز کے ضیاع کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ پورا پروجیکٹ صرف اور صرف کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا اپنا ذاتی خواب تھا۔ وہی اس کے مرکزی ڈیولپر، چیئرمین، بینک اور فنڈ فراہم کرنے والے خودمختار ویلتھ فنڈ (PIF) کے سربراہ تھے۔ اس ایک طرفہ طاقت کے اظہار اور انتظاماتی ساخت نے ایک ایسا خوفناک ماحول پیدا کر دیا جہاں سچ بولنے کا مطلب اپنی ملازمت اور کیریئر سے ہاتھ دھونا تھا۔ ابتدا میں اس پورے پروجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کا خرچہ تخمینہ کیا گیا تھا جو بعد میں 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ حقیقت میں لاگت اس سے کہیں زیادہ تھی۔
نیوم کے ہر سب پروجیکٹ جیسے تروجینا یا دی لائن کے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور فائنینشل کمیٹیاں بنائی گئی تھیں اور ان سب کو اپنی اپنی کارکردگی کے حساب سے آہستہ آہستہ فنڈ ریلیز کیے جانے تھے۔ جب پہلے 39 ارب ڈالر بہا دیے گئے تو اگلی اقساط کے لیے بورڈ کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ یہ پروجیکٹ آگے چل کر منافع دے گا، کیونکہ محمد بن سلمان کے سخت احکامات تھے کہ نیوم کوئی خسارے میں جانے والا خواب نہیں ہونا چاہیے، بل کہ یہ سعودیہ کو منافع کما کر دے گا۔
پروجیکٹ کو وقت پر فنڈنگ ملتی رہے، اس کے لیے اسٹاف نے کراؤن پرنس کو خوش کرنے کے لیے کاغذوں پر آنے والی آمدن کے تخمینے کو فرضی طور پر بڑھا دیا۔ مثال کے طور پر ایک خیمہ گاہ (Glamping Site) کے ایک کمرے کا کرایہ جو پہلے 216 ڈالر طے ہوا تھا، اسے کاغذی کارروائی میں راتوں رات بغیر کسی منطق کے 700 ڈالر فی دن کر دیا گیا تا کہ اگلی قسط کے طور پر اربوں ڈالر کا بجٹ ریلیز ہو جائے اور اعلیٰ افسران کے معاوضے اور نوکریاں محفوظ رہیں۔ اس کے برعکس اگر وہ بورڈ کے سامنے اصلی اعداد و شمار رکھتے تو انہیں پتہ تھا کہ فنڈنگ روک دی جائے گی، اور کراؤن پرنس کو یہ کہنے کی جرات کسی میں نہیں تھی کہ آپ کا پلان فیل ہو رہا ہے۔ تو اپنی گردن بچانے کے لیے عملے نے کاغذی ہیرا پھیری کا راستہ اختیار کیا؛ عملہ بورڈ کو دھوکہ دے رہا تھا، بورڈ محمد بن سلمان کو، اور وہ خود کو یہ تسلی دے رہے تھے کہ سب صحیح چل رہا ہے۔
آخر کار اس سارے جھوٹ سے پردہ تب اٹھا جب 2024 میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ سعودیہ جو 90 فیصد صرف تیل بیچ کر پیسہ کماتا ہے، جب تیل کی قیمتیں گرنے لگیں تو آمدن میں شدید کمی آئی۔ یہی وہ پیسہ تھا جو نیوم کو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے ملتا تھا۔ جب پروجیکٹ کی شفافیت واضح نہ ہو سکی تو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی اپنے سرمائے کو روک دیا۔ اسی مالیاتی دباؤ نے محمد بن سلمان کو مجبور کیا کہ وہ کسی غیر جانب دار فرم سے آڈٹ کروائیں۔
آڈٹ رپورٹ نے سب سے بڑا جھٹکا یہ دیا کہ جس نیوم کا ابتدائی بجٹ 500 ارب ڈالر بتایا گیا تھا، اس کی اصل لاگت 8.8 ٹریلین ڈالر (یعنی 8800 ارب ڈالر) نکل آئی! یہ رقم سعودی عرب کے پورے سال کے سرکاری بجٹ سے 25 گنا زیادہ تھی۔ نیز، ماہرین نے بتایا کہ جو منصوبہ 2030 میں مکمل ہونا تھا، وہ عملی طور پر 2080 تک جا کر مکمل ہو سکے گا۔ یہ آڈٹ رپورٹ محمد بن سلمان کے خوابوں پر پتھر بن کر گری، جس کے بعد خاموشی سے تمام پروجیکٹس کو بند کروا دیا گیا۔ نیوم کی یہ ناکامی صرف ایک شہر کی ناکامی نہیں ہے، یہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ جب بے حساب پیسہ، غیر حقیقی خواب اور خوف آپس میں ملتے ہیں تو ہزاروں اربوں ڈالرز کے شاہکار بھی صحرا کی دھول میں مل جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں