تحریر/انیس الرحمٰن عباسی
مدرسہ تعلیم القرآن الاسلامیہ وادی روپڑ کے پیچ وپیچ گھوڑا گلی سے ایپٹ آباد جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ،روپڑ کا علاقہ قدیم شاہراہِ ریشم کے قافلوں کے قیام کا مرکز رہا ہے جسے تین مرکزی راستے ملتے ہیں ،یہ مشہور چلہ گاہ امام بری سرکار اور دامن کوہ ،کی بالکل پیٹھ پر ،کہو کے درختوں سے گھری ایک انتہائی خوبصورت وادی ہے اور اس وادی کے دل میں انتہائی خوبصورتی کے ساتھ مدرسہ تعلیم القرآن قائم ہے ،
جس کی بنیاد1999میں قاری اسحاق احمد علوی صاحب اور ان کے بھائی قاری خضر صاحب نے رکھی ،
اس وقت یہ علاقہ انتہائی غریب اور کسمپرسی کے علاقوں میں شمار ہوتا تھا ۔لیکن یہاں کے سخی باسیوں نے ان پردیسوں کے ساتھ انصار مدینہ والا رویہ اپنا ،جو خود کھایا وہ انہیں کھلایا ،اور جو خود پیا انہیں پلایا ،جو خود پہنا انہیں پلایا ،
علاقے کے معزز بزرگ ہمایون عباسی مرحوم غفرلہ اللہ نے اپنی انتہائی قیمتی زمین قال اللہ اور قال الرسول پڑھنے والوں کو لکھ کر دے دی ،
قاری اسحاق احمد علوی کا گھرانہ پنجاب تلہ گنگ سے تعلق رکھتا ہے ،لیکن مکمل گھرانے نے خود کو اپنے گھر بار کوچھوڑ کر اس دین متین کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ،ان کی عورتوں نے مدرسے کے بچوں کے لئے خود کھانا بنایا ان کے کپڑے دھوئے ان کی تیمارداری کی،اور طلباء کی خدمت کو اپنا شعار بنالیا ،
آج وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں شروع ہونے والا مدرسہ ایک تناور درخت بن چکا ہے ،مدرسہ کی بلڈنگ انتہائی نفاست سے بنائ گئ ہے جو 13کمروں پر مشتمل ہے ،اب تک یہاں سے 270 طلباء حفظ کر کر کے عالم اور مفتی بن چکے ہیں ،اور 80کے قریب طلباء اب بھی زیر تعلیم ہیں ،8 قابل اور ماہر استاتذہ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے ہیں
آج مورخہ 19فروری2023کا اجتماع حقیقتاً ان 12طلباء کے تکمیل قرآن کے اعزاز میں منعقد ہوئی جنہوں نے اس سال تکمیل قرآن مجید کی سعادت حاصل کی جس کو روح بخشی امیر شبان ختم نبوت لاہور استاد العلماء ولی کامل مفتی حسن صاحب دامت برکاتہم العالیہ ،
اور ترجمان وفاق المدارس العربیہ مولانا عبد القدوس محمدی صاحب نے ،
مفتی صاحب نے دوران خطاب فرمایا کہ آج حالات یہ ہیں کہ عوام یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ دین صرف نماز روزے تک محدود ہے حالانکہ تجارت نوکری کاروبار کرنا بھی دین ہے ،شرط یہ ھیکہ ہم ان سارے کاموں میں اپنے رب کو نہ بھولیں ۔اور مزید فرمایا کہ دنیا کے عارضی کے لئے ہم دن رات محنت میں لگے ہوئے ہیں ،لیکن جس گھر میں نا ختم ہونے والی زندگی گزارنی ہیں اس کی تیاری سے ہم غافل ہیں ،
مولانا عبد القدوس محمدی صاحب نے فرمایا کہ میں سینکڑوں بار یہاں سے گزرا ہوں لیکن آج کا یہ روح پرور منظر دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا،
اس اجتماع میں سینکڑوں جید علماء حضرت مفتی صاحب سے مستفید ہونے کے لئے حاضر ہوئے مفتی صاحب نے سب کو چاروں سلسلوں میں بیعت بھی کیا اور اپنی قیمتی دعاؤں سے نوازا اور مدرسے اور منتظمین کو ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوئے
جامعہ کے مہتمم قاری اسحاق صاحب نے فرمایا کہ یہ مدرسہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد اور علاقے کی معززین کے تعاون سے چل رہا ہے ،اور یہ دستار بندی صرف ان بچوں کی نہیں ہوئ بلکہ حقیقتاً ان معاونین کی ہوئ ہے جن کے دئے ہوئ مال سے ان بچوں نے توانائی حاصل کی اور اس عظیم الشان کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ۔۔۔اسی کے ساتھ اس محفل کا اختتام ہوا