70

دورِ حاضر کے بچے اور مطالعہ/تحریر/بینش احمد/اٹک

دورحاضر کے بچے اور مطالعہ
تحریر
بینش احمد اٹک
میں حیران ہوتی ہوں کہ کیسے پیارے دن تھے ہمارے بچپن کے،جب ہم شدت سے اتوار کا انتظار کیا کرتے تھے کیونکہ ہر اتوار بچوں کا خصوصی میگزین شائع ہوا کرتا تھا۔ اس میں ہم اپنی من پسند کہانیاں پڑھا کرتے تھے اور گھر بیٹھے ہی خوب لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ اپنی جیب خرچی سے مختلف کہانیاں خرید خرید کے پڑھتے تھے۔ ایک آج کا دور ہے کہ ہمارے بچے صرف پریوں کی کہانیاں ہی جانتے ہیں وہ بھی محض زبانی کیونکہ وہ بچپن سے اپنی دادی نانی اور ماں سے سن رہے ہوتے ہیں۔
دورِ حاضر میں موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے سیدھے راستے سے بھٹکنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کچھ اس طرح سے کرنی چاہیے کہ بچوں کو ادب و لحاظ اور اخلاقیات کا مکمل پتا ہو ۔ کوئی بھی نامناسب چیز دیکھنے یا پڑھنے سے پہلے ان کا ضمیر انہیں ایک بار ملامت ضرور کرے۔
دورِ حاضر میں بچوں پر ہر وقت نظر رکھنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی انہیں یوں ڈھیر ساری پابندیوں کے اندر رکھا جا سکتا ہے کیوں کہ اس سے بچوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے اور وہ ایک پراعتماد شخصیت بننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بچوں کو اسپیس دینا بہت ضروری ہے تاکہ ان کی شخصیت مضبوط ہوسکے اور وہ اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ کر سکیں ۔ لہذا آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیےیہ بات بہت ضروری ہے کہ اُن کی تربیت میں زیادہ سختی سے کام لینے کے بجائے انہیں کچھ دلچسپ طریقوں سے باتیں سکھائی جائیں۔یوں وہ سیکھنے میں دلچسپی لیں گے اور انہیں یاد بھی رکھیں گے۔
بچوں کو قدرتی طور ہی پر کہانیاں سننے اور پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ جب ہوش سنبھالتا ہے اور ارد گرد کی چیزوں کو دیکھنا، سمجھنا اور بولنا شروع کرتا ہے تو اس کی توجہ کتابوں کی طرف ضرور ہوتی ہے اور وہ اپنے بڑوں کے طریقے پر اس کتاب کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابتدائی عمروں کے بچے نصیحتوں سے زیادہ دیکھ کر اور سن کر سیکھتے ہیں۔ اور اس عمر میں سیکھی جانے والی باتیں ذہن کے پردے پر انمٹ نقوش چھوڑتی ہیں۔ جہاں تک کہانیوں کا تعلق ہے تو قصے کہانیاں اور وہ بھی بچپن کی عمر میں سنی جانے والی خاص طور پر شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انسان کی شخصیت سازی میں خواہ وہ مثبت ہو یا منفی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اچھی اور مثبت کہانیاں بچوں میں مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھاتی ہیں اور بری اور مخرب اخلاق کہانیاں اور واقعات منفی اخلاقی رویوں اور سوچ کو بنانے کا محرک بنتی ہیں۔
بچوں کو کہانیاں سنانا ہمیشہ سے لوگوں کا طریقہ رہا ہے۔ گھر کے بزرگ حضرات خواہ وہ دادا دادی ہوں یا نانا نانی، ان کے ذریعے بچوں کو کہانیاں سنانے سے بچوں کے سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے۔ والدین اس طریقے کو اپنا کر اپنے بچوں کو بہت کچھ فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ کہانیاں ان کے تخیل، غور وفکر کرنے کی صلاحیت، کردار سازی اور شخصیت سازی میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔ کہانیاں سنانے کا یہ عمل والدین اور بچوں کے درمیان الفت ومحبت اور جذباتی تعلق کوبھی مضبوط کرتا ہے اور ان کی شخصیت کو مستحکم اور پر اعتماد بناتا ہے۔
بچوں کو کہانیاں سناتے وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ کہانی بچوں کے لیے دلچسپ ہو اور کوئی نہ کوئی سبق یا تربیتی تاثیر رکھتی ہو تاکہ وہ اس سے سبق حاصل کرسکیں اور اسے اپنا سکیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کہانی سنانے کے انداز اور آواز کے اتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات سے کہانی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ کہانی کے الفاظ اور کہانی کا مقصد بچوں کی فہم کے مطابق ہونابھی بہت ضروری ہے۔ آپ کے آس پاس بہت سے واقعات، کہانیاں اور موضوعات بکھرے پڑے ہوتے ہیں جن کو مناسب الفاظ اور متاثر کن انداز میں بچوں کوسناکر ان کے دل میں دردِ انسانیت بھی بیدار کرسکتے ہیں اور آداب اور اخلاقیات کا درس بھی دے سکتے ہیں۔
بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دینے والی اور عملی رہنمائی کرنے والی کہانیاں آپ خود اپنے ذہن میں تخلیق کرکے بچوں کو سنائیں اور ہوسکے تو عظیم شخصیات کی ترقی اور کامیابی کے سفر کی روداد بھی ضرور سنائیں۔
آپ شرارت اور اس کے انجام سے آگاہ کرنے والی بے شمار کہانیاں اپنے ذہن سے بناکر بچوں کو سنا سکتے ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں بچوں کو بدتمیزیوں سے دور رہنے اور تکلیف دہ شرارتوں سے بچنے کا درس دیتی ہیں۔
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی بہت ذیادہ عام ہو گئی ہے- بڑے، بچے، بوڑھے غرضیکہ ہر عمر کے افراد نے اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کے ساتھ بہت ذیادہ مصروف کر لیا ہے۔ موجودہ دور میں سب سے بڑی خرابی کی جڑ موبائل فون ہے، بیشک موبائل کے بہت فوائد ہیں لیکن کم از کم بچوں کو بالغ ہونے تک موبائل فون نہیں دینا چاہیے۔ بچے چوبیس گھنٹے موبائل پہ لگے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی گیم کھیل رہے ہیں، کبھی کوئی کارٹون دیکھ رہے ہیں، کبھی ڈرامہ۔
میں ان چیزوں سے انکار نہیں کرتی کہ کارٹون وغیرہ بھی بچوں کیلئے ضروری ہیں لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیا جاتا ہے۔بچہ رو رہا ہے تو موبائل دے دو، کھانا نہیں کھا رہا تو موبائل دے دو، ماں بچے کو موبائل پکڑا کر اپنے بہت سے کام نبٹا لیتی ہے۔ بچے کو سونے کیلئے بھی لوری موبائل پہ لگا کے دے دی جاتی ہے۔ اس سب میں بچوں بیچاروں کا تو کوئی قصور ہی نہیں ہے۔جب والدین ہی اپنے بچوں کو مطالعہ کی اہمیت اور فوائد نہیں بتائیں گے تو کسی اور کو کیا کہا جا سکتا ہے۔
ہمارے بچوں کو مطالعہ کے بارے میں بالکل نہیں پتہ کہ وہ مطالعہ سے کتنا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ والدین کو یہ روٹین بنالینی چاہیئے کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو کوئی کتاب پڑھ کر سنائیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ بچوں کو کہانیوں کی کتابیں سنانے سے آپ چھوٹی عمر سے ہی بچوں میں نہ صرف نئے الفاظ جاننے کی جستجو پیدا کرتے ہیں، بلکہ ان میں ابلاغ کی صلاحیتیں بھی ڈالتے ہیں جو بعد کی زندگی میں ان کے بہت کام آتی ہیں۔ بچوں کی تربیت اور ان کی پڑھنے لکھنے کی تربیت بچوں کے پنگوڑے سے ہی شروع کی جا سکتی ہے۔اگر آپ اپنے بچوں کو کہانیاں نہیں سناتے تو آج سے ضرور یہ کام شروع کردیجئے کیونکہ بچوں کو ساتھ بٹھا کر کہانیاں اور کتابیں پڑھنے سے ان کے دماغ پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں یادداشت میں اضافہ، سمجھنے کی بہتر قوت اور خود اپنے مسائل حل کرنے کی زبردست صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اپنے بچوں کو ہر صورت معیاری کتب پڑھنے کو دیں تاکہ وہ گھر بیٹھے ہی بہت کچھ سیکھ سکیں اوراچھے شہری بن سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں