کیا خُودکشی تمام مسائل کا حل ہے؟
تحریر
بینش احمد اٹک
السلام علیکم بھائی! میں اپنے حالات سے بہت تنگ آ گیا ہوں۔میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے گلے چُھری سے کاٹ دیے ہیں اور اب خُود بھی خُود کشی کرنے لگا ہوں۔ میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں اور میں نے اس گھرکا ایک لاکھ چھیالیس ہزار کرایہ دینا ہے۔مالک مکان بہت زیادہ تنگ کر رہا ہے۔
نوکری نا ہونے کی وجہ سے بہت ذیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے لیے ایک اجتماعی قبر بنائی جائے۔ ہمارے جنازے اور گھر کا سامان ایدھی فاؤنڈیشن کے سپرد کیے جائیں۔ ہمارا پوسٹ مارٹم نا کیا جائے۔
یہ دِل چیر دینے والے الفاظ کسی ناول کہانی یا افسانہ کے نہیں بلکہ فیصل آباد کے رہائشی عتیق الرحمن کے آخری الفاظ ہیں۔ جس نے حالات سے تنگ آ کر اپنی اور اپنی بیٹیوں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ وہ معصوم کلیاں جو مکمل طور پرکھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئیں۔
آخر کیا قصور تھا اُن کا کہ وہ ایک غریب باپ کے گھر پیدا ہوئیں یا کیا قصور تھا اُس باپ کا کہ وہ ایک ایسے معاشرے کا حصہ تھا جہاں اُس کے پاس اپنی بچیوں کے لئے دو وقت کا کھانا بھی نہیں تھا۔
یقین مانیں یہ الفاظ سُن کرمیرا دِل خون کے آنسو رویا ہے۔ جب ہم عام سے لوگ برداشت نہیں کر پائے تو اُس انسان پہ کیا گزری ہوگی۔جس نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے ہاتھوں سے۔۔۔
آپ یہ تو سوچیں کہ ایک انسان اذیت کے کس موڑ پر ہوتا ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کر لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے کتنی جنگیں لڑتا ہوگا۔ ہمیں ایک معمولی سی چوٹ بھی لگ جاتی ہے تو ہم برداشت نہیں کر پاتے اور اپنی جان لینا تو اس قدر مشکل ہے اس قدر کہسوچتے ہوئے بھی سانس ساکن محسوس ہوتی ہے۔لیکن ان تمام چیزوں سے ہٹ کر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔
کیا خُودکشی تمام مسائل کا حل ہے؟
نہیں۔۔۔ با لکل نہیں۔اسلام میں خود کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔خودکشی کرنے والے کا نمازِ جنازہ پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔خود کشی ایک ایسا عمل ہے جس میں فرد اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔فرد یہ سوچتا ہے کہ وہ مزید مشکلات برداشت نہیں کر سکتا۔جب اس کو لگتا ہے کہ اب تمام راستے بند ہو چکے ہیں اب کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا۔اس کو لگتا ہے کہ اس کی تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں تو وہ خود کشی کو آخری راستہ سمجھتا ہے اور اپنی جان اپنے ہی ہاتھوں سے لے لیتا ہے اور حرام موت مر جاتا ہے لیکن یہ انتہائی غلط امر ہے۔یہاں ہر دوسر بندہ بیروزگار ہے۔ ہر بندہ قرض دار ہے چاہے اس کی مالی حالت جیسی بھی ہو۔تو کیا وہ سب اپنے بچوں کو ذبح کرکے خودکشیاں کرنے لگ جائیں؟
کہتے ہیں جو اپنی جان اپنے ہاتھوں لینے کا سوچتے ہیں اُن کا ایمان بے حد کمزور ہوتا ہے۔ جب آپ کا ایمان ہی کمزور ہے، آپ کو اپنے خُدا پر یقین ہی نہیں ہے تو آپ کے مسلمان ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ہمارا رب بہت غفورو رحیم ہے۔ پتھر میں بھی موجود کیڑے کو رزق فراہم کرتا ہے۔ خدا اپنے کسی بھی بندے جو بھوکا نہیں سونے دیتا تو پھر کیوں ہم اپنے رب کی نعمت سے اتنی جلدی مایوس ہو جاتے ہیں۔ وہ تو ایسے ایسے معجزے کرتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ وہ ایسے راستے بناتا ہے جو ہماری سوچ سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ بس وہ اپنے بندے کا صبر آزما رہا ہوتا ہے اور بے شک خُدا کسی کی بھی برداشت سے ذیادہ اُسے تکالیف نہیں دیتا لیکن یہاں بات صبر کی آجاتی ہے۔
جو انسان اپنی آخری سانس تک بھی صبر کرنے کی ہمت رکھتا ہے اور اپنے رب کی ذات پر بھروسہ رکھتا ہے تو بےشک اُس کو بے حد بہترین اجر ملتا ہے۔
بات کریں فیصل آباد کے رہائشی عتیق الرحمن کی تو کیا وہ اِس حد تک مجبور ہو گیا تھا؟
کیا اُس پر چاروں طرف سے دروازے بند کر دیے گئے تھے؟
کیا دُنیا ختم ہو رہی تھی؟
بلکہ نہیں۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
وہ صبر کر سکتا تھا۔
وہ اللہ پہ بھروسہ رکھ سکتا تھا۔
ہمارے آس پاس لاکھوں طرح کے کام پڑے ہیں اور اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے تو ہر انسان جی توڑ محبت کرتا ہے چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ہو۔ ہماری آنکھوں کے آگے کس قدر مثالیں موجود ہیں۔کوئی بی-اے پاس سبزی کی ریڑھی لگائے بیٹھا ہے٬تو کوئی ایم-اے پاس ایک معمولی کی نوکری کر رہا ہے۔
کیوں ؟
آخر کس لیے؟
حلال کی روزی کمانے کے لیے، اپنے گھر کو چلانے کے لئے ۔لیکن یہ تو نہیں کہ ہر انسان بے روزگاری کی وجہ سے خود کو اور اپنی اولاد کو قتل کرتا پھرے۔
وہ کھیتی باڑی، مزدوری، کوئی اور ایسا کام ،وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔مانا کہ ایک لاکھ سے زائد کی رقم ادا کرنا کسی بھی غریب آدمی کے لیے بے حد مُشکل ہے۔ لیکن وہ کم از کم ان چھوٹے موٹے کاموں سے اپنی بیٹیوں کا پیٹ تو بھر سکتا تھا نا ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہاں کا کہ دو پھولوں کے ساتھ اِس طرح کیا جائے لیکن یہ بھی تو سوچیں نا کہ اگر وہ اپنی بیٹیوں کو اس گندے معاشرے میں اکیلا چھوڑ کر خود چلا جاتا تو کیا یہ معاشرہ اُن معصوموں کو جینے دیتا؟
کبھی بھی نہیں یہ معاشرہ جہاں پہ ہم رہ رہے ہیں وہاں قدم قدم پر موت ہے۔ ایسے گدھ بیٹھے ہوئے ہیں جو ان معصوم کلیوں کو نوچ کر رکھ دیتے۔
ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ ہم سب بھی کہیں نا کہیں ذمہ دار ہیں ان سب واقعات کے۔ہم کس قدر سکون سے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے مزے سے مختلف پکوانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں،یہ جانے بغیر کہ ساتھ گھر میں موجود بچے جنہوں نے ہفتے سے ذیادہ روٹی کی شکل نا دیکھی ہو۔اُن پہ کیسی قیامت گزر رہی ہو گی لیکن
ہم بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے کسی جھونپڑی والے کا دُکھ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔
اِس کے علاوہ ہماری حکومت بھی اِس بات کی بہت ذیادہ ذمہ دار ہے۔یہاں حکمران اور تمام سیاسی پارٹیاں بس آپس میں لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہیں۔ملک کی اُنہیں کوئی پرواہ نہیں۔عتیق الرحمن کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ہر روز ایسے کئی واقعات ہو رہے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں ہمارا واسطہ بہت سے لوگوں سے پڑتا ہے۔ جو شخص پریشان ہو اُس کے چہرے سے پتا چل جاتا ہے۔ چاہے ہو کتنا ہی کیوں نا چھپا لے لیکن ہم اتنے بے حس ہیں کہ ہمیں بس اپنے کام کی اور مطلب کی پڑی ہوتی ہے۔ چاہے اگلا بندہ مرنے کی ہی حالت میں کیوں نا ہو لیکن ہمیں تو بس اپنا کام کروانا ہوگا۔
دیکھیں ایسے نا کریں۔اگر آپ کو کوئی ایسا بندہ دکھتا ہے تو دو گھڑی اُس کے پاس بیٹھ جائیں۔ اُس کی پریشانی پوچھیں۔وہ نا بتانا چاہے تو بھی اُس کو حوصلہ دیں۔اُس کو بتائیں کہ خدا بڑا رحمان ہے۔سب کچھ بہتر کر دے گا۔ہو سکتا ہے آپ کہ ایک بات ہی کسی اگلے کی زندگی بچ جانے کی وجہ بن جائے ۔
لیکن پتا نہیں کیوں ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں ؟
مانا کہ مہنگائی کے اس دور میں سبھی کاگزارہ بہت مشکل ہے لیکن خدارا! آپ اتنا تو کر سکتے ہیں نا کہ کسی کی ہمت بن جائیں۔ بعض اوقات کسی کے لیے ایک ہمت بھری تھپکی بھی کافی ہوتی ہے۔
میری حکومت سے درخواست ہے کہ؛
خدارا! اپنی عوام کی قدر کریں۔ اُن کا خیال رکھیں۔ ان ہی کی وجہ سے تو آپ اقتدار میں آئے ہیں۔ ذیادہ نہیں تو کم از کم اتنا تو کر دیں کہ کوئی بھی انسان بھوکا نا سوئے۔ کوئی بھی بھوک کے مارے اپنی اولاد کو قتل تو نا کرے۔