قرآن کریم کا راستہ
تحریر/ام عمر/رہنماء/اسلامک رائٹرز خواتین ونگ
ہمیں آج قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی پہلے سے زیادہ شدید ضرورت ہے۔
قران اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اللہ نے اس کائنات اور اس کے نظام اور خود (انسان اور اللہ) کو سمجھانے کے لئے اتارا ہے-
اس کلام الہی کے بغیر ہماری ذندگی بالکل بے معنی اور بے مصرف ہے۔
مگر قرآن کے پیغام کو سمجھنے کے لئے ہر انسان کو ذاتی کوشش کرنی ضروری ہے۔ قرآن مجید کا ذاتی مطالبہ بھی یہی ہے کہ اس کو سمجھا جائے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں٫ “اگر قرآن کا مطلب بتاتے ہوئے میں اپنی طرف سے کوئی بات کہوں تو کون سی زمین مجھ کو پناہ دے گی اور کون سا آسمان میرے اوپر سایہ کرے گا”۔
یعنی قرأن کی درست سمجھ ہمارے لئے بہت ضروری ہے-
ہماری زندگی کا کوئی بھی کام کوئی بھی قدم قرآن کی طرف اور قران کے احکامات کے بغیر درست نہیں ہوسکتا- قرآن کی طرف اٹھایا قدم اور قرآن کے ساتھ سفر سے ذیادہ عظیم اپم اور با برکت کام کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
قرآن میں رب العزت نے ساری کائنات کے لئے خوشیوں کے، برکتوں کے حساب خزانے رکھے ہیں۔ قرآن سے ہی انسانیت حاصل ہوتی ہے اس سے ہی علم ودانش کے پیش بہا خزانے حاصل ہوتے ہیں۔
قرآن کریم کی تلاوت:
قرآن کریم کی تلاوت بھی “زکر اللہ” کی ایک قسم ہے اور بعض حیثیتوں میں سب سے افضل اور اعلیٰ قسم ہے۔
تلاوت کلام میں بندے کی مشغولیت اللہ تبارک وتعالیٰ کو خوش کرنے کا بہترین عمل ہے-
مولانا منظور نعمانی معارف الحدیث میں تحریر فرماتے ہیں۔
” ناچیز راقم سطور نے اس حقیقت کو اپنے اس ذاتی تجربہ سے خوب سمجھا ہے کہ جب کبھی کسی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ میری لکھی ہوئی کوئی کتاب قدر اور توجہ سے پڑھ رہا ہے تو دل سرور سے بھر گیا اور اس شخص سے ایک خاص تعلق اور لگاؤ پیدا ہوگیا،ایسا تعلق اور لگاؤ جو بہت سے قریبی عزیزوں، دوستوں سے بھی نہیں ہوتا۔
بہرالحال میں تو اپنے تجربہ سے یہ سمجھا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنے پاک کلام ‘قران مجید’ کی تلاوت کرتے سنتا اور دیکھتا ہوگا، تو اس بندے پر اس کو کیسا پیار آتا ہوگا۔(الا یہ کہ اپنے کسی شدید جرم کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور نظر کرم کا مستحق ہی نہ ہو)
قرآن کریم میں ہے کہ طوی کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسی علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا۔کتنا خوش قسمت تھا وہ بے جان درخت جس کو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لئے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا۔
اسی طرح جو بندہ اخلاص اور عظمت واحترام کے ساٹھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجر موسوی والا یہ شرف نصیب ہوتا ہے اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے کلام مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اس سے اگے کسی شرف کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کمالی اور یہ کہ ایک نیکی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس تیکیوں کے برابر ہے۔( مزید وضاحت کے لئے آپ نے فرمایا) میں یہ نہیں کہتا) (یعنی میرا مطلب یہ نہیں ہے) کہ ‘الم’ ایک حرف ہے،بلکہ الف ایک حرف ہے ۔ ‘لام’ ایک حرف ہے اور ‘میم’ ایک حرف ہے۔ ( اس طرح ‘الم’ پڑھنے والا بندہ تیس نیکیوں کے برابر ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہوگا۔ ( جامع تر مزی)
(ماخوذ معارف الحدیث مولانا منظور نعمانی)
قرآن مجید کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی اخلاص الخاص نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادب اور اخلاص کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے اگر تلاوت قرآن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شوق اور تدبر سے کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ ان شاءاللہ قلب کو پاک صاف کر کے نور سے بھر دیں گے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجتہ اللہ البالغہ میں “احسان” کے بیان میں قرآن مجید کی تلاوت پر کلام کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے ۔ ” تلاوت قرآن کی روح یہ ہے کہ شوق و محبت اور انتہائی تعظیم و اجلال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کرے،اور اس کے مواعظ اور نضائح میں غور اور ان سے اثر لینے کی کوشش کرے اور ان کے احکام و ہدایت کی تعمیل اور پیروی کے عزم کے ساتھ تلاوت کرے اور اس میں بیان ہونے والے قصص اور امثال سے عبرت کرے،اور جب اللہ کی صفات کا بیان آئے تو کہے “سبحان اللہ “اور جب ان آیتوں سے کزرے جن میں جنت اور اللہ کی رحمت کا بیان ہے تو اللہ سے فضل و کرم فرمانے کی دعا کرے اوراپنے لئے جنت اور رحمت کا سوال کرے۔ اور جب ان آیتوں ڈے گزرے جن میں دوزخ اور اللہ کے غصب کا بیان ہے تو اللہ سے پناہ مانگے۔”
اس طرح کی تلاوت کسی بھی درجہ میں بندہ کو نصیب ہونا اللہ رب العزت کے خاص فصل وکرم سے نصیب ہوتی ہے۔
قرأن مجید کا سمجھنا اور عمل کرنا:
تلاوت کا ثواب ایک حرف پر ایک نیکی ہے۔
اس ثواب کے بارے میں سوچیں کہ جو نہ صرف اس کو پڑھتے ہیں بلکہ اس کے ایک ایک حکم پر عمل کرتے ہیں اس ثواب کو تو میں اور اپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔
معارف الحدیث (مولانا منظور نعمانی) کی ایک حدیث ہے ۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔” جس نے قرآن پڑھا اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کیا قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے کا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ حسین ہوگی”-
جبکہ وہ روشنی دنیا کے گھروں میں ہو اور سورج آسمان سے ہمارے پاس ہی اتر آئے۔
( اس کے بعد حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) پھر تمہارا کیا گمان ہے خود اس آدمی کے بارے میں جس نے خود عمل کیا ہو! “.( مسند احمد ۔ سنن ابی داؤد)
مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے والدین کو جب ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج سے بھی زیادہ خوبصورت اور حسین ہوگی تو خود قرآن کو سمجھنے اور عمل کرنے والے کو باری تعالیٰ کن کن انعامات سے نوازے گے ۔
آخر میں حضرت امام ابن کثیر کا قول
“سلف صالحین ناپسند کرتے تھے؛ کہ کِسی بندے پر مکمل دن گُزر جائے، اور وہ قرآن مجید نہ کھولے”۔
﴿امام ابن كثير رحمه الله﴾
نوٹ:
(اس مضمون کی تیاری میں
معارف القرآن ( مولانا مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ)
معارف الحدیث ( مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ) سے استفادہ کیا گیا)