آہ ستمبر یا ستمگر/تحریر/محمد بابر قیوم چوہدری” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟ “
آہ ! ظفروال میرا شہر آج پھر سوگ میں ڈوب گیا آج پھر ایک خوبرو نوجوان ڈمپر مافیا کے ہاتھوں کچلا گیا یہ کسی سیاستدان کا بیٹا نہیں تھا برسوں سے اس ملک پر آسیب کی طرح راج کرتی Establishment میں سے بھی کسی کا لخت جگر نہیں تھا نہ ہی یہ Eleate Class کا نور نظر تھا پھر یہ کون تھا محمد سلیم ولد نصیر احمد 21 سالہ نوجوان ؟ یہ ایک میری اور اپ کی طرح Middle Class کا غریب محنت کش کا بیٹا تھا جس کا باپ نہ جانے روشن مستقبل کے خواب سجائے اپنے شکستہ بازوؤں سے اس کی دن رات پرورش کر رہا تھا کہ بڑھاپے میں میرے ناتواں کندھوں کا سہارا بنے گا مگر شائد ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کو اس معاشرے میں انسانیت کے دائرے میں شمار نہیں کیا جاتا ۔
جب سے سکول و کالجز موسم گرما کی تعطیلات کے بعد Open ہوئے ہیں میرے میڈیا کے دوستوں نے اپنی زمہ داری پورے کرتے ہوئے دن کے اوقات میں ان خونی ڈمپرز کا بیچ شہر سے گزرتے ہوئے بروقت نہ صرف نوٹس لیا بلکہ متعلقہ اداروں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے متعدد بار جگانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی اور آج اس ضمیر فروشی کا نتیجہ ایک خوبرو نوجوان کی تڑپتی سسکتی لاش کی شکل میں میرے اور اپ کے سامنے ہے ۔ قوم کا اجتماعی شعور تو پہلے ہی بے حسی کی حدوں کو چھو رہا ہے تاہم جن اداروں نے میرے اور اپ کے تحفظ کی قسم کھائی ہوئی ہے وہ انسانیت سے بھی نیچے گرے ہوئے لوگ ہیں ۔ کوئی شرم ، کوئی احساس نام کی چیز ان کے اندر موجود نہیں ، اج سے تقریباً 5 سال قبل 6 معصوم کلیوں کی قربانی بھی ان اداروں کے مردہ ضمیر کو بیدار نہ کرسکی تو مقام افسوس ہوگا کہ محمد سلیم کی آج کی قربانی ضائع نہ ہو جائے ۔ پھر یہ محمد سلیم کی موت نہیں ظفروال کی موت ہوگی شہر ظفروال کی موت جی ہاں ۔
حالات و واقعات اس بات کی اظہر من الشمس گواہی دے رہے ہیں کہ اس حادثے کے اصل زمہ دار وہ ٹریفک پولیس والے ہیں جن کا مطمع نظر موٹر سائیکل سوار سے لیکر بڑی گاڑیوں سے مختلف بہانوں سے جرمانوں کی مد میں پیسے بٹورنا اور اپنی بے لگام افسر شاہی کو خوش کرنا اولین ترجیح ہے ۔ DC ,DPO صاحبان Roteen wise وزٹ پر آئیں تو کیسے ان کے لئے روڈز Clear کئے جاتے ہیں جیسے وائسرائے ہند یا لارڈز صاحب کا گزر ہونا ہے وہ عمومی ٹریفک پر کیا توجہ دیں گے ؟ میں دعوے سے کہتا ہوں جن ٹریفک اہلکاروں کی ظفروال میں ڈیوٹی ہے وہ تو خود ٹریفک قوانین سے نابلد ہیں ہاں مجبور و بے بس عوام کی جیب سے جرمانے کی مد میں پیسے کیسے نکلوانے ہیں اچھی طرح آتے ہیں اور اس کی بھر پور Training لیکر آئے ہوئے ہیں
محترم ڈپٹی کمشنر و DPO صاحب بطور Guardian of District Narowal ظفروال کے بیٹے محمد سلیم کو اپنا بیٹا سمجھ کر انصاف دیجئے اس سے پہلے کہ وہ حقیقی منصف اعلیٰ ( ALLAH) سے انصاف کی اپیل کردے ۔
ایسا Macanizm بنائیے اور اندرون ظفروال ٹریفک کا ایسا Road Map دیجئے کہ کل پھر کوئی محمد سلیم اپ کے سوئے ہوئے ضمیر کی بھینٹ نہ چڑھے کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے نہ کوئی بہن اپنے جوان بھائی کے پیار سے محروم ہو ، کوئی باپ اپنے لخت جگر کی لاش کو اس بے بسی سے منوں مٹی سپرد نہ کرے اور نہ ہی کسی بہن کا سہاگ اس طرح اجڑے، یہ میرے ظفروال کی پکار ہے سنیئے گا ضرور “