جبری گمشدگی کا عالمی دن
تحریر محمد عزیر گل
وقت کی ایک خاصیت ہے کہ یہ کسی بھی دکھ ، غم اور پریشانی کو ختم کردیتا ہے ، کسی کا آپ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ جانا ، دوبارہ کبھی بھی ملاقات کا نہ ہونا ، ایسا غم ہے کہ جس کی تلافی بظاہر ناممکن لگتی ہے ، لیکن وقت کے ساتھ صرف ایک یاد بن کر رہ جاتی ہے ، اسی وقت کی ایک خامی بھی ہے کہ کچھ یادوں کو زندگی کے ہر لمحہ کے ساتھ اس کے غم کو بڑھاتا ہے ، اس تکلیف کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ، انسان کا ایک ایک لمحہ زندگی کو اذیت ناک بنا دیتا ہے ، وہ وقت امید ، مایوسی اور بے بسی کا ہے ، جب انسان کسی شخص کے اچانک اوجھل ہو نے کے بعد اس کی تلاش میں جیتا ہے ، اس کی زندگی ایک اٹکے ہوئے سانس کی طرح سے ہوتی ہے ، وہ ہر سانس پر پُر امید بھی ہوتا ہے کہ اگلا سانس لوں گا ، لیکن اس کے اٹکنے پر مایوس بھی ہوتا ہے ، ایسے غم گہرے اور المناک ہوتے ہیں کہ آپ حال یار سے واقف ہی نہ ہوں کہ میں جس کی واپسی کی راہوں میں نظریں جمائے بیٹھا ہوں ، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں ، وہ واپس آئے گا یا میری آنکھیں انہیں راہوں پر بے نور ہو جائیں گی ۔ یہ مسئلہ ہے ایسے افراد کا جنہیں پوری دنیا میں مسنگ پرسن کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی بھی ریاست یا گروہ کی طرف سے آزادانہ زندگی سے محروم کر دیا جاتا ہے ،اور اس کی حراست کا اقرار بھی نہیں کیا جاتا ، اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل نہیں ہوتا ، یہ معاملہ پوری دنیا میں ہے ، بہت سارے ممالک بطور ریاست ملوث ہوتےہیں ، جو اپنے سیاسی و مذہبی مخالفین کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے خلاف پوری دنیا میں آواز اٹھائی جاتی ہے ۔
اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ آن انفو رسڈ یا ان وولنٹری ڈس اپیئرنسز (WGEID)1980 میں تشکیل دیا گیا ، تاکہ دنیا بھر میں ایسے تمام کیسز کی معلومات لے اور حکومتوں پر اس معاملے کو ختم کرنے پر دباو ڈالے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیسویں صدی میں جبری گمشدگی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا تھا ، جس میں ارجنٹائن ، چلی ، بوسنیا ، سری لنکا اور لاطینی امریکہ میں فوجی امریتوں کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور مختلف تنظیموں نے اس کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی ، لیکن اقوام متحدہ نے 2010 میں عالمی طور پر اس معاملے میں آواز کو موثر بنانے کے لیے ہر سال 30 اگست کو پوری دنیا میں اس معاملے پر آواز اٹھانے کے لیے عالمی دن مقرر کیا ، اس دن کا مقصد اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے ساتھ مسنگ پرسن کی لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا ہوتا ہے ، اس کے لیے ملکی و عالمی سطح پر مختلف سیمنارز اور احتجاجی مارچ کیے جاتے ہیں ، جس میں اس کے خلاف گفتگو کی جاتی ہے ، اعداد و شمار کے کتابچے پیش کیے جاتے ہیں ، قرار دادیں پاس ہوتی ہیں ، ان کی یاد میں شمع روشن کی جاتی ہیں ۔
جبری گمشدگیوں کا معاملہ چند مخصوص ممالک کے ساتھ منسلک نہیں ہے ، بلکہ دنیا کے کم از کم 85 ممالک میں یہ مراکز موجود ہیں ، جن میں لاکھوں افراد گمشدہ ہیں ، قریبی ادوار میں دیکھا جائے تو بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے دور میں سینکڑوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں ، جو ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد مزید واضح اور سچ ثابت ہوئے ۔شام میں بشار الاسد کی حکومت میں تقریبا ایک دہائی میں 82 ہزار افراد حکومتی حراست میں ہیں اور جبری گمشدگی کا شکار رہے ، جس کی تصدیق ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ہوئی ۔ سری لنکا کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتاہے جہاں جبری گمشدگی کا معاملہ سنگین ہے ، زمباوے اور بہت سارے ممالک میں جبری گمشدگی کے کیسز سامنے آئے ہیں ۔بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی انہیں ممالک میں کیا جاتا ہے ، جہاں جبری گمشدگی کے کیسز کی تعداد دس ہزار سے اوپر ہے ، اس کا آغاز 2000 میں ہوا ، جب نائن الیون کا واقع ہوا ، یہ جنرل مشرف کے دور میں بڑے پیمانے پر ہوا ، اپنے مخالفین کو جبری حراست میں لیا گیا ، مجموعی طور پر بلوجستان میں ان کیسز کی تعداد زیادہ ہے اور اس کے بعد یہ صوبہ خیبر پختون خواہ ، سندھ اور پنجاب میں بھی لوگ اس جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے ، ایسے کیسزز بھی سامنے آئے ہیں کہ بلوچستان کراچی میں جن لوگوں کے لیے احتجاج کیے جارہے تھے ، انہیں مسنگ پرسنز میں شمار کیا جارہا تھا ، انہیں باز یاب کروانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں ، وہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث نکلے ، اسی طرح سے پاکستان دشمن ممالک کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہوئے پائے گئے ، 2011 میں موجودہ حکومت نے ایک انکوائری کمیشن بنایا تھا جس نے اب تک 10607 کیسز وصول کیے ہیں ، انکوائری کمیشن نے 31 جولائی 2025 تک کے کیسز کےبارے میں اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے 82 فیصد کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے ،اعلامیہ کے مطابق صرف جولائی کے مہینہ میں 70 کیسز کا فیصلہ کیا اور 17 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے مسنگ پرسن کے لیے 50 لاکھ کے امدادی پیکج پر عمل درآمد بھی کر دیا گیا ہے ، جسٹس (ریٹائرڈ)سید ارشد حسین شاہ کو انکوائری کمیشن کا نیا سربراہ تعینات کیا گیا ہے تاکہ جبری گمشدگیوں کے بڑھتے مسئلہ کا موثر حل تلاش کر کے اس کو ختم کیا جائے ۔
جبری گمشدگی کا معاملہ حساس اور پیچیدہ ہے ، یہ قانونی و اخلاقی طور پر ظلم ہے ، جبری گمشدگی کے شکار لوگ ہی نہیں اس کے ساتھ وابستہ پورا خاندان بھی اس اذیت میں برابر کا شریک ہوتا ہے ، اس لیے اس طرح کے اقدامات سے گریز کرتے ہوئے مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دینی چاہیے ، ان کے لواحقین کو ان تک رسائی دینی اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے ، تاکہ دنیا تک حقائق سامنے آئیں ، ان مجرموں کے حق میں جو جبر کی وجہ سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس کا خاتمہ ہو سکے ۔
