Owais Shahid 0

تشدد سے متاثرہ افراد کا عالمی دن/حقیقت یا افسانہ/تحریر/محمد اویس شاہد

انسانی تہذیب نے صدیوں کے سفر میں جہاں بے پناہ ترقی کی، وہاں کچھ ایسے تاریک گوشے بھی اپنے دامن میں سمیٹے جن پر انسانیت ہمیشہ شرم سار رہے گی۔ انہی تاریک گوشوں میں سب سے ہول ناک چہرہ تشدد کا ہے۔ دنیا بھر میں ظلم و ستم کا شکار ہونے والے بے گناہ انسانوں کی سسکیاں اور ان کے زخموں سے رستا ہوا خون جب عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے لگا، تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 دسمبر 1997 کو ایک قرارداد (53/149) منظور کی۔ اس قرارداد کے تحت ہر سال 26 جون کو تشدد سے متاثرہ لوگوں کی حمایت کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد 1987 میں ہونے والے اس عالمی کنونشن کی یاد تازہ کرنا تھا جس کا مقصد انسانوں پر ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس دن کے تحت تشدد سے متاثرہ افراد کی طبی، نفسیاتی اور سماجی بحالی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، تشدد کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ یہ دن ایک یاد دہانی ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی بھی انسان کو اس کی نسل، مذہب یا وطن کی بنیاد پر بدترین تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ مگر افسوس کہ یہ کاغذ پر لکھے الفاظ آج بھی مظلوموں کے آنسو پونچھنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
جب ہم تشدد کے اس عالمی دن پر دنیا کا حالیہ نقشہ دیکھتے ہیں، تو چند خطے ایسے نظر آتے ہیں جہاں تشدد ایک لامتناہی ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ فلسطین کی دھرتی پچھلی کئی دہائیوں سے خون کے آنسو رو رہی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں بسنے والے انسانوں کے لیے ہر نیا دن زندگی کی نہیں، بل کہ موت کی ایک نئی داستان لے کر آتا ہے۔ ننھے بچوں کی لاشیں، ماؤں کی چیخیں اور بوڑھے باپوں کی لرزتی ہوئی پشتیں اب وہاں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ برسوں میں غزہ پر ہونے والی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر ہونے والے حملوں نے ثابت کیا ہے کہ وہاں تشدد کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، اور یہ تشدد سے بڑھ کر نسل کشی کا ایک گھناؤنا روپ ہے۔ ننھے بچے ملبے کے نیچے دبے اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر ان کے آخری سانسوں کو محسوس کرتے ہیں، یہ وہ ذہنی اور جسمانی تشدد ہے جس کا کوئی ازالہ یا علاج ممکن نہیں۔
دوسری طرف جموں و کشمیر کی وادی ہے، جسے دنیا جنت نظیر کہتی ہے، مگر وہاں کے باسیوں کے لیے اسے ایک وسیع جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کشمیری عوام پچھلی کئی دہائیوں سے بدترین ریاستی تشدد، جبری گمشدگیوں اور پیلٹ گنز کے قہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور جموں کشمیر سول سوسائٹی کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہزاروں نوجوانوں کو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے، جہاں ان پر وہ لرزہ خیز تشدد کیا جاتا ہے جسے سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ پیلٹ گنز کے استعمال نے معصوم بچوں اور نوجوانوں کی آنکھوں کے نور کو ہمیشہ کے لیے چھین کر انہیں اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے ان بیٹوں کی راہ تکتی ہیں جو صبح گھر سے نکلے اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔ ان آدھی بیواؤں کا درد کون سمجھے گا جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور وہ نہ تو ماتم کر سکتی ہیں اور نہ ہی جینے کی کوئی امید رکھ سکتی ہیں۔ یہ وہ خاموش تشدد ہے جو کسی بھی جسمانی زخم سے زیادہ گہرا اور جان لیوا ہوتا ہے۔
تشدد کی یہ داستان صرف فلسطین اور کشمیر تک محدود نہیں ہے، بل کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں مسلمان آبادیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میانمار کے روہنگیا مسلمان جنہیں اپنی ہی دھرتی پر بے دردی سے کاٹا گیا، ان کے گھروں کو جلایا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو نسل کشی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ اسی طرح شام، یمن اور دیگر خطوں میں جنگ کی ہول ناکیوں نے لاکھوں معصوم زندگیوں کو نگل لیا ہے۔ ان علاقوں سے آنے والی تصویریں اور ویڈیوز دنیا کے ہر اس انسان کو رلانے کے لیے کافی ہیں جس کے سینے میں انسانیت باقی ہے۔ کسی ماں کی گود میں بھوک اور سسکتی ہوئی زندگی کے بعد دم توڑتا وجود، یا کسی بوڑھے انسان کی اپنے جلے ہوئے گھر کے سامنے بیٹھ کر خاموش سسکیاں، یہ سب اس عالمی نظام کے منہ پر زوردار تھپڑ ہیں جو انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔
جب ہم ان مظلوموں کے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو روح تڑپ اٹھتی ہے۔ تشدد صرف جسم پر لگنے والے زخموں کا نام نہیں ہوتا، بل کہ یہ انسان کی عزتِ نفس، اس کی امیدوں اور اس کے پورے وجود کو کچل دینے کا نام ہے۔ جب کسی قیدی کو تنہائی میں رکھ کر اس پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے، جب کسی ماں کے سامنے اس کے جگر گوشے کو گولی مار دی جاتی ہے، یا جب کسی معصوم بچی کی عزت کو جنگی ہتھیار کے طور پر پامال کیا جاتا ہے، تو اس وقت انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ ان مظلوموں کی راتیں سسکتے ہوئے اور دن خوف کے سائے میں گزرتے ہیں۔ ان کا جرم صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں یا کسی خاص خطے اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے یہ مسلمان آج عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید کوئی ان کا مسیحا بنے گا، مگر عالمی طاقتوں کی خاموشی اور مصلحت پسندی ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتی ہے۔
ہر سال 26 جون آتی ہے، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں تقریریں کی جاتی ہیں، موم بتیاں جلائی جاتی ہیں اور قراردادیں پاس کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے تشدد کے شکار انسانوں کا حق ادا کر دیا۔ مگر کیا ان کاغذی کارروائیوں سے فلسطین کے کسی بچے کو اس کی ماں واپس مل سکتی ہے؟ کیا اس سے کشمیر کی کسی دکھی ماں کے لاپتہ بیٹے کا سراغ مل سکتا ہے؟ کیا ان تقریروں سے روہنگیا کے مہاجر کیمپوں میں سسکتی زندگیوں کو اپنا وطن واپس مل سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ سرسری اور روایتی دن منانا اب ایک مذاق بن چکا ہے۔ جب تک عالمی برادری اپنے دہرے معیار کو ختم نہیں کرے گی، جب تک ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، تب تک یہ دن محض ایک قرارداد کی یاد بن کر رہ جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی خوابیدہ بصیرت کو بیدار کریں۔ ہمیں صرف سال میں ایک دن افسوس کا اظہار کرنے کے بہ جائے، حقیقی طور پر تشدد کو روکنے اور اس کے خلاف ایک توانا آواز بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے قلم، اپنی زبان اور اپنے ہر ممکن وسیلے سے ظالم کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ جب تک دنیا کا ہر انسان مظلوم کی پکار پر تڑپ نہیں اٹھے گا، تب تک تشدد کا یہ بازار گرم رہے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ فلسطین، کشمیر یا دنیا کے کسی بھی حصے میں بہنے والا خون کسی اجنبی کا نہیں، بل کہ پوری انسانیت کا خون ہے۔ آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم روایتی خاموشی کو توڑیں گے اور ہر اس فورم پر آواز اٹھائیں گے جہاں کسی بے گناہ پر ظلم ہو رہا ہو، تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں ایک بے حس اور اندھے معاشرے کے روپ میں یاد نہ رکھیں۔

عالمی دن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں