
اطنزو مزاح
ہاتھ دھونے کا عالمی دن
بقلم:- انیلہ افضال ایڈووکیٹ
دنیا میں ہر چیز کا دن منایا جاتا ہے۔ لیکن جب سنا کہ “ہاتھ دھونے کا عالمی دن” بھی ہوتا ہے، تو جی میں آیا کہ جی جان سے صابن بنانے والی کمپنیوں کی ترکیب کو داد دیں؛ لیکن پھر سوچا کہ کوئی سازش بھی ہو سکتی ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ ہاتھ دھونے کے شوقین لوگوں کی کوئی عالمی تنظیم سرگرم عمل ہو چکی ہو۔
جو بھی ہو ہاتھ دھونا کوئی معمولی کام نہیں، بلکہ ایک فن ہے۔ کچھ لوگ صرف انگلیوں کے سرے پانی میں ڈبو کر سمجھتے ہیں کہ ہاتھ دھو لیے، جیسے وضو میں مسح ہو رہا ہو۔ اور کچھ تو نلکے کے نیچے ہاتھ رکھنے کے بعد آسمان کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے بارش کے منتظر ہوں؛ کیونکہ ایک چھوٹے سے نلکے میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کے ہاتھوں کو دھو سکے ۔ انہیں کوئی بتاؤ کہ بھائی ہاتھ ہی دھونے ہیں گناہ نہیں کہ آسمان سے ہی پانی برسے گا تو دھل پائیں گے۔
کچھ بچے صرف اس لیے ہاتھ دھوتے ہیں کہ صابن سے بلبلے بنا کر دوست کے منہ پر اُڑا سکیں۔ بچپن میں ماؤں کی سب سے بڑی دھمکی ہوتی تھی کہ “ہاتھ دھو کے آنا، ورنہ کھانا نہیں ملے گا۔ اور بچے بڑی شد مد سے ہاتھ دھوتے تھے۔ کچھ تو اتنے ماہر ہوتے تھے کہ نلکا کھولنے سے پہلے ہی ہاتھ دھونے کی آواز نکال لیا کرتے تھے تاکہ امی کو یقین ہو جائے کہ ہاتھ دھل چکے ہیں۔ اب وہی بچے بڑے ہو کر اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ صرف سوشل میڈیا پر ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔
پہلے تو ہاتھ صرف دو مواقع پر دھوئے جاتے تھے:
ایک، کھانے سے پہلے (اگر یاد آ جائے) اور دوسرے جب امی کا حکم ہو کہ”ہاتھ دھو کے آؤ!” لیکن اب ہاتھ دھونا ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ٹی وی پر اشتہار، اسکولوں میں تقریریں، اور دفتر میں “واش روم میں صابن موجود ہے” کے نوٹس! ارے بھئی اتنا دباؤ تو میٹرک کے پیپرز میں بھی نہیں ہوتا جتنا ہاتھ دھونے کا ہوتا ہے۔
کرونا آیا تو سب کو ہاتھ دھونا یاد آ گیا۔ لوگوں نے اتنی بار ہاتھ دھوئے کہ صابن بھی شرمندہ ہو گیا؛ لیکن اس سے سکن کے ڈاکٹر بہت خوش ہوئے، گویا ڈاکٹر نہ ہوئے “موکیمبو” ہو گیا۔ اب تو ہاتھ دھونے کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ موبائل پکڑنے سے پہلے بھی لوگ ہاتھ دھو لیتے ہیں؛۔ اور ہمارے خیال میں دھونے بھی چاہئیں ؛ بھئی! موبائل تو بہرحال ایک مقدس شے ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسی مخلوق ہر دور میں اور ہر جگہ پائی جاتی ہے جو اکثر خواتین کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتی ہے۔ عموماً اس مخلوق سے جان چھڑوانے کے لئے خواتین کو منہ دھو کر دکھانا پڑتا ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں اکثر اساتذہ بھی ہاتھ دھو کر شاگردوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ایسے میں منہ دھونے والی ترکیب کام نہیں آتی ؛ پھر تو نہانے سے ہی کام بنتا ہے۔ جب استاد کلاس میں جی بھر کر عزت افزائی کرتے ہیں تو شاگرد اپنے ہی پسینے میں نہا جاتے ہیں؛ اور کچھ مرد قلندر تو اسی پسینے میں ڈوب کر سراغ زندگی بھی پا جاتے ہیں۔
بات ہو رہی تھی ہاتھ دھونے کے عالمی دن کی، اس دن کچھ لوگ اتنے جوش میں ہوتے ہیں کہ ہر پانچ منٹ بعد ہاتھ دھوتے ہیں، جیسے ہاتھ نہیں، ضمیر دھو رہے ہوں! اور کچھ لوگ تو بس سیلفی کے چکر میں ہاتھ دھوتے ہیں: ۔ دیکھیں گائز!!! میں کس طرح ہینڈ واش ڈے منا رہا ہوں.” اس دن صابن کی عزت ویسی ہو جاتی ہے جیسے عید پر قصائی کی۔ جو صابن سال بھر ٹوائلٹ کے کونے میں پڑا رہتا ہے، اس دن اُس کی ویلیو کسی ” وہ آئی پی مہمان” جیسی ہو جاتی ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو لائن میں لگا کر ہاتھ دھونے کی تربیت دی جاتی ہے۔
کچھ گھروں میں یہ دن قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔ ماں جی بچوں کو لائن میں کھڑا کر کے اپنی نگرانی میں ہاتھ دھلواتی ہیں ، جیسے بچہ دسترخوان پر نہیں، جنگ پر جا رہا ہو۔ خواتین کے لیے یہ دن خاصا جذباتی ہوتا ہے۔ ہر بار ہاتھ دھونے کے بعد ہینڈ کریم لگانی پڑتی ہے، تاکہ ہاتھوں کی سکن ناراض نہ ہو جائے۔
معاشرے میں ایک طبقہ وہ بھی پایا جاتا ہے جو ہاتھ دھونے کے بعد قمیض کے دامن سے پونچھتا ہے؛ کیونکہ ان کے خیال میں تولیہ تو صرف مہمانوں کے لیے ہوتا ہے اگر وہ اسے استعمال کریں گے تو گندا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ ایک طبقہ اس بھی بڑھ کر ہے جسے ہم پرو میکس بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ لوگ اس عالمی دن ہر بھی ہاتھوں کو صابن نہیں لگائیں گے۔ ان کا نعرہ ہے : “آج صرف پانی سے دھو لو، نیت صاف ہو تو ہاتھ خود بخود پاک ہو جاتے ہیں!” اور اگر ان میں سے کوئی واقعی صابن سے ہاتھ دھو لے تو آس پاس والے نہ صرف چونک جاتے ہیں؛ بلکہ پریشان بھی ہو جاتے ہیں۔
معزز قارئین! حقیقت تو یہ ہے کہ ہاتھ دھونا ایک سنجیدہ اور اہم عمل ہے، مگر ہم پاکستانی اس میں بھی مزاح تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہاتھ دھونا صرف جراثیم سے بچاؤ نہیں، ایک عزت دار، سلیقہ مند، اور باشعور انسان کی نشانی بھی ہے؛ لیکن وطن عزیز میں ہاتھ صرف صابن سے ہی نہیں دھوئے جاتے ، کبھی کبھی ذمہ داریوں سے بھی دھو لیے جاتے ہیں! جو بھی ہو ، ہاتھ دھونا نہ بھولیں، کیونکہ صاف ہاتھ ،صاف دل کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس ہاتھ دھونے کے عالمی دن پر وعدہ کریں کہ صرف چکن کھانے کے بعد نہیں، بلکہ کسی کا حق کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوئیں گے۔ ہر وقت صابن کے ساتھ تعلق قائم رکھیں گے؛ کیونکہ تھوڑا سا ہنسی کا جھاگ بھی ضروری ہے!
ہاتھ دھونا ایک سنجیدہ عمل ہے اسے سنجیدگی سے انجام دیجئے۔ یاد رکھیں یہ آپ کے ہاتھ ہیں قانون کے نہیں جو اتنے لمبے ہیں کہ ان کو دھونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔