
پاک سعودی دفاعی معاہدہ: امت مسلمہ کے اتحاد و استحکام کی نوید/تحریر/اجالا/مولانا عبدالقدوس محمدی
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ دفاعی معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ عالم اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ قدم اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ امت مسلمہ اب اپنی بقا اور تحفظ کے لیے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر آمادہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض سیاسی و سفارتی بنیادوں پر قائم نہیں، بلکہ یہ ایمان، عقیدے اور حرمین شریفین کی محبت میں جڑا ہوا ہے۔ اسی غیر متزلزل رشتے نے ہمیشہ دونوں ممالک کو قریب رکھا ہے اور آج کا یہ معاہدہ اسی دیرینہ تعلق کو نئی وسعتیں فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ دنوں قطر پر اسرائیلی حملے نے پوری مسلم دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ فلسطین و غزہ میں جاری مظالم کے ساتھ ساتھ اب اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم دیگر عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ایک تاریخی اور بروقت قدم ہے۔ اس معاہدے نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ امت مسلمہ اب مزید غفلت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ قطر سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس اتحاد کا حصہ بننا چاہیے تاکہ نیٹو طرز پر ایک ایسا مضبوط بلاک قائم ہو جو امت مسلمہ کے اجتماعی دفاع اور اتحاد کی ضمانت بن سکے۔
اس سارے تناظر میں سعودی عرب کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد اور بقا کو مقدم رکھا ہے۔ سعودی عرب کے پاس وسائل، تجربہ اور قیادت ہے جبکہ پاکستان کے پاس عسکری مہارت، قربانیاں اور دنیا کی ایک بہترین فوج۔ جب یہ دونوں قوتیں یکجا ہوں گی تو امت مسلمہ ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرے گی۔ سعودی عرب کا یہ عزم کہ وہ امت کے مسائل میں صرف تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گا بلکہ عملی اقدام کرے گا، آج پوری مسلم دنیا کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔
پاکستان کا کردار بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے درد کو اپنا درد سمجھا۔ چاہے وہ معرکۂ حق ہو، بنیان مرصوص کی طرح مضبوط صفوں کا قیام ہو یا پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح، پاکستان نے ہر بار اپنی عسکری مہارت اور قربانیوں سے دنیا کو متاثر کیا۔ حالیہ برسوں میں ترکی، چین، قطر اور آذربائیجان جیسے ممالک نے پاکستان کی قوت کو تسلیم کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا۔ یہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی اسی بڑھتی ہوئی قدر و منزلت اور سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امت مسلمہ کے پاس بے پناہ وسائل ہیں لیکن بدقسمتی سے اتحاد کی کمی نے ان وسائل کو بکھیر رکھا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ ایک سنگ میل ہے جو اس سمت پیش قدمی کی علامت ہے کہ مسلمان ممالک اب اپنی تقدیر کے فیصلے خود کریں گے۔ اگر دیگر اسلامی ممالک بھی اختلافات پس پشت ڈال کر اس معاہدے میں شامل ہوں تو نیٹو طرز کا ایک ایسا اتحاد وجود میں آ سکتا ہے جو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ دنیا بھر کے توازنِ قوت پر اثرانداز ہو گا۔
یہ معاہدہ دراصل ایک نظریے، ایک خواب اور ایک امید کا نام ہے۔ خواب یہ کہ امت مسلمہ اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے فیصلے خود کرے۔ امید یہ کہ حرمین شریفین اور قبلہ اول کا دفاع امت مسلمہ کی پہلی ترجیح بنے۔ اور نظریہ یہ کہ مسلمان ممالک اپنی صفوں کو بنیان مرصوص کی طرح استوار کریں تاکہ دشمن کی کوئی بھی طاقت انہیں کمزور نہ کر سکے۔
یہ معاہدہ محض عسکری تعاون کا نام نہیں بلکہ امت مسلمہ کی وحدت اور بقا کا اعلان ہے۔ یہ موقع اس اعتبار سے یادگار ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے عملی طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ مسلم دنیا اب مزید تقسیم اور کمزوری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
یہ معاہدہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پوری امت کے لیے امید اور اعتماد کی ایک کرن ہے۔ اللہ رب العزت اس معاہدے کو امت مسلمہ کے دکھ درد کا مداوا بنائیں
آمین یارب العالمین