0

ہر صاحبِ دستار معزز نہیں ہوتا /تحریر/ ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن

*ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا*
تحریر از: ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمن۔
عرب میں ایک حکیم تھا جو طومہ حکیم کے نام سے مشہور تھا۔اللہ تعالی نے ان کو حکمت میں ملکہ عطا فرمایا دور دراز کے علاقوں سے لوگ ان کے پاس جانوروں کے ذریعے یا پیدل سفر کر کے علاج معالجے کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے وہ باقاعدہ اپنے مریضوں کو وقت دیتے اطمینان سے انہیں چیک کرتے اور متعلقہ بیماری کی ادویات کے بارے میں رہنمائی فرمایا کرتے عرب کے اکثر علاقوں میں ان کے نام کا چرچہ تھا اور لوگ حکمت کی وجہ سے انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے دور دراز کے علاقوں سے باقاعدہ لوگ ان کے پاس حکمت سیکھنے کے لیے آیا کرتے یوں ان کا ایک باقاعدہ ایک سلسلہ تلمذ بھی تھا۔ فارغ اوقات میں طومہ حکیم باقاعدہ طب سے متعلقہ کتب بھی تحریر کرتے اور لوگوں کے تجربات کو بھی قلم بند کیا کرتے تھے۔ان کا ایک بیٹا تھا جو دنیا جہان کا نالائق تھا اور اسے حکمت اور طب سے ذرا بھی لگاؤ نہیں تھا طومہ حکیم نے بارہا مرتبہ اپنے بیٹے کو سمجھاتے اسے اپنے ساتھ رکھتے تاکہ طب سے متعلق اسے جان کاری ہو لیکن ان سب حربوں کے باوجود اس پر کوئی اثر نہ ہوا وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ بڑھاپے کی وجہ سے حکیم صاحب کی اپنی طبیعت بہت زیادہ خراب رہنے لگی اور پھر ایک دن آیا کہ وہ اس دار فانی کو چھوڑ کر چلے گئے۔ چونکہ حکیم صاحب کے پاس لوگ علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں سے سفر کر کے ایا کرتے تھے اس وقت کوئی ایسا ذریعہ نہ تھا کہ لوگوں کو اپ کی وفات کے متعلق اگاہ کیا جاتا لہذا جب بھی کوئی مریض دور کے علاقے سے دوا لینے کے لیے اتا، حکیم صاحب کا بیٹا انہیں بتاتا کہ حکیم صاحب فوت ہو گئے تو وہ اصرار کرتے کہ ہم اتنے دور سے ائے ہیں آپ پ حکیم صاحب کے بیٹے ہیں کچھ نہ کچھ حکمت تو سیکھی ہوگی لہذا ہمیں اپ کچھ نہ کچھ دوا دے دیجئے مجبورا وہ لڑکا گھر میں پڑی ہوئی دواؤں میں سے اندازے کے مطابق کوئی دوا دے دیتا بعض دفعہ لوگ وہ دوا استعمال کرتے تو ٹھیک ہو جاتے اور بعض دفعہ وہ دوا کاریگر ثابت نہ ہوتی۔ حکیم صاحب کے گھر مریضوں کے انے جانے کا یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ ایک تسلسل سے جاری رہا یوں طومہ حکیم کا یہ نالائق بیٹا جو حکیم تو نہیں تھا لوگوں نے اسے زبردستی حکیم بنا دیا۔ یہ جہاں بھی جاتا لوگ ادبا اور تعظیما کھڑے ہو جاتے ہر شخص حکیم صاحب حکیم صاحب جیسے القابات سے نوازتا لوگوں کی طرف سے کی جانے والی اس حد تک آؤ بھگت اور پروٹوکول نے اسے اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیا کہ میں واقعی حکیم ہوں۔ گھر میں پڑی ہوئی دوائیں کچھ دن تک تو چلتی رہیں لیکن آہستہ آہستہ وہ سٹاک ختم ہونے لگا اسے فکر لاحق ہونے لگی کہ اب کیا کیا جائے تو اس نے بالآخر اپنے والد کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور گھر میں ہی مزید دوائیں تیار کرنا شروع کر دیا اب چونکہ باقاعدہ اس نے حکمت سیکھی نہیں تھی کسی حکیم کی شاگردی اختیار نہیں کی، اس کی موجودگی میں کسی دوا کو تیار نہیں کیا تو اس نے جو دوا تیار کرنی ہوتی کتاب میں درج اس کا طریقہ کار مطالعہ کرتا اور درج شدہ چیزوں کو آپس میں ملا کر دوا تیار کر لیتا۔ایک مرتبہ اس نے ایگزیما(جلدی الرجی اور زخم) مرض کی دوا تیار کرنی تھی اس دوا کی تیاری کے لیے اس نے کتاب کو پڑھنا شروع کیا کہ اس میں کون کون سے نسخہ جات شامل کیے جاتے ہیں جب یہ کتاب پڑھ رہا تھا تو وہاں ایک لفظ لکھا ہوا تھا “خُبَّة السَّوداء”(اس کا معنی ہوتا ہے کالا سانپ)اس سے ملتا جلتا ہی لفظ ہے “حُبَّةالسَّوداء” (اس کا معنی ہوتا ہے، کلونجی)۔ ان دو لفظوں میں بظاہر صرف ایک نقطے کا فرق ہے۔ طومہ حکیم نے کتاب لکھتے ہوئے غلطی سے نقطہ لگا دیا تو معنی کلونجی سے کالا سانپ بن گیا اب اس کتابی حکیم نے جب وہ وہ دوا تیار کی تو جس مقدار میں کلونجی استعمال کرنا تھی اتنی مقدار میں اس نے اس دوا میں کالے سانپ کی زہر ملا دی۔ جب یہ دوا تیار ہو گئی اور لوگوں نے یہاں سے لینا شروع کیا تو چونکہ اس میں زہر تھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مر گئے۔ اب علاقے بھر میں بدنامی ہونا شروع ہو گئی اور لوگوں نے طومہ حکیم کے خلاف بھی زبان درازیاں کرنا شروع کر دیا کسی دوسرے علاقے کے لوگ بھی یہاں سے دوا لے کر گئے ہوئے تھے جب وہاں بھی لوگ مرنا شروع ہوئے تو وہاں سے کچھ لوگ اس کے گھر ائے انہوں نے مخصوص طریقے سے اس دوا کو چیک کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس میں زہر ہے انہوں نے اس سے پوچھا زہر کیوں ملائی تو اس نے دلیل کے طور پر اپنے والد کی لکھی ہوئی کتاب سامنے رکھ دی اب انہوں نے عبارت کو جب پڑھا تو وہ لفظی غلطی کو پہچان گئے کہ کتابت میں ایک نقطے کا فرق لگا ہے۔ انہوں نے جب اس کے گھر میں دیکھا تو ایک گدھا کھڑا ہوا تھا جس کو یہ سواری کے لیے استعمال کرتا تھا۔ گدھے کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے گدھے کی مناسبت سے یہ جملہ کہا کہ اللہ کی شان ہے کہ تم اس کے اوپر سواری کرتے ہو جبکہ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اسے تمہارے اوپر سواری کرنا چاہیے۔ یعنی ایک جاہل وہ ہوتا ہے جسے سمجھایا جائے تو وہ جہالت کے زمرے سے باہر آ جاتا ہے اور ایک جاہل وہ ہوتا ہے جسے یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ وہ جاہل ہے۔ بلاشبہ انسانی معاشرے میں حقیقی علم اور مہارت کی بنیاد کے بغیر کسی ذمہ داری کو سنبھال لینا ہمیشہ خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ علم کو بھی وراثت کی طرح تقسیم کیا جانے لگا ہے، گویا جیسے زمین اور جائیداد منتقل ہوتی ہے ویسے ہی منصبِ علم اور روحانیت بھی نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اگر کوئی شخص تقویٰ اور کمالات کے ساتھ کسی خانقاہ کا گدی نشین ہے تو اس کے بیٹوں کو بھی اسی مرتبے پر فائز کر دیا جاتا ہے، چاہے ان میں وہ اوصاف سرے سے موجود ہی نہ ہوں۔ اسی طرح اگر باپ کسی مدرسے کا جلیل القدر استاد، مفتی یا شیخ الحدیث ہے تو محض نسبت کی بنیاد پر اس کے بیٹے کو بھی اہلِ فتویٰ اور عالمِ باعمل سمجھ لیا جاتا ہے، چاہے وہ اس معیار کے قریب بھی نہ ہوں۔مدارس اور جامعات میں قابلیت اور علم کے بجائے رشتہ داری اور تعلق داری کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ سیاست میں بھی یہ روایت عام ہو چکی ہے کہ باپ کی کرسی بیٹے کو ملے گی اور جماعت کی قیادت وراثت کی طرح تقسیم ہو گی، چاہے بیٹا عوامی خدمت کے شعور سے ہی محروم کیوں نہ ہو۔کوئی ادارے کا سربراہ ہے تو اس کے بعد اس کی اولاد یا رشتہ دار کو بھی وہی منصب دے دیا جاتا ہے چاہے اس میں قیادت کی صلاحیت نہ ہو۔ طب و علاج جیسے حساس میدان میں بھی محض ڈگری اور سفارش کی بنیاد پر نالائق افراد مریضوں پر تجربات کرنے لگتے ہیں۔ یہ المیہ صرف دین یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبۂ زندگی میں پھیل چکا ہے کہ محنت اور اہلیت دب کر رہ گئی ہے اور نسب و تعلق ہی سب کچھ بن گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داریاں محض نام،ڈگریوں،سفارشوں یا وراثت سے نہیں بلکہ صلاحیت، دیانت اور محنت سے نبھائی جاتی ہیں،اور جب معاشرے میں یہ اصول نظر انداز کر دیا جائے تو ادارے کمزور، نظام بگڑا ہوا اور عوام مسائل کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔جب ہم ان سارے مسائل کا حل تلاش کرنے کے اسلامی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ روایت آتی ہے ” صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی کسی سفر میں زخمی ہوگئے اور ان کے سر پر چوٹ لگی۔ دورانِ سفر وہ جنابت میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تیمم کر لینا کافی ہوگا؟ لیکن بعض ساتھیوں نے لاعلمی کی بنا پر کہا کہ نہیں، جنابت کی حالت میں پانی کے بغیر غسل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے پانی سے غسل کیا جس سے زخم بگڑ گیا اور بالآخر وہ صحابی فوت ہوگئے۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: انہوں نے اسے قتل کردیا، اللہ انہیں ہلاک کرے! جب انہیں علم نہیں تھا تو پوچھ کیوں نہ لیا؟ بے علمی کا علاج سوال کرنا ہے(سنن ابو داؤد)مذکورہ بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی لاعلمی کا اعتراف کرے اور اہلِ علم سے سوال کرے۔ اصل وراثت زمین یا منصب نہیں بلکہ تقویٰ، علم اور مہارت ہے، اور جو قومیں اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہیں وہ زوال اور تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہیں۔ لہٰذا آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہر میدان میں صلاحیت اور دیانت کو معیار بنایا جائے، اور دین، علم، سیاست یا طب جیسے حساس شعبوں میں ذمہ داری صرف انہی کو دی جائے جو واقعی اس کے اہل ہوں۔ یہی وہ اصول ہے جو معاشروں کو بقا، ترقی اور امن بخشتا ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جو جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے انسانیت کے سفر کو صحیح سمت عطا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں