
متعلمہ: البیان اکیڈمی آن لائن
اللّٰہ رب العزت کا عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمارے کمزور ایمان کو دوبارہ سے ازسر نو اور کامل بنانے کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ عطا فرمایا ہے ۔
ہمیں ان گنتی کے دنوں کی دل و جان سے قدر کرنی چاہیے اور اس کی تیاری کرنی چاہیے تاکہ ہم اللّٰه پاک کی رحمتوں سے بہرہ ور ہوسکیں ، یوں تو اللّٰه پاک نے ہماری دنیا اور آخرت کے سرمایہ کے لیے ہمیں فرائض واجبات کا مکلف بنایا ہے لیکن اس ماہ مبارک میں چند نوافل و مستحبات کے ساتھ حلاوت ایمانی اور اپنے حصول کی رضا کا موقع عطا فرمایا ہے ،اس لیے ہمیں اس کی قدر کرنی اور بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ،اس کے شروع ہونے سے پہلے توبہ اور استغفار کر کے ظاہری اور باطنی طور پر خوب پاک و صاف ہونا چاہیے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ جل شانہ نے اپنی نبی ﷺ کی امت پر احسان اس لیے کیا تاکہ آپ ﷺ اپنی امت کے فائز المرام ہونے پر خوش ہوجائیں اور اللّٰہ رب العزت کے اس فرمان کے مصداق بنیں۔
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔
اس لیے ہمیں بھی یہ عہد کر لینا چاہیے کہ ان شاءاللٰ٘ہ تعالیٰ ہم اس ماہ مبارک کے شب و روز اس طرح گزاریں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مقبول ترین ہوں ۔
احتیاط اس بات کی ہے کہ تمام ظاہری و باطنی گناہوں سے بچیں اور اہتمام اس بات کا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں اور عبادات وطاعات کریں۔
رمضان المبارک کے استقبال کے لیے علماء کرام نے چند اہم ہدایات کی ہیں :
رمضان المبارک سے قبل فرائض واجبات کی پابندی کی جائے ،اگر ذمے قضا نمازیں یا روزے ہوں تو ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے،سابقہ گناہوں پر توبہ کی جائے اور دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کیا جائے ۔
رمضان المبارک کے مسائل یعنی روزہ ،تراویح ،صدقۃ الفطر،زکوۃ،اعتکاف اور دیگر احکامات سیکھیں۔
صلہ رحمی کو عام کریں یعنی قطع رحمی جس کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتی لہذا رمضان آنے سے قبل اس سنگین گناہ سے توبہ کی جائے۔ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے:”اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جب اس کے ساتھ قطع تعلقی یعنی رشتہ داری توڑی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔”
اپنے نفس کو تقوی کا پابند بنائیں۔ کیونکہ رمضان المبارک کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔
ہمارا دل عام طور پر نفرت اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے دل میں نفرت اور حسد رکھنے والے کی اللّٰہ رب العزت مغفرت نہیں فرماتے ،لہذا رمضان المبارک آنے سے قبل ہمیں اپنے دل کو پاک وصاف کرنا چاہیے اور خالص اللّٰہ پاک کی عبادت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔
رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے ،ابھی سے لمبی لمبی دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے ۔
رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔ خوش قسمت لوگ اس ماہ مبارک میں تلاوت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ لہذا ابھی سے تلاوت قرآن کا معمول بنانا چاہیے تاکہ رمضان المبارک سے قبل تلاوت قرآن پاک کی عادی ہو جائیں۔
رمضان المبارک میں راتوں کی عبادت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس لیے ان عبادات کو احسن انداز اور بلا تھکاوٹ ادا کرنے کے لیے ابھی سے تہجد کا اہتمام کیا جائے تاکہ رمضان المبارک میں دقت پیش نہ آئے ۔
رمضان المبارک میں وقت کی قدر دانی بہت اہم ہے ،آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر عام طور پر وقت ضائع کیا جاتا ہے، لہذا رمضان المبارک سے قبل ان کا استعمال محدود کیا جائے ۔
قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں پڑھی جا سکیں۔
لغو اور فضول باتوں سے پرہیز کریں۔ لغو باتیں کرنے سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے۔ لغو باتیں کیا ہیں؟ جیسے فضول قصے،کسی کا بے فائدہ ذکر وغیرہ یا خاندانی باتیں جن میں عموماً غیبت ہونے کا امکان ہوتا ہے لہذا فضول مشاغل سے بچنا چاہیے کیونکہ صرف گنتی کے تیس دن ہیں اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو کلام پاک پڑھو،سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پڑھو اور دینی کتاب کا مطالعہ کرو۔