91

اسلام آباد وہ شہر جہاں اسلام مظلوم ہے/از قلم/عبدالعلیم اعوان

عصر کی نماز ادا کرنے کےلیئے وضو سے جیسے ہی فارغ ہوا تو جیب میں پڑے ہوئے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔جیسے ہی کال اٹھائی تو آگے سے کچھ یوں آرڈر ملا”عصر کی نماز کے بعد مظلوم اسلام آباد یعنی اسلام آباد ویسے یہ نام تو رکھنے والے نے بڑا پیارا رکھا تھا۔بڑا ولی اللہ،دین سے جڑا شخص تھا جس نے یہ نام رکھا ہوگا کہ پاکستان کا دارالحکومت وہ شہر ہوگا جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا لیکن افسوس آج اس شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایسا لگتا ہے یہ اسلام آباد نہیں بلکہ وہ شہر بن چکا ہے جہاں اسلام مظلوم نظر آتا ہے۔گلی گلی،چوک در چوک،اس شہر میں بسنے والے اسلام کو روندتے نظر آتے ہیں خواہ وہ وطن عزیز کی سرکاری عمارتیں یعنی سپریم کورٹ یا دیگر عدالتیں عمارتیں ہو یا قومی اسمبلی و پارلیمنٹ جیسی عمارتیں یا غیرسرکاری،سرکاری ونیم سرکاری یونیورسٹیز ہو یا سکول کالجز،ہر طرف،ہر سو شمالا،جنوبا،مشرقا ومغربا اسلام آپ کو مظلوم ہی نظر آئے گا یقین جانیئے!اب تو بجائے اسلام آباد کے یورپ آباد نظر آئے گا مرد ہو یا خواتین انکے جسم پر بجائے اسلامی رنگ،تہذیب وتمدن کے یورپی رنگ،تہذیب وتمدن نظر آئے گا” جانا ہے ایک جگہ تعزیت کےلیئے مل کر جائے گے.خیر عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم راولپنڈی سے مظلوم اسلام آباد کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے I_9مرکز کے قریب ایک لمبی چوڑی بلڈنگ کے قریب رک گئے۔چھٹی کا وقت تھا اکثر کام کرنے والے باہر نکل رہے تھے تو میری پہلی نظر ایک لمبے قد کے مالک,
جسم پر انگریزی تہذیب یافتہ لباس پہنے شخص پر پڑی جن سے میری ایک دفعہ علیک سلیک ہوئی تھی۔مجھے دیکھ کر ہمارے پاس آئے سلام دعا کے بعد ہمیں اندر لے گئے جس کی وجہ سے سیکورٹی پر معمور افراد کے لمبے چوڑے انٹرویو سے بچ گئے۔خیر اندر داخل ہوئے تو پہلی نظر ایک چھوٹے سے باغیچے پر پڑی جس کے عین وسط میں یورپ”جو آئے روز کبھی تاجدار ختم نبوت،تاجدار مدینہ،ختم الرسل،حضرت آمنہ کے لخت جگر یعنی آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں اور کبھی مسلمانوں کی مقدس و لاریب کتاب “قرآن پاک”کی بےحرمتی کرنے والوں” کی نقالی کرنے والے لباس پینٹ شرٹ میں ملبوس پانچ سے چھ نوجوان “ٹیبل ٹینس” کا میچ کھلتے نظر آئے خیر اندر داخل ہوئے تو استقبالیہ پہ بیٹھی خاتون سے ان شخص کی بابت دریافت کیا جو ہماری ملاقات کے مقصود تھے۔اللہ کا کرنا جب نظر ادھر ادھر دوڑائی تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے اس نیم سرکاری ادارے میں سوائے ایک شخص کے جو شلوارقمیض یعنی قومی لباس بلکہ اگر یوں کہاں جائے کہ پاکستانی لباس میں موجود تھے باقی سارے یورپیئن لباس کی نقالی کرتے نظر آئے یہ تو مسلمان مرد تھے اگر خواتین کی بات کی جائے تو وہ بھی اس مجال میں مردوں سے پیچھی نہیں ادارہ میں سوائے استقبالیہ پہ بیٹھی خاتون کے علاوہ خواتین کے سروں سے اترئے دوپٹے نظر آئے جنکی عزت،مرتبے،اور عصمت کی حفاظت کی خاطر سن انیس سو سنتالیس میں کئی ماؤں،بیٹیوں اور بہنوں کے سر کے دوپٹے گرے،انکے گھروں میں چھپے اور دوپٹوں میں قید سروں کے بال عیاں ہوئے اسکے علاوہ دیگر مشقتیں جھیل کر اس گلستان کو آباد کیا پر آج وہاں جدید تہذیب کی پروردہ انکی بیٹیاں انگریزی تہذیب پسند کرتے اور اسلامی تہذیب وتمدن کو چھوڑتے ہوئے آپنی عزتیں تار تار کرتی نظر آتی ہیں”خیر ہمیں اس معاملہ میں طویل انتظار نہیں کرنا پڑا کیونکہ موصوف وہاں پر پہلے ہی سے شاہد ہمارے انتظار میں موجود تھے کیونکہ گھر سے نکلتے وقت میرے رفیق سفر صاحب نے انھیں اطلاع کردی تھی۔علیک سلیک کے بعد وہ ہمیں مہمان خانے میں لے گئے خیر مہمان خانے کے دروازے پر بھی بجائے اردو لکھت کے انگریزی لکھت کو پایا۔زیادہ توجہ تو نہیں دی بس یوں سمجھیئے کہ ادارے کے صدر دروازے سے لیکر انتہاء تک خوبصورت اسلامی تہذیب کے بجائے انگریزی و یورپی تہذیب و زبان عیاں تھی۔الغرض موصوف سے گپ شپ جاری تھی کہ ایک صاحب ٹرے میں چائے کی پیالیاں سجائے اندر داخل ہوئے تو وہاں بھی چائے کے کپ پہ انگریزی زبان لکھی پائی تو چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سوچنے پہ مجبور ہوا کہ آخر ہمارے بڑوں نے آزادی کےلیئے لاکھوں جانیں کیوں نچھاور کی۔ کیا ہم آزاد قوم ہیں؟
کیا ہم آزاد ریاست کے باسی ہیں یا کسی دوسری ریاست کے غلام؟
اگر ہم آزاد قوم اور آزاد ریاست کے باسی ہیں تو کیوں انگریزوں کی زبان اور تہذیب کو اختیار کیئے ہوئے ہیں یا ہمیں آزادی کے باوجود تمام عمر غلام بن کر رہنا ہے۔حالانکہ ہماری آپنی ریاست اور آپنی قومی زبان “اردو”اور اسلامی زبان “عربی”موجود ہیں۔اسکے باوجود میرے دیس کے لوگ انگلش کو پسند کرتے نظر آتے ہیں۔
محترم قارئین!آئیے آزاد قوم کے ہونے کے ناطے آپنی ریاست اور اس کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں حتی کہ سکولوں سے لیکر یونیورسٹیوں تک آپنی اسلامی قومی تہذیب اور زبان “اردو” کو رائج کرے تاکہ آگے آنے والی نسلیں محفوظ ہوسکے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں