ایک لکڑہارا اگر مسلسل درختوں کو کاٹتا رہے ، تو اس کے کلہاڑے کی کاٹ آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی ۔ اگر پھر بھی وہ اسی حالت میں لکڑیاں کاٹے گا ، تو لکڑیاں یا کٹیں گی نہیں یا ان پر وقت اور توانائی بہت زیادہ خرچ ہوگی ۔ اگر لکڑہارا تھوڑی دیر اپنا کام روک کر کلہاڑے کی دھار کو تیز کر لے گا ، تو اس کے یہ دس منٹ ضائع نہیں ہونگے ، بلکہ اس کا وقت بھی بچائیں گے ، اس کی توانائی بھی بچائیں گے اور اس کے کام کو بھی تیز کردیں گے ۔
اسی طرح ہمارے اعتکاف کے دن خدانخواستہ ضائع نہیں ہوتے بلکہ ہمیں پہلے زیادہ قیمتی اور مؤثر بنادیتے ہیں ۔ اس عبادت کی ادائیگی کے بعد ہم اپنے گھر والوں ، دوست احباب ، متعلقین بلکہ خود اپنی ذات اور کام کےلیے پہلے سے کہیں زیادہ مفید اور کارآمد بن جاتے ہیں ۔
ہم ایک گھنٹہ موبائل چارج کرتے ہیں ۔ موبائل اگلے چوبیس گھنٹوں کےلیے قابل استعمال ، کارآمد اور مفید ہو جاتا ہے ۔ یوں وہ ایک گھنٹہ جس دوران وہ چارجنگ پر لگا رہا اور استعمال نہ ہوا ، اس نے اس کی زندگی بڑھا دی ۔ اسی طرح جب ہم دنیا سے مکمل کٹ کر چند روز کےلیے خود کو اپنے محبوب کی یاد کےلیے وقف کردیتے اور اس کے در پر جا پڑتے ہیں ، تو ہم سال بھر کےلیے روحانی طور پر چارج ہو جاتے ہیں ۔ ان دس دنوں کے اثرات ہمیں سال بھر محسوس ہوتے ہیں ۔ اس دوران حاصل ہونے والی برکات پورے سال ہمارے ساتھ رہتی ہیں ۔
آخر کوئی وجہ تو ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے ۔ جس سال آپ کا وصال ہوا ، آپ نے بیس روز کا اعتکاف فرمایا ۔ ایک بار پورا رمضان ہی معتکف رہے ۔ آپ کا یہ اہتمام ہی اعتکاف کی اہمیت کو ثابت کرنے کےلیے کافی ہے ۔
رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے ۔ کسی بھی چیز کے سیزن کے آخری دن منافع کے نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ ان دنوں کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے ۔ رمضان کا آخری عشرہ نیکیوں کے سیزن کا اختتام ہوتا ہے ۔ اعتکاف اس آخری وقت کو قیمتی بنانے اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ معتکف اگر نفلی عبادات نہ بھی کرے تو اس کا وقت عبادت میں ہی شمار ہوتا ہے اور سب سے بڑا فائدہ اسے یہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ گناہوں سے بچا رہتا ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے ۔
اکرام مہمان کا حق ہے ۔ اعتکاف کے دوران معتکف اللہ کا مہمان ہوتا ہے ۔ اس ذات سے زیادہ کوئی قدردان نہیں ۔ اس کے خزانے لامحدود ہیں ۔ وہ اپنے انھی خزانوں میں سے اپنے در پر جا پڑنے والے کو نوازتا ہے اور اعتکاف کرنے والا مالا مال ہو کر اس کی چوکھٹ سے نکلتا ہے ۔ اس سے زیادہ عزت افزائی کیا ہوگی کہ حق تعالی شانہ نے اپنے دو جلیل القدر پیغمبروں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کو حکم دیا کہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کےلیے اس کے گھر کو پاک صاف کریں ۔ ( البقرہ )
معتکف دنیاوی معاملات اور ماحول سے مکمل کٹ جاتا ہے ۔ اسے یک سوئی کا بہترین ماحول میسر آتا ہے ۔ اس دوران اسے مراقبے اور اپنے محاسبے کا موقع ملتا ہے ۔ وہ اپنے معاملات پر غور و فکر کر کے اپنی سمت درست کر سکتا ہے ۔ اپنا زاویہ فکر بدل سکتا ہے ۔ اپنے اندر نیا جوش و ولولہ پیدا کر سکتا ہے ۔ اپنی گناہوں کی زندگی سے تائب ہو کر نئے عزم و ارادے کے ساتھ ایک نئی اور بدلی ہوئی زندگی کا آغاز کر سکتا ہے ۔ اس طرح یہ دس دن اس کی زندگی میں ایک اہم موڑ اور سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں ۔
جو عبادت جتنی اہم ، مشکل اور قربانی والی ہوتی ہے ، اس پر اللہ تعالی اسی قدر اجر و ثواب بھی مرحمت فرماتے ہیں ۔ اعتکاف کرنے والے کو بھی بارگاہ خداوندی سے بڑا اجر ملتا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے اللہ کی رضا کےلیے ایک روز کا اعتکاف کیا ، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کردیتے ہیں ، جن کی چوڑائی زمین و آسمان کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔
اعتکاف آخرت کی کمائی کرنے والوں کےلیے ایک بہترین موقع ہے ۔ آخری عشرہ کی ہی طاق راتوں میں ایک رات شب قدر کہلاتی ہے ، جسے قرآن میں ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے ۔ ( القدر ) اعتکاف کا ایک بڑا مقصد احادیث مبارکہ کی رو سے شب قدر کی تلاش بھی ہے ۔ اعتکاف کرنے والوں کےلیے اس رات کا حصول یقینی ہو جاتا ہے ، کہ ان کا اللہ کے گھر میں سونا بھی عبادت شمار ہوتا ہے ۔
الغرض اعتکاف مناجات ، بےپناہ اجر و ثواب ، قرب خداوندی ، محبت الہی ، رضائے رب ، مراقبہ نفس ، تزکیہ نفس ، رمضان کے آخری دنوں کو قیمتی بنانے اور شب قدر کے حصول کا ذریعہ ہے اور سب سے بڑھ کر رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی سنت ہے ، جس کا آپ نے ہمیشہ اہتمام فرمایا ۔