81

الفاظ/تحریر/نمرہ امین(لاہور)

انسان جب لکھتا ہے نہ تو کبھی کبھی کچھ ایسا لکھ جاتا ہے کہ اس کے الفاظ بھی روتے ہیں۔ وہ الفاظ جو آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ آپ کی خوشی کو محسوس کرتے ہیں۔ آپ کی ہر بات کو ہر رویے کو بیان کرتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان کچھ بول نہیں پاتا ہے، کچھ بیان نہیں کر پاتا ہے لیکن جب وہ لکھتا ہے تو اس کے الفاظ سب کچھ بیان کر دیتے ہیں اور یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں، وہ دل کی باتیں اور خیالات و جذبات ہوتے ہیں جو ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے نہ ہی سمجھ پاتا ہے۔ وہ پڑھ کہ بھی نہیں سمجھ سکتا ہے کہ یہ صرف الفاظ ہیں یا کسی کہ جذبات و احساسات ہیں، کسی کے دل کی وہ باتیں، وہ ارمان ہیں جو اس نے موتیوں کی لڑی میں پرو کر اپنے لفظوں میں بیان کر دی ہیں۔
پڑھنے والا تو بس ان لفظوں کو پڑھ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف وہ الفاظ ہیں ایک تحریر ہے۔ وہ ان لفظوں کی گہرائی کو محسوس نہیں کر سکتا ہے۔ ان میں چھپے ہوئے درد، خوشی، غمی، سکون کچھ بھی محسوس نہیں کر پائے گا۔
ان لفظوں کی پہچان کو، ان میں چھپی گہرائی کو یا تو صرف لکھنے والا ہی جانتا ہے اور وہی سمجھ سکتا ہے کہ اس نے اپنے دل کی باتیں، جذبات اور سب ارمان الفاظ کی صورت میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ بیان کر دیے اور ان کو ایک صفحے میں سمیٹ دیا ہے تاکہ وہ جذبات ایک کاغذ کے ٹکڑے میں قید ہو جائیں اور کوئی بے حس انسان اس کے ان جذبات و احساسات کو دنیا کے سامنے تماشا نہ بنا سکے۔ ان کے ارمانوں کا گلہ نہ گھونٹ سکے۔ اس کی خواہشات کو زمانے کے سامنے رسوا نہ کر سکے۔
یہ الفاظ سمجھنا سب کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی ہے کہ وہ کسی کے لکھے ہوئے ان لفظوں کو سمجھ جائے جو صرف اس کے دل کی آواز ہے جس سے وہ اس لکھنے والے کی زندگی کو پڑھ سکے ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو یہ سب سمجھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں۔
لفظوں سے ہی انسان کسی کو پہچان سکتا ہے کہ وہ کس طرح کا ہے اور اس کے الفاظ کیا بیان کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں