اُلو کا نام سامنے آتے ہی سب سے پہلے جو خیالات ذہن میں منڈلانے لگتے وہ کچھ اس طرح کہ ہیں
اُلو جہاں ہو وہاں کالا جادو ، نحوست و شیطانیت وغیرہ ہوتی ۔
اگر غور کیا جائے تو اُلو کی گول آنکھیں قریب سے جس قدر خوفناک لگتی ہیں
اس کا بخوبی اندازہ آپ سب کو ہوگا۔
اُلو کہی تحقیر کے طور پر یاد کیا جاتا ، تو کہی کسی کو مزاح کا نشانہ بنانے کہ لیے یہ محاورے استعمال کیے جاتے ۔
اُلو کا پٹھا ،کاٹھ کا اُلو ،
اُلو کا ڈھکن،اُلو بننا، اُلو کی طرح دیدے نچانا۔
لیکن اُلو بعض جگہوں پر بڑی اہمیت کا حامل بھی سمجھا جاتا ہے ۔
توآئیں! چلتے یہ جاننے کہ دیگر اقوام میں
اُلو کے چند دلچسپ حقائق کون سے ہیں؟ جو اُس کے اندر موجود خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔
آئیں آج ہم چلتے اس کی چند پوشیدہ خصوصیات کی طرف جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔
یہ 190 خاندانوں میں بٹے ہوتے ہیں لیکن نمایاں اُن کے 23 خاندان ہیں۔
معروف اُن میں اسکریچ اُلو ، ہارنڈ اُلو ، وہیٹ اُلو ہیں
یہ جسامت کے اعبتار سے مختلف ہوتے ہیں۔
بھاری بھرکم تو کچھ بہت چھوٹے ، مختلف رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ اُلو دھبےدار ہونے کی بنا پر شکاری پرندے جیساکہ باز چیل وغیرہ سے محفوظ رہتے ۔
خرگوش ، چوہے ، گلہریاں ، چڑیا کا شکار کرتے ہیں
اس طرح یہ اپنا تو پیٹ بھرتے ہی ہیں ۔ کسانوں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ان جانوروں کے شکار کی وجہ سے اناج محفوظ ہوجاتا جو کہ کسانوں کے لیے فائدے کا سودا ہے
270 ڈگری تک گردن و آنکھیں گھمائے بنا بیٹھا دیکھتا ہے
ہندو کی مذہبی کتاب میں
” بالمیک رامائن” اُلو کو بیوقوف کی بجائے ” دانا ” پرندہ لکھا گیا ہے۔
اس خاصیت کی وجہ سے
” رشی منیوں ” نے بہت سوچ سمجھ کر اس کو “لکشمی” کی سواری بنایا۔
اُلو ایک اہم خصوصیت جس بات کو مانا جاتا کہ ان کے جُھنڈ کو انگریزی میں ” پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔
ایران میں اُلو کی اچھی آواز کو خوشی کا پیش خیمہ مانا جاتا ہے۔
ہندوستان میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اُلو کا کاجل بنا کر آنکھ میں لگانے سے رات میں بھی دن جیسا دکھائی دیتا ہے۔
ہندو کا عقیدہ کہ اُلو کا “پنکھ” مال کے ساتھ رکھ دینے سے دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اب خیر ان کو کون سمجھائے بھئ اُلو تو اُلو ہی ہے۔