ماہ رمضان المبارک میں جس طرح کار خیر کرنے والے بہت ہیں تو وہیں اس خیر کو سمیٹنے والے بھی بےتحاشہ نظر آتے ہیں ۔ اب یہاں زکوٰۃ صدقات کے حقیقی مستحق کون ہیں؟ پڑھیے اس تحریر میں ۔
ضرورت مندوں تک خود پہنچیں!
”کئی دنوں سے کام کی تلاش میں ہوں،آج ایک دوست سے کچھ رقم ادھار مانگی تھی، ابھی اس سے ہوکر آرہا ہوں، لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ مجھے بلاکر خود ہی غائب ہوجائے گا۔جیب میں پچاس روپے تھے جو دوست کے پاس جاتے ہوئے کرایے میں خرچ ہوگئے۔ وہاں میںاس کا انتظار کرتا رہا،لیکن اس نے شاید آناتھا اور نہ آیا،لہٰذا مرتا کیا نہ کرتاکے مصداق میں نے مزید انتظار کو گناہ سمجھا اور پیدل ہی رخت سفر باندھ لیا۔ بھائی!آج کے زمانے میں لوگ نیکی بھی بغیرتشہیر کے نہیں کرتے۔ جب تک آگے پیچھے کیمرے نہ ہوں، سوشل میڈیا کی ٹیم نہ ہو،کوئی آٹے کا ایک تھیلا تودورگھی کا ایک پیکٹ بھی نہیں دیتا۔ کیونکہ یہی تو ان کی مزید ”نیکیوں“ کا سبب ہے۔ لوگ دیکھتے ہیںکہ یہ تو بڑا اچھا کام کررہے ہیں،جس کی وجہ سے ان کے ڈونرز میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید امداد ملتی ہے توپھر وہ اپنی اور زیادہ تشہیر کرتے ہیں۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم جیسے غریبوں، سفید پوشوں کا بھرم ٹوٹ جاتاہے۔اب مجھے ہی دیکھ لو۔ میں ناظم آباد سے پیدل آرہاہوں ، کسی نے بھی لفٹ نہیں دی، اور مجھے بھی اچھا نہیں لگتا کہ میں کسی سے مدد مانگوں۔ اب جب بیس تیس کلو میٹر پیدل چکا تو ہمت جواب دے گئی اور میں یہاں اس چوک پر آکراس آسرے پہ کھڑا ہوگیا کہ کوئی تو اللہ کا بندہ آگے لے جائے گا۔ اللہ نے آپ کے دل میں ڈالا اور آپ نے مجھے بٹھا لیا۔ میں آپ کا بہت مشکورہوں“۔
وہ یہ کہہ کر بھرائی ہوئی آواز میں تشکرانہ لہجے میں ہمارا شکریہ ادا کرنے لگا، تو ہم نے اسے روکتے ہوئے کہا:
”بھائی! ہمارا دین ایک دوسرے سے ہمدردی نیکی اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ انسان کو اللہ نے دوسری مخلوق سے ممتاز ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کو احساس کی دولت ملی ہوئی ہے، اور رمضان المبارک میں تو پھر نیکیوں کا اجر دُگنا تگنا ہوجاتا ہے، تو پھر ہم کیوں اس سیزن میں پیچھے رہیں۔“
رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے اور ہم تراویح پڑھاکرگھر جارہے تھے تو چوک پر اس نوجوان نے ہاتھ کے اشارے سے لفٹ مانگ لی۔ منزل دونوں کی ایک ہی تھی اور رات کے اس پہر کیونکہ پبلک ٹریفک نسبتاً کم ہوتی ہے توہم نے گاڑی روک کر اس کو ساتھ بٹھالیا۔ اس کی باتیں سن کرہم نے اس کو مزید کریدتے ہوئے پوچھا:
” تم اتنی دور سے پیدل آرہے ہو، کسی سے لفٹ لے لیتے توجلدی گھر پہنچ جاتے؟“
وہ بولا:
”ایک تو حالات ایسے نہیں ہیں کہ کسی سے لفٹ مانگی جائے۔ آئے دن اس شہر میںچوریاں، ڈکیتیاں، لوٹ مار ہوتی ہے۔ امیر محفوظ ہے اور نہ ہم جیسا غریب۔ نہ تو دیہاڑی دار مزدور، محنت کش ڈاکوو ¿ں سے بچ پارہا ہے اور نہ ہی تاجر حضرات سکون کا سانس لے پارہے ہیں۔ دن دیہاڑے لوگوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ مختلف طریقوں، حیلوں بہانوں اور نئی نئی وارداتوں سے لوگوں کو نقدی، زیورات اور گاڑیوں سے محروم کیا جارہا ہے، اور اس کام میں پورے پورے گروہ ملوث ہیں۔ اس لیے ڈر لگتا ہے کہ کسی سے اگر مدد مانگی یا کسی سے لفٹ لی تو وہ کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ میں پیشہ ور وارداتیہ ہوں اور اس کے ساتھ کوئی کارروائی نہ کردوں، اور یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں بلکہ اس شہر میں بہت لوگوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ لوگ لفٹ کا بہانہ بناتے ہیں اور مدد کرنے والے کو ہی لوٹ لیتے ہیں۔ دوسری بات ہم جیسے لوگوں کا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ کسی کے آگے ہاتھ پھلائیں۔ ہمیشہ یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ بس اپنا محتاج کرے اور غیروں کی محتاجی سے سب کو بچائے۔ مجبوری میں تو بندہ دل پر پتھر رکھ کر مدد مانگ لیتا ہے، لیکن یہ چیز بھی سفید پوش بندے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتی۔ ہم غریب ضرور ہیں، لیکن ہم کسی ایک ضرورت کی خاطر اپنی سفید پوشی کی چادر کو ادھیڑ نہیں سکتے“۔
سفر کے ساتھ ساتھ یوں ہی باتیں چلتی رہیں۔ گھر قریب آنے پر ہم نے اس نوجوان کو اُتار دیا اور وہ شکریہ کرتے ہوئے چلا گیا، مگر جاتے جاتے وہ ہمارے سامنے سوالوں کا پورا پلندہ چھوڑ گیا، اور ہم سوچنے لگے کہ ہماری کتنی ہی نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جو ریاکاری سے خالی نہیں ہوتیں، اگر کسی کی مدد کررہے ہیں تو دِکھاوا اس عمل کا لازمی جز بن جاتا ہے۔کسی مستحق کی اِمداد کو عذاب بنا دیا جاتا ہے، اور سفیدپوش، خوددار انسان بس یہی سوچنے لگتا ہے کہ اس ذلت بھری امداد وصول کرنے سے کئی درجے بہتر تھا کہ میں بھوکا ہی رہتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ماہ مبارک میں بہت سے اللہ والے ایسے بھی ہیں جن کی نیکی کا پتہ ان کے دوسرے ہاتھ کو بھی نہیں چلتا اور بلاشبہ ایسے ہی لوگوں کی نیکیوں کے بارے میں قرآن و احادیث مبارکہ میںبشارتیں دی گئی ہیں، لیکن وہ لوگ جو اس ماہ مبارک میں ایسے افعال کرتے ہیں ،جس سے نیکی کا حسن ماند پڑ جاتا ہے، اُن کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنے ضرورت ہے۔ اُن کو اپنی تن آسانی کو پس پشت ڈال کر نیکی کا صحیح مصرف تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم ایسے مستحقین کو خود تلاش کریں جو صحیح معنوں میں مستحق ہیں، اور اُن پر اپنا حلال طریقے سے کمایا ہوا مال، زکوٰة، صدقات، خیرات و دیگر مصارف کی صورت میں خرچ کریں اور یہی نیکی کااصل حسن ہے۔ بہت سے حقیقی ضرورت مند، سفید پوش صرف اپنی غیرت اور سفیدپوشی کا بھرم رکھنے کے لیے باہر نہیں نکلتے اور کسی کے آگے اپنا دکھ درد بیان نہیں کرتے، اُن کے لیے نکلنا اور ان کی ہر طرح کی مدد کرنا صاحب ِاستطاعت حضرات کا دینی فریضہ ہے۔ لہٰذا اس ماہ مبارک میں اس عمل کو خوب خوب کریں اور ضرورت مندوں تک خود پہنچنے کی کوشش کریں، تاکہ آپ کو نیکی کی حقیقی خوشی حاصل ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔