رمضان المبارک میں جہاں غیر اقوام احترام انسانیت کے پیش نظر مسلمانوں کے لئے خریداری کی اشیاء پر خوب سبسڈی دے رہی ہیں۔
تو وہیں ہمارے صاحب اقتدار طبقہ کو ہماری فکر کیوں نہ ہو ۔
اس ماہ مبارک میں جہاں غلام پر سے بوجھ ہلکا کرنے کی فضیلت ہے۔
ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے صاحب اقتدار طبقے نے بھی مفت آٹے کا پیکج لگایا۔
ایک شاعر نے خوب کہا تھا
ذلیل کرنے کے کئی اور بھی طریقے تھے
نجانے حکومت کو مفت آٹے کا خیال کیوں آیا
بل ہر مہینہ گھر آسکتا ہے تو مفت آٹا گھر گھر کیوں نہیں پہنچایا جا سکتا ۔
مفت آٹے کے بجائے سبسڈی دی جاتی تو کافی ناخوشگوار واقعات جن میں ، لڑائی جھگڑے ،ہلاکتیں وغیرہ شامل ہیں رونما نہ ہوتے ۔ انتظامیہ اور پولیس بھی زائد فٹیک سے بچ جاتے ۔
ہماری قوم کی کی قسمت بھی عجیب ہے کبھی ٹرک کی بتی کے پیچھے تو کبھی آٹے، سی این جی، پیٹرول اور یوٹیلیٹی سٹور کے سامنے لائنوں میں ۔
7 سے زیادہ دہائیاں اس ملک کے بنے ہوئے گزر گئی مگر ہم آج بھی لائنوں میں ہی کھڑے ہیں ۔ پاکستان بنانے کا جو مقصد تھا اب بھی صرف کتابوں میں پڑھانے کو ملتا ہے ۔ صرف چہرے بدل رہے ہیں نظام وہی پرانا استحصالی ہے۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر ایک واقعہ جو اکثر بزرگوں سے تھا یاد آیا۔
“” دور گاؤں میں ایک کفن چور رہتا تھا جس کی ساری زندگی میتوں کو بےرنگ کرنے اور کفن چرانے میں گزر گئی ۔ جب اس کا آخری وقت آیا ، موت سامنے منڈلاتی ہوئی نظر آئی تو اس نے اپنے بیٹے کو بلایا اور وصیت کی ۔
بیٹا میری ساری زندگی تمہارے سامنے ہے میں نے پوری زندگی کوئی خاص نیکی نہیں کی جو میرے مرنے کے بعد لوگ مجھے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں سنا ہے میت کے پیچھے اگر لوگ اچھے لفظوں میں یاد کریں تو بخشش یقینی ہوتی جاتی ہے ۔
تو بیٹا تم ایسا کام کوئی ضرور کرنا کہ لوگ مجھے اچھاکہیں ۔یہ کہتے ہی ہچکیاں لیتا ہوا اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔
باپ کی تجہیز وتکفین کے بعد جب بیٹے کو اپنے ابا کی وصیت یاد آئ تو بڑا پریشان ہوا۔
آخر کو بیٹا وہ بھی کفن چور کا ہی تھا اس نے بھی کفن چوری کو وراثتی پیشہ سمجھ کر اپنا لیا مگر وہ کفن چوری کرنے کے ساتھ ایک کام کا اضافہ بھی کر آتا ۔
کفن چوری کے بعد مردوں کی تشریف میں ڈنڈا بھی دے آتا ۔
جب گاؤں والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا اس کمینے سے تو اس کا باپ لاکھ درجہ اچھا تھا جو صرف کفن چراتا تھا یہ ڈنڈے والی حرکت تو نہیں کرتا تھا ۔
یاد رکھئیے ہم پر مسلط ٹولہ ایک دوسرے سے مفاد کی رسی میں مضبوط بندھا ہوا ہے اور مل جل کر عوام کا استحصال کر رہا ہے۔ کام ان سب کا بھی چور ہی ہے
” فرق صرف ڈنڈے کا ہے “
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ممبر روایتی قصے کہانیاں کو سائیڈ پر رکھ کر
قرآن مجید کا فلسفہ آزادی سامنے رکھیں عوام کو شعور دیں۔ تاکہ ہم سب متحد ھو کر اپنے اوپر مسلط اس استحصالی طبقے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ ورنہ آج ہم تو کل ہماری آنے والی نسل بھی لائنوں میں ہوگی۔
یہ مافیا اسی طرح اپنے محلات میں عیاشیاں کرتا رہے گا ۔
71