136

قرآن کریم اور نبوی تعلیمات میں عورت کے حقوق/محمد احمد شہباز/کراچی

قرآن کریم اور نبوی تعلیمات میں عورت کے حقوق
تحریر/محمد احمد شہباز/متعلم/جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی

دین السلام فرد کی فکری تربیت کے حوالے سے اس حقیقت کو متعارف کراتا ہے کہ انسان معاشرت پسندی کے خمیر سے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس کرۂ ارض پر ہر دور میں انسان نے معاشرت پسندی کے حوالے سے اجتماعی زندگی بسر کی ہے۔ اس ضمن میں جس معاشرتی ادارے کو بنیادی حیثیت حاصل رہی وہ خاندان ہے۔ اور یہ خاندان انسانی معاشرے کے دو اہم افراد مرد و عورت کے اشتراک سے وجود میں آتا ہے۔ چناں چہ قرآن کریم کی سورۂ حجرات میں ہے: (( ا ے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے))۔ آیت کریمہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ معاشرہ کی تکمیل کے لیے مرد و عورت دونوں بحیثیت انسان یکساں ہیں۔ لیکن خاندان کے ان دو افراد میں سے عورت کو بعض تہذیبوں میں فرد ہی نہ سمجھا گیا، اور بعض میں اس کو منحوس سمجھا گیا حتی کہ یہ ابحاث بھی کی گئیں کہ صنفِ نسواں انسان بھی ہے یا نہیں؟ چناں چہ تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ حوّا کی بیٹیوں کے یہ حقوق اس وقت غصب ہوۓ جب انبیا کرام کی تعلیمات سے روگردانی کی گئی یا ان میں اپنی طرف سے ملاوٹ کی گئی۔ یونان و روم کی تہذیب ہو، یا یہود و نصاری کامذہب ہو، ہندو دھرم ہو یا جدید مغربی فکر، ان میں سے کوئی عورت کو وہ درجہ نہ دے سکا جو اس کا ایک معاشرے میں ہونا چاہیے تھا، عزت و تکریم تو کجا! خود آپ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ کی آمد سے پہلے عرب کی حالت کس قدر خاکستر تھی؟! عورت اس قدر معیوب تھی کہ لوگ اپنی بچیوں کو پیوند خاک کر دیتے! قیامت کے حالات بیان کرتے ہوۓ اس پُر ستم رسم کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ تکویر میں اس طرح ہے: ((اور جس بچی کو زندہ قبر میں گاڑ دیا گیا تھا، جب اس سے پوچھا جاۓ گا کہ اسے کسی جرم میں قتل کیا گیا؟))۔ ان تمام ناانصافیوں کے بعد آخر مظلوم عورت کی چیخ و پکار آسمان کو چیرتی ہوئی عرش پرجا پہنچی اور مالک کائنات نے حضرت محمد۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ کو قیامت تک کے لیےآخری نبی اور رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔
آپ کی تشریف آوری جہاں اور مخلوقات کے لیے رحمت کا سبب بنی وہیں خاص طور پر آپ کی آمد سے عورت کو گویا انسانیت کا درجہ مل گیا۔ دیوانِ حماسہ -عربی اشعار کا مجموعہ ہے- میں ایک مصرعہ ہے، جس کا ترجمہ ہے: “آپ کی تشریف آوری کے بعد عورتیں بھی لوگ ہو گئے”۔ آپ نے بعثت کے بعد اس مظلوم و مقہور صنف کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے معزز مناصب پر فائز فرما کر اسے معاشرہ کا اہم فرد قرار دیا۔
اسلام نے مرد و عورت کی مساوات کی بات کی، سورۂ بقرۃ کی آیت 187 میں ہے: ((وہ -عورتیں- تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو))۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ نے فرمایا: “سنو! میں تمہیں عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں، عورتوں کا تم پر حق ہے اور تمہارا ان عورتوں پر حق ہے”۔ اب یہ بات عین عقل کے مطابق ہے کہ جب مرد و عورت دو الگ الگ صنف ہیں تو ان کے حقوق بھی الگ الگ ہوں گے، لہذا اسلام نے دونوں اصناف کے حقوق الگ اور مستقل بیان کیے۔
بچیوں کے حقوق بیان کرتے ہوۓ آپ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ نے فرمایا : “جو شخص دو لڑکیوں کو پا لے حتی کہ بالغ ہو جائیں تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا اور اتنا قریب ہوگا جتنی یہ دو انگلیاں اور آپ نے اپنی انگلیوں کو ملایا”۔ بیوی کے لیے ایک موقع پر فرمایا: “دنیا متاع(فائدہ کی چیز) ہے اور بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ آپ نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دے کر اس کا درجہ تحت الثریٰ سے اوج ثریا تک پہنچادیا۔ قرآن میں آگیا کہ ماں کو اُف تک نہ کہو۔(بنی اسرائیل:23) اسلام نے خالہ کو ماں کی نظر سے دیکھا۔ ساس کو باعزت قرار دیتے ہوئے آپ نے فرمایا : “جنہوں نے اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دی ہے وہ بہت زیادہ عزت و احترام کا حق رکھتے ہیں”۔ ایک موقع پر آپ کی رضاعی بہن حضرت شیمیہ آئیں تو آپ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھادی۔ غرض آپ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ نے اپنے قول و فعل سے صنفِ نسواں کی بہت توقیر و تکریم فرمائی۔
خدا کی شان کہ آپ کے اپنے گھر میں کوئی نرینہ اولاد نہ بڑھی، اور آپ نے چارچار صاحبزادیوں کے ناز اٹھاۓ، ان کی بہترین تربیت فرمائی، اور اس وقت جو سوچ لوگوں کے قلب و فہم میں رچ بس گئی تھی اسے نکال باہر کیا۔ اور معاشرے میں عورت کو ایک باعزت فرد سمجھا جانے لگا۔
قرآن کریم اور نبوی تعلیمات میں عورت کو بےشمار حقوق عطا کیے گئے۔ من جملہ حقوق میں سے: سب سے پہلا حق یہ دیا کہ اس کی پیدائش حلال طریقہ پر ہو، پیدائش کے بعد شرعی حقوق مثلاً اذان و عقیقہ کا حق دیا، تعلیم اور تربیت کا حق دیا اور اس پر آپ نے ترغیبات فرمائیں۔(تعلیمی حق کے سلسلے میں کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی دلیل ہوگی کہ آپ کی وفات کے بعد اما جان صدیقہ-رضی اللہ عنہا- 50 سال تک مسلمانوں کے لیے منبع علم رہیں؟!)، پھر اخراجات و کفالت کا حق دیا۔محبت و عزت کا حق، عبادت کا حق(اس کو عبادت سے نہیں روکا جا سکتا)، نکاح کا حق(زبردستی نہیں کی جا سکتی)،مہر کا حق، خلع کا حق،ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں عدل و مساوات کا حق، رشتہ داروں سے میل ملاقات کا حق، نکاحِ ثانی کا حق، زندگی کا حق (کہ جو عورت کو قتل کرےگا قصاصا قتل کیا جاۓ گا)،ملکیت کا حق، وراثت کا حق،تجہیزو تکفین کا حق۔ غرض پیدائش سے لے کر موت تک کے حقوق حوا کی بیٹی کو اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے بغیر کسی مطالبہ کے ارشاد خداوندی اور تعلیمات نبوی کے ذریعہ عطا کیے ہیں۔ نیز اسلام نے خواتین کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے حقوق و ضوابط کا قانونی طور پر تعین بھی کر دیا۔ اسلامی معاشرے نے سیرت النبی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ کی روشنی میں جو حقوق و مراعات خواتین کو دیے ہیں ان سے اس نے فائدہ بھی اٹھایا اور جہاں کہیں دیکھا کہ اس کے حقوق تلف کیے جا رہے ہیں، یا اس پر کسی قسم کی زیادتی ہو رہی ہے، تو اس نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری بصیرت کے ساتھ جدو جہد بھی کی ہے اور اسلامی قانون نے ایسے تمام مواقع پر اس کو کامیاب بھی بنایا ہے۔ جبکہ مغرب (west) میں طویل تحریکوں، مزاحمتوں کے نتیجہ میں خواتین نے کتنے حقوق حاصل کیے؟ دوسرے یہ کہ اسلام کے عطا کردہ حقوق وحی الہی کے ذریعہ ہیں، جبکہ مغرب میں حقوق تجربات و عقل کی بنیاد پر دیے گئے۔ خود فیصلہ کیجیے کس میں عورتوں کی پاکیزگی کا سامان ہوگا؟
اسلام نے انسان کو بالخصوص خواتین کو جو حقوق عطافرمائے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی قدیم یا جدید مذهب و تہذیب نے نہیں دیے۔ لیکن یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے کہ ایسے پر آشوب و پرفتن دور میں جبکہ خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دلانے کے بہانے گلی گلی نوکری کے نام پر ان کی عزت کو تارتار کیا جا رہا ہے، خواتین کے حقوق کے حوالہ سے اسلام ہی کو سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے اور یہ پروپیگنڈا اتنی شدت و تکرار کے ساتھ کیا گیا کہ غیروں کے ساتھ ساتھ اپنے بھی متاثر ہو چکے ہیں۔ کیا مغرب کے کھوکھلے نعروں سے مرعوب لوگ یہ نہیں جانتے کہ عورت کو تو عزت دینے والا ہی صرف اسلام ہے۔ دوسرے ادیان نے عورت کو شہوت پرستی کے لیے استعمال کیا، جب تک دل لگا رہا محبت کی، جب دل بھر گیا اسے چھوڑ دیا اور اس چلن نے ماں، بہن، بیٹی کا تقدس ختم کر دیا۔اس کے نتیجہ میں سماجی نظام تخریب اور انتشار کا شکار رہا۔ اگر آج مغربی خاتون اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہے تو اس کی وجہ مغربی معاشرہ خود ہے، وہاں کی عورت کو تو بنیادی حقوق ہی نہیں دیے گئے۔ جبکہ ایک اسلامی خاتون کو تو اس کے ابدی سماوی دین نے پیدائش سے لے کر موت تک کے حقوق عطا کیے ہیں۔ پھر وہ مغربی تحریکوں سے کیوں مرعوب ہے؟ اور کیوں اس کی خواہش ہے کہ جس نام نہاد آزادی کی بات مغرب کررہا ہے، وہ آزادی اسے بھی نصیب ہو؟ اقبال تو اپنی بیٹیوں کو بہت پہلے یہ نصیحت کر گئے:

اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

 آخر میں مغربی تہذیب سے مرعوب ذہنیت کی حامل اپنی بہنوں سے عرض ہے کہ خدارا نبوی تعلیمات کا مطالعہ کریں، اور غور کریں کہ ان کی ناموس، عفت و عصمت، اور انسانی وقار کا محافظ اسلام ہے یا مغرب کی کھوکھلی تہذیب؟ ان کے تشنہ شبہات کے جوابات وہیں ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

قرآن کریم اور نبوی تعلیمات میں عورت کے حقوق/محمد احمد شہباز/کراچی“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں