108

محبت اور آنسو/تحریر/خدیجہ عبدالرحمن

یوں تو رونا غم کے باعث ہوتا ہے ،، انسان تکلیف کے جاں سوز لمحات سے گزرتا ہے تو دل کا درد آنکھ سے آنسو بن کے ٹپکتا ہے انسان بکھر بکھر جاتا ہے
ہاں مگر اک آنسو ایسا ہے جو بکھرنے کے لئے آنکھ میں نہیں آتا نکھارنے آتا ہے
دنیا کا سب سے پیارا آنسو وہ ہے۔۔۔۔ کہ جب انسان ایسی کیفیت میں ہو کہ درد کی انتہا ہو اور انسان کسی کو بھی اپنا درد نہ بتاسکے نہ ہی کوئی انسان اس کو سمجھ سکے ،،، یہ وہ عالم تنہائی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہجوم میں بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ ایسے وقت انسان دائیں دیکھتا ہے تو اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ، بائیں دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔ اصل میں ۔۔۔۔۔ یہ درد ۔۔۔۔ درد نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی بیمار روح کا ۔۔۔۔ علاج ہوتا ہے ۔۔۔۔وہ علاج جو آپ اس درد کی کیفیت میں محسوس کرتے ہیں کہ اللہ نے یہ درد عطا کر کے ۔۔۔۔ کیسی آخرت کی اذیت سے بچنے کا سامان کردیا ہے اور آپکو اپنے آپ سے اللہ کی محبت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ تب تھکے ہارے دل کو ٹکڑا ٹکڑا چن کر اللہ کے حضور لے جانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسکی محبت کے ۔۔۔ احساس ۔۔۔ سے نکلے ہوئے آنسو کو اسی کے آگے سر ۔۔۔ سجدے میں رکھ کے ںہانے میں جو مزہ ، لطف اور سکون ہے وہ کسی بڑی سے بڑی خواہش کے پورا ہونے پہ بھی نہیں ملتا ۔۔۔ ۔۔۔۔
پھر رگ و پے میں اک ہی آواز گونجتی ہے
جے سوہنا میرے دکھ وچ راضی
تے میں سکھ نوں چلھے پاواں
غلام فریدا کدی مل جائے سوہنا
تے میں رو رو حال سناواں
وہی ہے سچا اور واحد محرم راز ،،، اسی کو دوست رکھیں وہی سچا دوست ہے ، وہی ہاں وہی ہاں وہی ہاں وہی ہے
ہک ہے ہک ہے ہک ہے
ہک دی ساکوں سک ہے
مسئلے انسان کی زندگی میں تبھی بنتے ہیں جب وہ نحن اقرب الیہ من حبل الورید سے یقین کھو بیٹھتا ہے ،،، اپنے سچے دوست سے دور ہوجاتا ہے ، وہ شہ رگ سے کتنا نزدیک ہے یہ فاصلہ کتنا ہے ۔۔۔ یہ ہم طے کرتے ہیں یہ ہم ہی ہوتے ہیں جب دور جاتے ہیں تو وہ دور نظر آتا ہے جب قریب جاتے ہیں تو قریب نظر آتا ہے ۔۔۔ جب گناہوں سے میلے ہوجاتے ہیں وہ حجاب میں نظر آتا ہے پھر یہ محسوس ہوتا ہے
یا الھی میں بڑے عذاب میں ہوں
تیرے سامنے ہوں اور حجاب میں ہوں
اصل میں ہم خود ہی حجاب ہوتے ہیں۔ خود ہی فاصلہ ہوتے ہیں خود ہی جدا ہوتے ہیں وہ تو اقرب ہی اقرب ہے ،، وہ انی قریب کا مژدہ سناتا ہے بلاتخصیصِ نیک و بد ، ہم ہی اس کو جان نہیں پاتے ،
اگر اللہ کو جاننے کی بات کی جائے تو میرے نزدیک اللہ کو جاننے کے لئے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے بلکہ اگر یوں کہوں کہ اس کو پانے کا اک ہی کوڈ ہے ۔۔۔۔۔ الودود ۔۔۔ جی محبت ہی وہ واحد کوڈ ہے جس سے اللہ کا کا پتہ ملتا ہے ، پہچان ملتی ہے نشان ملتا ہے معرفت نصیب ہوتی ہے۔ اور جب اک بار یہ نصیب ہوجائے پھر آپ کو وہ دور ہونے کی مہلت نہیں دیتا اس کی محبت کا ہر رنگ آپکو یہ کہنے پہ مجبور کر دے گا
اول آیاں پیلو چنڑ دے سانگے
اوڑک تھئیاں فرید دے وانگے
ہکیاں بکیاں نی
پیلو پکیاں نیں
کب خواہشات و محبت کے پیلو چنتے چنتے اسکی معرفت مل جائے اور کب انسان “” میں ” سے نکل کے “”تو”” ہوجائے پھر لطف کی وادی میں قدم ہوتا ہے اور پھر آنسو میٹھے لگتے ہیں رونا تکلیف نہیں راحت دیتا ہے اور درد دکھتے نہیں سکون دیتے ہیں
تیرا غم بھی مجھ کو عزیز ہے کہ یہ تیری دی ہوئی چیز ہے
اللہ ہمیں اپنی معرفت و محبت اپنی عطاسے دے دے ورنہ حاصل کرنے میں عشق کے امتحاں بہت ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں