مضمون حکیم شاکر فاروقی 197

مہنگائی کے اسباب اور حل، قرآن و سنت کی روشنی میں/ تحریر:حکیم شاکر فاروقی

دنیا بھر میں واقع ہونے والے اکثر حادثات کے پیچھے دو طرح کے عوامل کار فرما ہوتے ہیں: مادی اور روحانی۔ مادی اسباب سے کسی کو انکار نہیں، البتہ روحانی اسباب کے قائل صرف اہل مذہب ہیں۔ چنانچہ ہر مذہب میں توبہ و استغفار اور دعا و عبادت کا تصور موجود ہے۔ تاکہ اپنے خالق و مالک رب کو خوش رکھ کر اس کی مدد و حمایت حاصل کی جا سکے۔ البتہ اسلام اور دیگر مذاہب میں فرق یہ ہے کہ بقیہ مذاہب خداوند کریم کو راضی رکھ کر محض دنیاوی فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں جب کہ اسلام اخروی فوائد کو مدنظر رکھتا ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ اہل اسلام کے عقیدے کے مطابق رب کریم انسان کو راہ راست پر رکھنے کے لیے تھوڑا سا کوڑا دنیا میں بھی برسا دیتا ہے۔ جیسے تانگے کا کوچوان جانور کی غلطی پر گاہے بہ گاہے چابک برساتا رہتا ہے تاکہ سفر اپنی صحیح سمت میں جاری رہ سکے۔

آج کل پوری دنیا معاشی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ حتی کہ ترقی یافتہ ممالک بھی قرض کی مے پی کر بہک رہے ہیں تو وطن عزیز کے کیا کہنے! جس کا شمار ابھی محض ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی قانون کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل رب کریم کی بارگاہ میں جبین نیاز جھکا دینے میں پوشیدہ ہے۔ ہادی عالم اور رہبر معظم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ میں پانچ مسائل کے اسباب بتا کر ہمیں ان کا حل بھی بتایا ہے۔ بعید نہیں کہ اگر ہم انھیں اسی طرح سمجھیں اور عمل کریں جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کیا تھا تو انھی کی طرح جہلا کی فہرست سے نکل سارے عالم کے رہنما بن جائیں۔ جن کے بارے میں شاعر کہتا ہے:
خود نہ تھے جو راہ پر، اوروں کے ہادی بن گئے
اللہ اللہ کیا نظر تھی، جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ باتیں ہیں، جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو۔ پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں اعلانیہ فحش (زناکاری اور اس سے ملتے جلتے گناہ) ہونے لگیں تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں، جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم و ستم کا شکار ہونے لگتے ہیں۔تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ آسماں سے بارش کو روک دیتا ہے۔ اگر زمیں پر جانور نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ایک بوند بارش بھی نہ برساتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیماں کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، جو ان کے پاس سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے۔” (ابن ماجہ)

دیکھا جائے تو ہمارے معاشی بحران اور مہنگائی کے ان روحانی اسباب میں سے کون سا ایسا سبب ہے جو ہمارے معاشرے میں نہیں پایا جاتا؟ فحاشی کی بات کی جائے تو صورت حال اتنی گھمبیر ہے کہ ہمارا بچہ بچہ ان باتوں سے آگاہ ہو چکا ہے جن کے بارے میں کبھی اشارتا بھی بات کرنا بے حیائی و بے شرمی سمجھا جاتا تھا۔ ”زنا” نہ سہی، دواعی زنا مثلاً بدنظری، فحش گوئی، ذو معنی جملے اور رقص بے حجابانہ ہر کچے پکے گھر تک پہنچ چکا ہے۔ حتی کہ ان آلائشوں سے اب نعوذبااللہ حرمین شریفین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ جس کا سبب یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس، کینسر اور کرونا جیسے موذی امراض کا لوگ بہ کثرت شکار ہونے لگے ہیں۔ جن پر زر کثیر صرف ہو جاتا ہے۔ ناپ تول میں کمی ایک فن اور ہنر سمجھا جانے لگا ہے۔ قرآن مجید میں ”ناپ تول میں کمی” کو ”تطفیف” کہا گیا ہے، جس کی تفسیر ”ذمے لگائے گئے ہر کام میں بے ایمانی” کے ساتھ کی گئی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ کیسے ہر شخص محنت سے جی چرانے اور ڈنڈی مار کر مال کمانے کو فخر و کمال سمجھتا ہے۔ جس کا نتیجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قحط، معاشی تنگی اور ظالم حکمرانوں کی صورت میں بتایا ہے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ارشاد فرمودہ تیسری بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں کہ کیسے آج کل لوگ اپنے رب کا حصہ نکالنے کو مشکل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں زکوۃ ادا کرنے کا حکم بتیس مرتبہ آیا ہے، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ دیکھا جائے تو بے وقت کی بارشیں، سیلاب اور بہ وقت ضرورت بارشوں کا رکنا اسی گناہ کا شاخسانہ لگتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چوتھی چیز جو ارشاد فرمائی یہ ہے کہ جب لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسا دشمن مسلط کر دیتے ہیں جو سب کچھ چھین لیتا ہے۔ کیا ہم موجودہ مہنگائی کے سب سے بڑے مادی سبب آئی ایم ایف کو نہیں دیکھ رہے؟ جو ہماری بے بسی، غربت اور لاچاری کو دیکھنے کے باوجود دن بدن مطالبات کی فہرست میں اضافہ کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مہنگائی میں منٹوں اور گھنٹوں کے حساب سے بڑھوتری ہو رہی ہے۔ ہماری وعدہ خلافیوں کے سبب ایسا دشمن ہم پر مسلط ہے جو ہم سے ہماری نسلوں کا ایمان تک چھین رہا ہے۔ اس سے زیادہ بے بسی اور کیا ہوگی؟ آخری چیز نبی علیہ السلام نے عدل و انصاف کی عدم فراہمی اور اس کا نتیجہ آپس کا اختلاف بتایا ہے۔ ہمارے معاشی بحران اور مہنگائی کا ایک بڑا سبب یہ نااتفاقی و ناچاقی بھی ہے۔ اگر ہم ایکا کر کے طے کر لیں کہ ہر صورت اس بحران سے نکلنا ہے تو لازمی نکل سکتے ہیں جیسے جرمنی، جاپان، سنگاپور اور چائنا نکلے ہیں۔ لیکن ہم تو باہم دست و گریبان ہیں۔ اس کا روحانی سبب ہمارے ہاں انصاف کی بہیمانہ قتل ہے۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ قومیں فقر سے چل سکتی ہیں لیکن ظلم سے نہیں۔ مغربی معاشرہ اگر ترقی یافتہ ہے تو اسی سنہرے اصول کو اپنا کر ہی ہے۔

قرآن مجید میں ان تمام باتوں کا حل سورہ نوح میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا۔” (آیت 10 تا 12)
استغفار کا مطلب فقط استغفراللہ کہنا نہیں بلکہ عملا ان امور بد سے بچنا ہے۔ چنانچہ ہمیں بہ حیثیت قوم ایک دن یوم استغفار مناتے ہوئے اپنے ان گناہوں سے ہڑتال کرنی چاہیے۔ نیز جو کمی کوتاہیاں کی ہیں یا ظلم و بے ایمانی اور وعدہ خلافی و عہد شکنیاں کی ہیں، ان سے حقیقی و عملی توبہ کرنی چاہیے۔ کیا معلوم اللہ خالق کائنات ہمیں معاف فرما دے اور ایسے مادی اسباب پیدا فرما دے جو ہماری دنیاوی زندگی کو آسان بنا دیں اور مہنگائی و گرانی کا جن بوتل میں واپس چلا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں