
نئی نسل کی قومی ذمہ داریاں/فکر فردا/محمد مدثر دلشاد
<آزادی اس دنیا کا سب سے گراں قدر اور انمول تحفہ ہے۔ وہ چاہے فکر کی ہو سوچ کی ہو نظریے کی ہو جغرافیائ حدود کی ہو خواہ کسی چیز کی ہو۔ اگست کا مہینہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا کہ جشن آزادی ، یوم آزادی جیسے نعرے نغمے کانوں میں سنائ دینے لگے سبز اور سفید جگمگ کرتی لائٹیں رات کے وقت آنکھوں کو لبھانے لگیں ہر دکان کے باہر بہت سا سامان نظر آنے لگا جو بچوں کو اپنی طرف کھینچنے لگا اسی اثنا میں دل و دماغ کے دریچے وا ہوے اور "آزادی" کے خوبصورت اور خوشنما لفظ کے پیچھے چھپے ہوے ان گنت وہ درد وہ ظلم و ستم وہ قتل و غارت وہ سفاکیت کے ہزاروں واقعات دماغ سے چمٹنے لگے جو اس "آزادی" کے لیے ہمارے بوڑھے مردوں اور عورتوں نے مسکرا کر سہے تھے۔ جس کی قیمت ہماری بہنوں سے ان کی عصمت و عفت کو چھین کر لی گئ۔ جس کے بدلے میں ہماری مائیں اپنے شیرخوار بچوں سے الگ ہو گئیں ۔ جس کی قیمت لاشوں سے بھری بیل گاڑیوں کی صورت میں وصول کی گئ اور اس جیسی ان گنت رونگھٹے کھڑے کر دینے والی اور ذہنوں کو ماؤف کردینے والی داستانیں ہیں ۔ قربانی دینے والے قربانی دے کر چلے گۓ اسی لیے ہمیں اس آزادی کی قدر و قیمت کا ادراک نہیں ہے ۔ لہذا اس یوم آزادی پر ہمیں آزادی کی قدر و قیمت کا ادراک کرنا چاہیۓ اس کی اہمیت کو سمجھنا اور محسوس کرنا چاہیۓ۔ اور اگر اس آزادی کو برقرار رکھنا ہے اور اس ملک کو عظیم سے عظیم تر بنانا ہے تو ہمیں اور خاص طور پر اس ملک کی نئ نسل کو علم اور تعلیم کے اسلحے سے لیس ہونا ہوگا۔ ہمارے بچے بچے کو مرد عورت کو تعلیم کی اہمیت سمجھنی ہو گی۔ صرف ڈگری کے حصول پر اکتفا نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔ نئ نسل کو اپنی ذمہ داریاں سمجھ کر ان کو احسن انداز میں نبھانا ہو گا تاکہ ہم اپنے ملک کی آزادی کا جشن صحیح معنوں میں منا سکیں۔ ہماری نسل کو جدید تقاضوں کو سمجھنا ہے ٹیکنالوجی کے استعمال کو سمجھنا ہے اس کو اپنے ملک کے لیے مفید بنا کر درپیش چیلنجز سے نمٹنا ھے۔ نوجوانوں کو اپنا کردار بنانا ہو گا. ہمارے اسلام۔نے جو اعلی صفات اعلی اقدار ہمیں معاشرتی طور پر دی ہیں ان سے اپنے آپ کو متصف کرنا ہو گا۔ سچائ ، دیانت داری ، حیاء و شرم ، عدل و انصاف جیسی اعلی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے۔فرمایا کہ اس آدمی کے ایمان کی کوی قدر و قیمت نہیں جس میں امانت داری نہ ہو جس میں دیانتداری نہ ہو جو اپنے عہدے اپنے منصب سے انصاف نہ کرے۔ امانت داری معاشرتی ذمہ داری میں بہت مرتبہ رکھتی ھے۔ معاشرتی فساد کی جڑیں دیکھ لیں چاہے سرکاری محکمے ہوں چاہے پرائیویٹ ان کی جڑوں میں بددیانتی کا عنصر ہو گا اگر ہمارے نوجوان امانت داری دیانتداری کا سبق سیکھ کر عہدوں اور منصبوں پر براجمان ہوں گے تو ملک کی ترقی کے فیصلے ہوں گے ان کی خدمات سے ہر باشندہ مستفید ہو گا ہر کوی سکون و راحت میں ہو گا۔ اخلاقی اقدار سے معاشرے میں امن ہو گا بڑے چھوٹے کے مرتبے کا پتہ ہو گا۔ بڑوں کی بزرگوں کی علماء و صلحاء کی قدر ہو گی اور چھوٹوں پر شفقت ہو گی۔بطور شہری اپنے فرائض ادا کرنے والے بنیں گے۔ ہر شہری پر ملک کے ریاست کے وطن کے حقوق. ہوتے ہیں اور ان حقوق کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے نا کہ جگاڑ لگا کر نکل جانا۔ ہمارے اکثر عہدوں والے اخلاقی اقدار سے عاری اکثر سیاستدان امانت داری و انصاف پسندی سے کوسوں دور اکثر آفیسرز جہالت میں ڈوبے ہوے اور اکثر بیوروکریٹس جھوٹ ، فریب اور مال کی ہوس میں مدہوش ہیں جس کی وجہ سے ملک کا ایک ایک شعبہ آخری سانسیں لے رہا ہے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ اس لیے ہمارے نوجوانوں کو معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے میں انصاف سے کام لینا ہو گا اور ملک پاکستان سے سچی محبت کا اظہار کرنا ہو گا۔ اپنے وطن سے ملک سے محبت کرنا ایک فطری اور. ممدوح چیز ہے۔ سنن ترمذی میں ہے نا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے موقع پر حزورہ ٹیلے پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کرکہ فرمایا تھا! اللہ کی قسم اے مکہ بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین ہےاور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہےاگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی میں کبھی نہ نکلتا۔۔ اللہ أکبر ایک نبی ہو کر خاتم۔النبیین ہو کر ہمارے پیغمبر مکہ کی سرزمین سے اپنے وطن سےمخاطب ہیں اور ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وطن کی محبت وطن کی حفاظت بہت ضروری ہے اور یہ ذمہ داری اب ملک پاکستان کے نوجوانوں کے کاندھوں پر ہے کہ وہ بھی اپنے ملک سے محبت کریں اس کی حفاظت کریں اور اپنے ملک کو اقتصادی طور پر بھی مضبوط کریں۔ اللہ نے ہمارے ملک کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے ہمیں چاہیے ان وسائل کی قدر کریں کریں ان کی قدر یہ ہے کہ ان کو صحیح استعمال کریں۔فضول خرچی سے بچیں وہ چاہے پانی کی ہو چاہے شادی کے موقع پر بیہودہ خرافات میں پیسے کی ہو چاہے گھروں میں استعمال شدہ بجلی اور سولر کی ہو کسی بھی صورت میں ہو ہمیں اس سے بچنا ہو گا اللہ فرماتے ہیں نا کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھای ہیں ۔اور نئ نسل پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ملکی دفاع اور اس کی سلامتی میں اپنا کردار کریں۔ فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر لسانیت اور قومیت سے اوپر اٹھ کر سیاسی جماعتوں کی حمایت سے بلند ہو کر صرف و صرف اس ملک کی خیر خواہی ہمارا وژن ہمارا ہدف اور ہماری چاہت ہو ۔ اس ملک کی سالمیت کو اپی قوم اپنی لسان اپنی پارٹی اور اپنے لیڈر پر ترجیح دیں ذاتی مفادات کے سیلاب میں بہنے کی بجاے ملک کی ترقی اس کی سلامتی اس کی ترقی کا سوچیں۔ افسوس صد افسوس کہ ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج ہم ہر چلتی پھرتی گری پڑی بات اٹھا کہ آگے شیئر کردیتے ہیں نہ تحقیق نہ جانچ پڑتال اور خاص طور پر اپنے ملک پر مزاح استہزاء اور تمسخر یہ کہاں کی عقلمندی ہے نوجوانو! کیا کوی اپنے گھر کے راز چاردیواری سے باہر جانے دیتا ہے ؟ کیا کوی اپنے ہی گھر کو تہہ و بالا کرتا ہے؟ کیا کوی اسی تھالی میں چھید کرتا ہے جس میں خود کھا رہا ہو۔ اس ملک کی اچھائیاں پھیلانی ہیں خامیاں ختم کرنے کی تگ و دو کرنی ہے ۔ اور یہ بات آپ کو اپنے دماغوں میں جمانی ہو گی اور اس بات کو اپنے دلوں میں جگہ دینی ہو گی کہ نئ نسل جو اعلی صفات و اقدار کی متحمل ہو گی وہ ہی اس ملک کا مستقبل ہے اور اس کی ترقی کی ضامن ہے۔ قومی ذمہ داریوں کا احساس ، ریاست کے حقوق کی پاسداری ، اچھا شہری ہی ایک اچھا مضبوط اور خوشحال پاکستان بنا سکتا ہے۔ لہذا تمام قارئین سے میری یہ التجا ہے کہ آزادی کا حقیقی جشن تب ہی ہے جب ہمارا بچہ بچہ اپنے فرائض کو پہچانےاورسمجھے اور دلجمعی سے۔اسے پورا کرے۔ تو میری آپ سے گزارش ہے کہ یہ جشن آزادی ہم مختلف طریقے سے منائیں عزم نو کریں، فلاحی کام کریں قوانین پر چلنے کا عزم کریں ملکی سالمیت پر آنچ نہ آنے دینے کا پختہ عہد کریں فرقہ واریت ، پارٹی واریت لسانیت اور قومیت کو پس پشت ڈال دیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور یوم آزادی والے دن اپنے اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر صلاة حاجت ادا کر کہ اس ملک کی۔بقاء سلامتی ترقی اور عروج کی دعائیں کریں۔ یہی حقیقی جشن ہے یہی حقیقی آزادی ہے ورنہ صرف و صرف الفاظ ہیں کھوکھلے نعرے ہیں۔ شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔ تحریر /محمد مدثر دلشاد