0

پاکستان کو سب سے پہلے اور آخر میں تسلیم کرنے والے ممالک/تحریر/طاہر ایوب جنجوعہ

کالم نگار : طاہر ایوب جنجوعہ
14 اگست 1947
پاکستان کو سب سے پہلے اور آخر میں تسلیم کرنے والے ممالک
طاہر ایوب جنجوعہ

14 اگست 1947 کی ایک پررونق اور پربہار صبح جب اس خطہ ارض پر بسنے والی قوموں میں ایک نئی قوم نے اپنی پہچان کی ابتداء کی۔ “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے نام سے دنیا کے نقشے پر ایک نئے ملک کا قیام عمل میں آیا۔ “تحریک پاکستان” جو ایک عرصے سے متحدہ ہندوستان میں دو قومی نظریہ کا علم اٹھائے مسلمانوں کی ایک الگ پہچان اور علیحدہ مملکت کے حصول کے لیے سرگرم تھی اس نے محمد علی جناح کی قیادت میں جمہوری جدوجہد کی ایک شاندار اور لازوال تاریخ رقم کی اور بالآخر برطانوی راج کی غلامی والے سورج کو غروب ہونے پر مجبور کر دیا۔ برصغیر کی تقسیم اور یہاں مسلم اکثریتی علاقوں کو علیحدہ ریاست کا درجہ ملنا کوئی عام بات نہیں تھی، ایک صدیوں کا کھویا ہوا ورثہ تھا جسے ورثاء تک پہنچانے کے لیے لاکھوں نفوس کو گاجر مولی کی طرح کٹنا پڑا۔
14 اگست 1947 کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور شاہ انگلستان جارج ششم کا پیغام پڑھا، جس میں پاکستان کو آزادی کی مبارک باد دی گئی۔ اسی روز، یعنی 14 اگست 1947 کو، برطانیہ نے پاکستان کو ایک آزاد خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا، چونکہ پاکستان نے برطانوی راج کے تسلط سے ہی آزادی حاصل کی تھی اور یقیناً برطانیہ نے اس کی آزاد اور خودمختار حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہی ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کیا تھا لہذا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ پاکستان کو سب سے پہلے برطانیہ نے تسلیم کیا۔
پاکستان جو ایک اسلامی مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا اس کی بنیادوں کو ” لا الہ الا اللہ ” کے خالص اسلامی میٹیریل سے چُنا گیا۔ یہ دنیا کے جس خطے پر قیام پذیر ہوا اسے جنوبی ایشیا کہا جاتا ہے۔
تاج برطانیہ کی طرف سے پاکستان کی آزادی کو تسلیم کیے جانے کے بعد اس کی نوزائیدہ ریاست کو باقی دنیا میں سب سے پہلے اس کے مغربی ہمسایہ ملک ایران نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس وقت وہاں محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی جنہیں پاکستان کے ہمدرد کے طور پر جانا جاتا تھا۔ پاکستان میں تعینات کیے گئے ایران کے پہلے سفیر مہدی فروبار نے بانیٔ پاکستان کے نام ایک مبارک بادی پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح کے وجود کو آسمان سیاست میں ایک “درخشندہ ستارہ” (Bright Star) قرار دیا اور لکھا: “جیسا کہ پوری دنیا کی عوام کے سامنے ایک آزاد اور خودمختار ریاست پاکستان کا قیام ہوچکا ہے تو اس موقع پر دلی اور پرخلوص مبارک باد پیش کی جاتی ہے” پاکستان جب 30 ستمبر 1947ء کو اقوام متحدہ کا باقاعدہ رکن بنا تو اس میں بھی برادر اسلامی ملک ایران کی بھرپور حمایت اور کوشش شامل تھی۔ مزید برآں ایران کے اس وقت کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی وہ پہلے سربراہ مملکت تھے جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔
اس کے بعد دیگر ممالک کی طرف سے بھی پاکستان کو تسلیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جن میں ترکی، سعودی عرب، امریکہ اور بھارت شامل تھے۔
ترکی کے اس وقت کے صدر عصمت انونو (İsmet İnönü) نے بھی 14 اگست کو ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ترکی کے چیئرمین ڈیفنس کمیٹی فارنائیل اسماعیل صدقی اوغلی نے اپنے تہنیتی پیغام میں لکھا: “اخباروں میں آزاد اور خودمختار مملکتِ پاکستان کے قیام کی اطلاع پڑھ کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی ہے اور ہمارے دل اور آنکھیں مسرت سے لبریز ہیں۔ یہاں ہم ترکوں کو آپ کی آزادی پر بڑا فخر ہے۔ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے ہر قسم کی خوشحالی کے آرزو مند ہیں، ضرورت پڑنے پر مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے میں کبھی بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے”۔
اس سلسلے میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب بھی کسی سے پیچھے نہ تھا، اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے بھی سرکاری طور پر 15 اگست کو خطہ ارض پر جنم لینے والی نوزائیدہ ریاست پاکستان کو اس کے جنم کے دوسرے روز ہی تسلیم کر لیا اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فوراً اعلان کیا, سفیروں کی تعیناتی کے وقت ان الفاظ کے ساتھ انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا : “اس موقع پر جبکہ میرے ملک اور ہمارے عزیز ملک پاکستان کے درمیان سفارتی نمائندگی کا تبادلہ ہو رہا ہے میرے لیے انتہائی انتہائی مسرت کا موقع ہے”-
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا شمار بھی ان چند اولین ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے بوقت قیام پاکستان کو فوراً تسلیم کیا، اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے بانیٴ پاکستان محمد علی جناح کو مبارک باد کا خصوصی پیغام بھیجا۔
بشار خليل الخوری(Bechara El Khoury) ریپبلک آف لبنان کے پہلے صدر نے بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام قیام پاکستان پر اظہار مسرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھ بھیجا؛ ’’میں اور لبنان کی عوام عظیم اور آزاد قوم پاکستان کی خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں۔“
قیام پاکستان کے بعد اسلامی ملک انڈونیشیا نے بھی فوراً پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ انڈونیشیا کے وزیر اعظم کے نمائندے نے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام پیغام تہنیت بھیجا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
تنزانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم اور صدر حبیب بورقیبہ (Habib Bourguiba) بطور صدر Destour Tunisian Party کے بانی پاکستان کو اپنا خصوصی پیغام ارسال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“آج کے یادگار دن کے موقع پر جو تمام لوگوں کے لئے ایک امید لاتا ہے تنزانیہ کی عوام کی طرف سے سلام اور مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ نئی ریاست کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعا گو ہوں۔”
ادھر خلیجی ممالک میں شام، عراق، اردن اور لیبیا نے 16 اگست کو ملک عزیز پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جب کہ یمن نے 18 اگست کو باقاعدہ سرکاری سطح پر اور مصر نے 20 اگست کو پاکستان کے وجود کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔
قیام پاکستان پر فلسطینی مسلمانوں نے بھی نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔ مفتی اعظم فلسطین محمد امین الحسینی نے اپنے پیغام میں لکھا: “پوری عرب دنیا کے مسلمان نہ صرف خوش ہیں  بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ سب سے طاقتور نئی مسلم مملکت پاکستان قائم ہو گئی ہے۔ لہٰذا ہم آپ کو، پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کے عظیم مقصد کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں”
اسی طرح دنیا کے دیگر بڑے ممالک فرانس، جاپان، اٹلی اور آسٹریلیا نے بھی قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان کے وجود کو تسلیم کر لیا۔ جرمنی نے اگرچہ تاخیر کی مگر بہرحال 1949 میں اس نے بھی تسلیم کر لیا۔
اسی طرح پاکستان کو سب سے آخر میں تسلیم کرنے والے ملک کے بارے میں اگرچہ کوئی حتمی رائے نہیں تاہم ہمسایہ ملک افغانستان نے قیام پاکستان کے فوری بعد پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ تاریخی ذرائع کے مطابق 1947 میں افغانستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کی گئی ووٹنگ پر پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس وقت افغانستان ایک منظم اور مضبوط ریاست تھی لہذا ڈیورنڈ لائن تنازعہ کی پاداش میں اس نے پاکستان کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی مگر 1950 میں بین الاقوامی دباؤ اور پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں نے اسے پاکستان کو تسلیم کرنے پر بالآخر مجبور کر دیا اور یوں 1950 کے اوائل میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کا مثبت آغاز ہوا۔
قیام پاکستان صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ایک خاص نعمت اور تحفہ ہے۔ بلاشبہ یہ اسلامیان پاکستان کی طویل جدو جہد اور بے مثال قربانیوں کے عوض حاصل ہوا۔ یہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت پہ عرب و عجم اور افریقہ حتیٰ کہ ساری دُنیائے اسلام کے اعتماد کا مظہر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ابتدائی سالوں میں ہی دنیا بھر سے وہ پذیرائی حاصل ہوئی جو نوزائیدہ ریاستوں کو دہائیوں بعد ملتی ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا سورج ہمیشہ اس پر سایہ فگن رہے ۔آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں