53

وجود زن سے ہے تصویر کائنات کا رنگ/کالم نگار/محمد شہزاد بھٹی

عورت تو ایک لفظ ہے لیکن یہ خالق کائنات کا حسین ترین شاہکار ہے، عورت کے وجود سے اس جہاں رنگ کی سرسبز و شادابی قائم ہے۔ عورت وفا شعاری، ایثار، قربانی، فرمابرداری، تحمل مزاجی، سلیقہ شعاری کا دوسرا روپ ہے۔
عورت تہذیب و تمدن شائستگی و شگفتگی کی حسین پیکر ہے، عورت زندگی کے حسین ترین راز کی دوسری صورت ہے۔ عورت تمام تر صفتوں کا اعلی نمونہ ہے، عورت کے خمیر کو سماج کی تمام تر رعنائیوں سے گوندھا گیا ہے، عورت بنی نوع انسان کا لازمی عنصر ہے۔ عورت کے روپ کو رحمت بھی قرار دیا گیا چونکہ یہ صنف نازک ہے، یہ شگفتہ کلی اور شفاف پانی کے چشمے کی مانند ہے۔ یہ کبھی بھائی جیسے پاکیزہ رشتے کے لئے بہن کی شکل میں خلوص و وفا کے مفہوم بن جاتی ہے۔ پھر راحت و سکون بہم پہنچانے کا خوبصورت راستہ بھی ہے۔ یہ کبھی بیٹی بن کر باپ کےسروں کا تاج بن جاتی، کبھی باپ کے غموں کے ہلقان کے لئے متحمل پہاڑ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کبھی باپ کو سماجی، معاشرتی اور تعلیمی سطح پر اعلی مقام دلانے کا سبب بھی بنتی ہے۔ اگر کبھی یہی بیٹی تین ہو جائے تو پھر خالق کائنات کی خوشنودی اور تقرب تک پہنچانے کا حسین راستہ بن جاتیں ہیں۔ یہی بیٹی کبھی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شکل میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں ٹھنڈک بن گئی۔ کبھی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت کو آسمانوں تک پہنچا دیتی ہیں۔ پھر یہی بیٹی بوڑھے باپ کے لئے شدت دھوپ میں مضبوط اور گھنا سائباں بن کر سامنے آتی ہے۔ پھر یہی عورت جب سب سے مقدس اور معتبر رشتہ ماں کی درجہ پر فائز ہوئی تو اس کی وسیع کائنات اولاد تک ہی محدود ہو جاتی ہے۔ اس عورت کی تمام خواہشوں اور تمناؤں کا محور و مرکز اولاد ہو جاتی ہے۔ اپنے دامن کے سایہ عاطفت میں اس طرح سے ڈھانک لیتی ہے کہ غم کو آنے میں جھجھک محسوس ہوتی ہو گی۔ اس طرح سے دل کے جزبات کو سمیٹتی ہے کہ خود بخود خلوص کا مفہوم ذہن نشیں ہو جاتا ہے۔ یہی عورت جب ماں کے بے لوث رشتے میں سماتی ہے تو رحمت، شفقت، عاطفت، درگزر، تحمل کے تمام دریاؤں اور صحراؤں کو لیکر سماتی ہے۔ پھر کیا بس دل میں انتقام کی بو تک کا وجود نہیں، رحمت کا ایک زندہ جاوید نمونہ یہ ماں کبھی کڑی کی سردی میں اپنی اولاد کی خاطر بھوک سے سوکھا ہوا جسم کو ریشم کا لباس بنا دیتی ہے۔ کبھی دھوپ کی تپش میں خوبصورت سائباں بن کر بے غرض محبت کی پاٹھ پڑھانے لگتی ہے۔ کبھی بغیر چھت کی چھونپڑی میں اولاد کے لئے ایسی چھت بن جاتی ہے کہ بارش کا ایک قطرہ بھی نہ گر سکے۔ اولاد کی بیماری کا احساس ہوا تو بس اپنی بیماری کو صحتیابی میں بدلنے کا فن کوئی ان سے سیکھے، حالانکہ اس معاملے میں اکثر میری ماں جھوٹی ثابت ہوتی ہے۔ ماں وہ بحر بیکراں ہے جس کی موج عاطفت سے ایک عالم کو راحت و سکون میسر ہو رہا ہے۔ میرے گناہوں کو وہ اس طرح سے دھو دیتی ہے، ماں بہت غصے میں ہو تو رو دیتی ہے۔ یہی عورت جب بیوی جیسے عظیم رشتے کے لباس زیب تن کرتی ہے تو اپنے شوہر کے آدھا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پھر اپنے شوہر کے لئے راحت و سکون کا وہ تناور درخت بن جاتی ہے جس کی ہر شاخ سے صبح و شام ٹھنڈی ٹھنڈی ہوئیں اپنے ساتھ خوشیوں اور مسرتوں کے لمحے بھی لےکر آئیں۔کبھی یہی عورت، ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا جیسے سماجی قول کو صحیح ثابت کرتی نظر آئی۔ یہی عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بن کر اپنے عزم و ہمت سے رسول کی رسالت کو سنبھالا پھر ایک نبی کے بے قرار دل کو قرار پہنچانے معاون ثابت ہوئی۔ یہ عورت کبھی آسیہ بھی تھی جو جھوٹی خدائی کے دست و بازو ہو کر بھی قربت خداوند حاصل کر کے ہی دم لیا عورت ہے تو دنیا کے حسین مناظر آنکھوں کو حسین لگیں گے۔ زمین تنگ ہونے کے باوجود وسیع محسوس ہو گی۔ آسمان ہر رنگ میں آنکھوں کو بھائے گا. وجود زن سے ہے تصویر کائنات کا رنگ۔ آج عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے مغربی نظریات پیش کرنے والوں کو یہ کہہ دیا جائے کہ عورتوں کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اسے عورت تسلیم کیا جائے۔ آج مغربی تصور نے عورت کو مساوات کے نام پر عورت کے زمرے سے ہی نکال دیا۔ اسلام نے مرد و زن کی مساوات کی صدائیں اس وقت لگائیں ہیں جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی کسی بھی معاشرے میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ سب سے قبل اسلام نے پیش کیا۔ تم مرد عورت کا لباس ہو اور وہ تمہارا لباس ہے۔ اس طرح مختصر ترین الفاظ اور نہایت ہی بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو سماجی تمدن کی بنیاد قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں