کامیابی کی طرف اٹھتے قدم!/تحریر/محمد عامر(گھوٹکی،سندھ)
کون ہے آج کی دنیا میں جو کامیاب ہونا نہیں چاہتا؟! خواہ بچہ ہو ،جوان ہو یا بوڑھا ہو، ہر ایک اپنی آنکھوں میں خواب سجائے گھومتا ہے۔جس کسی کو چھیڑیں ، وہ اپنے خوابوں کا پلندہ کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گا۔
جی ہاں ،ہر شخص میں کامیابی کی تڑپ اور نہ ختم ہونے والی بھوک ہے۔ وہ عمر کی کسی بھی بہار میں ہو یا زندگی کے کسی بھی مرحلے سے گزر رہا ہو ،وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے۔مگر کامیابی مفت میں نہیں ملتی اور نہ پلیٹ میں رکھ کر کسی کو پیش کی جاتی ہے، اس کے لئے تو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ،طرح طرح کے جتن کیے جاتےہیں، تب کہیں جاکر اس کا سرا ہاتھ آتا ہے۔
کسی مقام کو پانے کے لئےپامالی کی راہ سے گزرنا پڑتا ہے، کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے۔
کیا آپ نے سنا نہیں رتبے ہیں جن کے سوا ،مشکلیں ان کی سوا ہوتی ہیں؟! وہ پر تکلف اسباب زندگی میں رہ کر بھی رنگ رنگ کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں ۔کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے!
ذوالعقل یشقی فی النعیم بعقلہ
واخوالجھالۃ فی الشقاوۃ ینعم
عقلمند نعمتوں میں رہ کر بھی اپنی دانش کی وجہ سے تکالیف سے گزرتا ہے ،جبکہ بے خبر ناواقف تکالیف کی زندگی میں بھی مزے اڑاتا ہے۔
بہر کیف! عقل کی نعمت ہو یا مال کی،صحت ہو یا عزت، شہرت ہو یا اثرورسوخ،عہدہ ہو یا جائیداد،غرض جو نعمت دنیا میں ملتی ہے وہ بے مول نہیں ملتی، اگر اسے پانے کے لئے ظاہری اور مادی قیمت ادا نہ بھی کرنی پڑے تو اسے حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے طرح طرح کی قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ہر چیز اپنے حساب سے قیمت وصول کرتی ہے۔
لہذا کامیابی بھی اپنے چاہنے والوں سےکچھ صفات اور گن چاہتی ہے، جن کے بغیر کامیابی کا حصول دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں۔
ایسی صفات کا تذکرہ کرنے سے پہلے ،جو کامیابی کی راہ میں سنگ میل اور ترقی کی عمارت میں خشت اول کی حیثیت رکھتی ہیں ،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ہمارے لئےکامیابی کا معیار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مبارک ہستیاں ہیں،اسی لئے ان کی زندگی کی روشنی میں کامیابی کے خدوخال تلاش کرتے ہیں :
۱_خود احتسابی: ہر کامیاب شخص خود کو ذمہ دار اور جوابدہ سمجھتا ہے ،وہ ازخود اپنا احتساب کرتا ہے، اپنی نیکیوں میں بدیاں تلاش کرتا ہے،اپنے کمال میں بھی نقص نکالتا اور ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔دیکھیے عمر رضی اللہ عنہ یوں اپنا محاسبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں:
ایک موقع پر جبکہ عمر رضی اللہ عنہ امت کے اجتماعی امور میں مصروف عمل تھے تو اک شخص نے آکر کہا کہا: امیر المومنین فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے میری مدد کیجیے،تو آپ رضی اللہ عنہ نے غصہ میں اسے درہ مارا اور کہا کہ جب میں تمہارے کاموں کے لئے بیٹھتا ہوں تو آتے نہیں اور جب میں اجتماعی کاموں میں مصروف ہوتا ہوں تو سر پر آکھڑے ہوتےہو۔۔۔۔اس شخص کے جانے کے بعد، آپ رضی اللہ عنہ کو جب غلطی کا حساس ہوا تو اسے بلا کر بدلہ لینے کا کہا، مگر اس نے اللہ کے لئے معاف کردیا۔۔۔اس کا قصہ تو یہاں پورا ہوا، مگر آگے کا آنکھوں دیکھا حال احنف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے سنیے، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ چند لوگوں کے ساتھ گھرتشریف لے گئے ،دورکرکعت نماز پڑھی اور خود سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے:
اے خطاب کے بیٹے!تو تو کم تر تھا، تجھے اللہ تعالی نے بلند تر کیا،تو تو ناواقف راہ گم کردہ تھا، تجھے اللہ تعالی نے ہدایت بخشی،توتو بے حیثیت تھا، تجھے اللہ تعالی نےعزت عطا کی،پھر تجھے مسلمانوں کی گردنوں پر نگہبان بنا کر بٹھادیا، اب جب ایک شخص فریاد لے کر آیا تو تونے اسے مارا ،تو کل اپنے رب کے دربار میں پیش ہوگا تو کیا جواب دے گا؟! اس طرح وہ خود کو مسلسل ملامت کرتے رہے ،یہاں تک کہ مجھے(احنف کو) یقین ہوگیا کہ وہ روئے زمیں پر سب سے بہترین ہستی ہیں۔
۲_ اخلاقی جرأت:مذکورہ بالا واقعہ جہاں خود احتسابی کی روشن مثال ہے، وہاں اخلاقی جرأت کی بھی بہترین مثال ہے کہ غلطی کا حساس ہونے پر فوری تلافی کی کوشش کی،تاکہ دنیا کا معاملہ دنیا میں ہی صاف ہوجائے اورآخرت کے مؤاخذے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
۳_ ٹال مٹول سے اجتناب:نیز احساس ہونے پر ٹال مٹول سے کام نہیں لیا ،تاکہ نفس اس معاملے کی تاویلیں کرکے اپنے لئے راستہ نہ نکالنے لگے، بلکہ خود کو بدلے کے لئے پیش کردیا۔
۴_ قانون اور اصول کی پاسداری:یہ بھی بتادیا کہ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا ہوجائے ،وہ اصول سے بالاتر نہیں ، بلکہ اصولوں کا پابند ہے ،اس کا بھی حدود وقیود کی رعایت کے ساتھ مؤاخذہ ہوسکتا ہے۔
۵_ ماضی پر گہری نظر :اسی طرح قائد اور رہنما اپنے حال کی چکاچوند میں کھوکر، اپنے ماضی کو کبھی فراموش نہیں کرتا ،بلکہ اپنے ماضی سے جڑا رہتا ہے، جو اسے آئندہ کی زندگی میں رفتار وکردارا درست رکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔
۶_ عمدہ اخلاق عقیدہ آخرت کی دین :اچھا قائد اچھے اخلاق سے تشکیل پاتا ہے اور اچھے اخلاق آخرت میں جوابدہی کے احساس سے وجود میں آتے ہیں۔ ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا مفہوم ہے:سائنس اور فلسفہ، آخرت کے تصور کے بغیر، اچھے اخلاق پیدا کرنے سے عاجز ہے۔
۷_تقسیمِ اوقاتِ کار:بڑے لوگ اوقاتِ کار کے پابند ہوتے ہیں ، اپنی طبیعت اور مزاج کے غلام نہیں ہوتے کہ دل میں آیا تو خوب نشاط سے کام کرلیا ،نہ جی میں آیا تو لمبی تان کر سوگئے۔
لہذازیادہ کام کے بوجھ کو سنبھالنے کے لئے ہروقت کے لئے ایک کام طے کرتے ہیں اور ہر کام کے لئے ایک وقت۔ مزید یہ کہ اجتماعی اور انفرادی مسائل کے لئے مختلف اوقات تقسیم کرنے سے بھی بہت سہولت رہتی ہے۔
۸_ اوقات عمل اور اوقات فرصت کی اطلاع: اس سے طالب ومطلوب دونوں راحت میں رہتے ہیں اور بہت سے کام بغیر کسی دقت کے ہوجاتے ہیں۔
سرسی طور پریہ چند خوبیاں جو ہمیں عمر رضی اللہ عنہ کے اس مختصر سے قصے معلوم ہوئیں ۔ہوسکتا ہے کسی غور کرنے والے کو اس سے بھی زیادہ معلوم ہوجائیں۔
غرض یہ کہ اگر ہم ان جملہ صفات کو اپنی زندگی میں اپنالیں، تو نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی اچھی ہوجائے، بلکہ آخرت بھی سنورجائے۔چلیے پھر کامیابی کی طرف قدم اٹھائیے،دیر کس بات کی!